اسرائیل جنگی جرائم کررہاہے:عمران | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سابق کرکٹر اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ اسرائیل بین الاقوامی معاہدوں اور انسانی حقوق کی پامالی سمیت جنگی جرائم کر رہا ہے۔ کراچی میں بدھ کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے آو آئی سی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی کے اجلاس کی کوئی اہمیت نہیں ہے کیونکہ وہاں پتلے بیٹھے ہوئے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو پہلے امریکہ سے کلیرنس لیتے ہیں بعد میں بیان جاری کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی جڑیں عوام میں نہیں ہیں اور وہ منتخب لوگ نہیں ہوتے صرف اپنی کرسی مضبوط کرنے کے لیئے یہ امریکہ کے غلامی کرتے ہیں۔ عمران کا کہنا تھا کہ اوآئی سی سے اسرائیل اور مریکہ کو کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ انہیں پتا ہے نہ یہ اسٹینڈ لے گی اور نہ ہی ان کا بائیکاٹ کرے گی۔ پاکستان کے سابق کرکٹ کپتان کے مطابق مسلمانوں کی سب سے بڑی بے بسی یہ ہے کہ ان میں جمہوریت نہیں، امریکہ جمہوریت کی بات کرتا ہے مگر اس نے ہمیشہ آمروں کی حمایت کی ہے کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ انہیں قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اے آرڈی کی جانب سے وزیراعظم شوکت عزیز کے خلاف مجوزہ تحریک عدم اعتماد کی حمایت کی اور کہا کہ یہ پہلا قدم ہونا چاہیئے۔ یہ نہ ہو کہ اس کے بعد اپوزیشن چپ ہوکر بیٹھے جائے، اس کے بعد دوسرے اور تیسرے قدم کا اعلان ہونا چاہیئے تیسرے قدم میں تمام اپوزیشن جماعتوں کو سڑک پر نکلنا چاہیئے۔
انہوں نے پی پی پی اور جے یو آئی کا نام لیئے بغیر کہا کہ یہ واضح ہے کہ مسلم لیگ ن، جماعت اسلامی، محمود خان اچکزئی اور تحریک انصاف فوجی حکمرانوں سے سمجھوتہ نہیں کرینگے باقی جماعتوں کو بھی یہ واضح کردینا چاہیئے کہ کوئی بات چیت نہیں ہوسکتی۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم اور حکومت میں مفادات کی جنگ ہے اس میں کوئی نظریاتی اختلاف نہیں ہے نہ ہی ان کے کوئی مشترکہ مقاصد ہیں۔ یہ ایک مصنوعی سیٹ اپ ہے اس میں سارے یہ سوچ رہے ہیں کہ ان کے لیئے کیا ہے۔ انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ تحریک انصاف کے کارکنان کو دھمکیاں مل رہی ہیں اگر ہمارے ایک رکن کو بھی کچھ ہوا تو ہم آرام سے نہیں بیٹھنگے، ہم حکومت کو ذمے دار ٹھہرائیں گے کیونکہ ہمارا کوئی دشمن نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ حدود آرڈینس فوجی آمر کا بنایا ہوا قانون ہے اسے اسمبلی میں بحث کے لیئے پیش کرنا چاہیئے۔ |
اسی بارے میں سکیورٹی زون کے لیئے لڑائی تیز تر02 August, 2006 | آس پاس ’لبنان حل کیلیے اختلافات بھلا دیں‘02 August, 2006 | آس پاس حزب اللہ کارکن پکڑنے کا دعویٰ02 August, 2006 | آس پاس حزب اللہ :اسرائیلی دعوے کی تردید02 August, 2006 | آس پاس حسن نصر اللہ کون ہیں؟02 August, 2006 | آس پاس اسرائیلی پیش قدمی، شدید مزاحمت01 August, 2006 | آس پاس بنت جبیل پر کیا بیتی01 August, 2006 | آس پاس اسرائیلی فوج بعلبک میں01 August, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||