امریندر سنگھ چکوال کے دورے پر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ کپتان امنندر سنگھ نے بدھ کے روز چکوال کے قریب کٹاس کے مندروں کا دورہ کیا اور بھگوان شیو کے مندر میں چڑھاوا دیا۔ انہوں نے کٹاس راج کے مندروں کے کھنڈرات کی دیکھ بھال کے لیے گیارہ لاکھ روپے کے عطیے کا بھی اعلان کیا۔ کپتان امنندر سنگھ پاکستانی پنجاب کے وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الہی کی دعوت پرپاکستان آئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے چودھری پرویز الہی کے ساتھ ننکانہ صاحب میں اس سڑک کی تعمیر کا بھی افتتاح کیا جو گوردوارہ جنم استھان کو امرتسر سے ملائے گی۔ سینتالیس کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی ایک سو پندرہ کلومیٹر لمبی سڑک دو مرحلوں میں مکمل ہوگی۔ کٹاس کے مندر چکوال سے اٹھارہ کلومیٹر جنوب میں واقع ہیں۔ ان مندروں کے کھنڈرات ایک خوبصورت قدرتی جھیل کے گرد پھیلے ہوئے ہیں۔ کٹاس کے کھنڈرات کی تاریخ کے بارے میں روایات کے مطابق بھگوان شیو اپنی بیوی کے انتقال پر اتنے افسردہ ہوئے کہ ان کی آنسؤوں کی لڑی جاری ہو گئی۔ان کے آنسؤوں سے دو متبرک تالاب وجود میں آئے۔ ایک اجمیر میں پشکر ہے اور دوسرا کٹک شیل جس کا مطلب آنسؤوں کی لڑی ہے۔ لفظ کٹک شیل بعد میں کٹاس بن گیا۔ کٹاس کو پنجاب میں جوالا مکھی کے بعد سب سے مقدس مقام بتایا جاتا ہے۔ کٹاس راج کا ذکر مہا بھارت میں بھی ملتا ہے۔ کٹاس میں ہر سال بھارت سے ہندو یاتری عبادت کے لیے آتے ہیں۔ مقامی پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ یاتری اس وقت بھی آتے رہے جب پاکستان اور بھارت کے تعلقات اتنے اچھے نہیں تھے۔ کٹاس کے تالاب کی گہرائی دو سو فٹ سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ کٹاس کی نواحی آبادی کو وہاں کے تالاب سے نکلنے والے چشمے سے پانی حاصل ہوتا ہے۔ مقامی افراد کے مطابق تالاب سے بہنے والے پانی کے بہاؤ میں کبھی کمی واقع نہیں ہوئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||