BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 27 August, 2006, 22:35 GMT 03:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بگٹی کو نشانہ نہیں بنایا: حکومت

اکبر بگٹی بلوچستان کے گورنر کی حیثیت سے
پاکستان کے وزیراطلاعات محمد علی درانی نے کہا ہے کہ حکومت نے نواب اکبر بگٹی کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ متعلقہ غار میں فراریوں کی موجودگی پر کارروائی کی تو بعد میں پتہ چلا کہ اکبر بگٹی بھی وہاں تھے۔

یہ بات انہوں نے اتوار کی رات مختصر نوٹس پر بلائی گئی نیوز بریفنگ میں کہی اور بتایا کہ اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد بلوچستان کی صورتحال کے متعلق صدر جنرل پرویز مشرف کی صدارت میں مری میں ایک اجلاس بھی ہوا جس میں چودھری شجاعت حسین سمیت حکمران مسلم لیگ کے سرکردہ رہنماؤں اور وزیر داخلہ سمیت سیکورٹی حکام بھی اس میں شریک ہوئے۔

اس میں ان کے مطابق طے کیا گیا ہے کہ بلوچستان میں ہر قیمت پر عوام کی جان اور مال کی حفاظت کی جائے گی اور کسی کو قانون کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دیں گے۔ ان کے مطابق اس واقعہ سے قومی یکجہتی کو نقصان نہیں بلکہ تقویت پہنچے گی۔

جب ان سے پوچھا کہ صدر صاحب کہتے رہے کہ بلوچستان میں مسئلہ تین سرداروں نے پیدا کیا ہے ان میں سے ایک تو مارا گیا دوسروں کا کیا ہوگا تو وزیر نے کہا کہ بات سرداروں کی نہیں بلکہ امن امان کی ہے اور جو بھی اس میں خلل ڈالے گا حکومت ان کے خلاف کارروائی کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شرپسندوں سے بات نہیں کرے گی لیکن دیگر سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کے لیے تیار ہے۔ تاہم انہوں نے حزب مخالف کی جماعتوں کو مشورہ دیا کہ وہ ہر معاملے کو اپنے سیاسی مفاد میں نہیں بلکہ قومی مفاد میں دیکھے۔

ایک سوال پر وزیر نے کہا کہ بگٹی کے پوتوں یا نواسوں کی اس غار میں موجودگی کی ابھی تصدیق نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی وہ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ نواب بالاچ خان مری بھی مارے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ غار کا ملبہ ہٹا کر لاشین نکالنے کا کام جاری ہے اور فی الوقت کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کب تک لاشین نکلیں گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ جب بھی لاشیں ملیں گی تو ورثاء کے حوالے کی جائیں گی اور ان کے لواحقین کے سامنے تدفین ہوگی۔

ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ ملبے سے سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کی کچھ لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ لیکن اب بھی کچھ سیکورٹی اہلکاروں کی لاشیں ملبے میں دبی ہیں۔ انہوں نے چوبیس سے چھبیس اگست تک کارروائی میں سات اہلکاروں کی ہلاکت اور تین کے زخمی ہونے کی تصدیق کی لیکن ان کی شناخت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

متحدہ مجلس عمل کی جانب سے بلوچستان حکومت سے علیحدہ ہونے کی دھمکی کے متعلق سوال پر وزیر نے کہا کہ وہ اگر ایسا کریں گے تو اپنے ووٹرز کو جوابدہ ہوں گے۔

نیوز کانفرنس سے ایسا لگ رہا تھا کہ ان کا سارا زور اس بات پر ہو کہ حکومت نے جان بوجھ کر اکبر بگٹی کو قتل نہیں کیا اور ان ہلاکت اتفاقیہ ہے۔ واضح رہے کہ چھبیس اگست کی رات کو جب حکومت نے اکبر بگٹی کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی تو اس وقت وہ اُسے ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے تھے۔

ایک یادگار انٹرویو
’وہ میرے بارے میں کہتے ہیں میں جھکتا نہیں‘
لیجنڈری موت
اکبر بگٹی: بھٹو کے بعد لیجنڈری موت
بگٹی کی ہلاکت
پاکستان کے لیے آفاتِ ناگہانی کا اشارہ ؟
عطاللہ مینگلہم تھک گئے: مینگل
’مشرف کے ہوتے ہوئے مفاہمت کا امکان نہیں‘
nawaz sharif’ تاریخ کا سیاہ باب‘
نواز شریف کا کہنا ہے بگٹی کا قتل سیاہ باب ہے
بگٹیآواز خلق
بگٹی کی ہلاکت پر لوگوں کا ملاجلا ردعمل
بگٹی کے بعد
کوئٹہ میں مظاہرین کی توڑ پھوڑ، ہنگامے
اسی بارے میں
یکم ستمبر کو ملک گیر ہڑتال
27 August, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد