BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیل جنگی جرائم کررہاہے:عمران

عمران خان
او آئی سی میں وہ لوگ ہیں جو پہلے امریکہ سے کلیرنس لیتے ہیں بعد میں بیان جاری کرتے ہیں
پاکستان کے سابق کرکٹر اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ اسرائیل بین الاقوامی معاہدوں اور انسانی حقوق کی پامالی سمیت جنگی جرائم کر رہا ہے۔



کراچی میں بدھ کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے آو آئی سی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ او آئی سی کے اجلاس کی کوئی اہمیت نہیں ہے کیونکہ وہاں پتلے بیٹھے ہوئے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو پہلے امریکہ سے کلیرنس لیتے ہیں بعد میں بیان جاری کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی جڑیں عوام میں نہیں ہیں اور وہ منتخب لوگ نہیں ہوتے صرف اپنی کرسی مضبوط کرنے کے لیئے یہ امریکہ کے غلامی کرتے ہیں۔

عمران کا کہنا تھا کہ اوآئی سی سے اسرائیل اور مریکہ کو کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ انہیں پتا ہے نہ یہ اسٹینڈ لے گی اور نہ ہی ان کا بائیکاٹ کرے گی۔

پاکستان کے سابق کرکٹ کپتان کے مطابق مسلمانوں کی سب سے بڑی بے بسی یہ ہے کہ ان میں جمہوریت نہیں، امریکہ جمہوریت کی بات کرتا ہے مگر اس نے ہمیشہ آمروں کی حمایت کی ہے کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ انہیں قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔

انہوں نے اے آرڈی کی جانب سے وزیراعظم شوکت عزیز کے خلاف مجوزہ تحریک عدم اعتماد کی حمایت کی اور کہا کہ یہ پہلا قدم ہونا چاہیئے۔ یہ نہ ہو کہ اس کے بعد اپوزیشن چپ ہوکر بیٹھے جائے، اس کے بعد دوسرے اور تیسرے قدم کا اعلان ہونا چاہیئے تیسرے قدم میں تمام اپوزیشن جماعتوں کو سڑک پر نکلنا چاہیئے۔

اوآئی سی، اسرائیل اور مریکہ
 اوآئی سی سے اسرائیل اور مریکہ کو کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ انہیں پتا ہے نہ یہ اسٹینڈ لے گی اور نہ ہی ان کا بائیکاٹ کرے گی

انہوں نے پی پی پی اور جے یو آئی کا نام لیئے بغیر کہا کہ یہ واضح ہے کہ مسلم لیگ ن، جماعت اسلامی، محمود خان اچکزئی اور تحریک انصاف فوجی حکمرانوں سے سمجھوتہ نہیں کرینگے باقی جماعتوں کو بھی یہ واضح کردینا چاہیئے کہ کوئی بات چیت نہیں ہوسکتی۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم اور حکومت میں مفادات کی جنگ ہے اس میں کوئی نظریاتی اختلاف نہیں ہے نہ ہی ان کے کوئی مشترکہ مقاصد ہیں۔ یہ ایک مصنوعی سیٹ اپ ہے اس میں سارے یہ سوچ رہے ہیں کہ ان کے لیئے کیا ہے۔

انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ تحریک انصاف کے کارکنان کو دھمکیاں مل رہی ہیں اگر ہمارے ایک رکن کو بھی کچھ ہوا تو ہم آرام سے نہیں بیٹھنگے، ہم حکومت کو ذمے دار ٹھہرائیں گے کیونکہ ہمارا کوئی دشمن نہیں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ حدود آرڈینس فوجی آمر کا بنایا ہوا قانون ہے اسے اسمبلی میں بحث کے لیئے پیش کرنا چاہیئے۔

کب کیا ہوا؟
لبنان اسرائیل جنگ میں کب کیا ہوا؟
تباہی کی تصویر
دمشق سے بیروت تک وسعت اللہ نے کیا دیکھا؟
شام اور لبنان کا قضیہ
لبنان میں شامی فوج کا پس منظر، آصف جیلانی
مشرق وسطی بحران
لبنان حملوں پر پاکستان میں ردعمل کا فقدان
لبنان اسرائیل بحران
پاکستانی اخبار عوامی سوچ کے عکاس
اسی بارے میں
حسن نصر اللہ کون ہیں؟
02 August, 2006 | آس پاس
بنت جبیل پر کیا بیتی
01 August, 2006 | آس پاس
اسرائیلی فوج بعلبک میں
01 August, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد