BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لبنان: پاکستانی اخبار عوامی سوچ کے عکاس

پاکستانی اخبارات
اخبارات میں اس موضوع پر خبروں کے علاوہ اداریے بھی شائع ہو رہے ہیں۔
لبنان پر اسرائیلی حملوں کے بعد مشرقِ وسطی میں پیدا ہونے والی کشیدگی پر پاکستان میں عوامی حلقوں میں جو اضطرابی کیفیت پائی جاتی ہے اس کی عکاسی ملک میں شائع ہونے والے تمام اخبارات کی شہ سرخیوں اور ان کے اداریوں سے عیاں ہے۔

تاہم اب تک ملک میں پائے جانے والے اس عوامی اضطراب کا کوئی اظہار کسی بڑے احتجاجی جلسے یا ریلی کی صورت میں سامنے نہیں آیا۔ گزشتہ جمعہ کو ملک کی مذہبی سیاسی جماعتوں کے اتحاد نے بعد از نماز جمعہ ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج کیا تھا لیکن عوامی شرکت کے حوالے سے یہ زیادہ کامیاب نہیں رہا۔

ملکی اخبارات گزشتہ ایک ہفتے سے مسلسل لبنان پر اسرائیلی حملوں کی خبروں اور تصاویر کو بڑے نمایاں انداز میں جگہ دے رہے ہیں اور ہر اخبار میں اسرائیلی جارحیت کی خبروں کے علاوہ اداریے بھی شائع کیئے جا رہے ہیں۔

 اسرائیلی کارروائیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ عراق اور افغانستان میں ناکامی کا غصہ معصوم فلسطینوں پر نکال رہے ہیں۔ امریکہ دہشت گردی کا ڈھونگ رچاتا ہے اسے معلوم نہیں کہ اس کی جڑیں اس تشدد اور نا انصافی پر مبنی ہیں جس کی وجہ سے اسرائیل امریکی چھتری تلے معصوم فلسطینی عوام کو اندھی گولیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے۔
نوائے وقت

منگل کو تمام چھوٹے بڑے اخباروں میں لبنان میں اسرائیلی حملوں سے ہونے والی ہلاکتوں کی خبر کو شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کیا گیا۔ پاکستان کے ایک مقتدر انگریزی روزنامے ’دی نیشن‘ نے ’اسرائیلی ہٹ دھرمی‘ کے عنوان سے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ’اتوار کی رات تک اسرائیلی جارحیت میں ایک سو اڑتالیس معصوم شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ اخبار لکھتا ہے کہ ان شہریوں کی ہلاکت اسرائیل کی طرف سے انسانیت کے خلاف ایک اور برہنہ جرم ہے اور اگر اسرائیل کو امریکہ کی پشت پناہی حاصل نہ ہو تو اسرائیل اس طرح کے انسانیت سوز مظالم ڈھانے کی ہمت نہیں کر سکتا‘۔

اخبار میں امریکی انتظامیہ پر تنقید کے علاوہ عرب دنیا پر بھی اعتراضات اٹھائے ہیں۔ اخبار لکھتا ہے کہ’اسرائیل کی ہٹ دھرمی کی ایک وجہ عرب دنیا میں پائے جانے والے اختلافات بھی ہیں‘۔ اس سلسلے میں اخبار نے ہفتے کو ہونے والے عرب لیگ کے اجلاس کا حوالہ بھی دیا جو بلا نتیجہ رہا۔

اس اجلاس میں مصر اور اردن ایک طرف تھے اور شام اور یمن دوسری طرف۔ اخبار لکھتا ہے کہ’یہ انتہائی شرمناک بات ہے اور عرب اور مسلم دنیا میں اتفاق کے بغیر واشنگٹن کو یہ باور نہیں کرایا جا سکتا کہ فلسطینیوں کا قتل عام، لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور شام اور ایران پر حملے کی دھمکیاں عرب دنیا کو امریکہ سے دور لیئے جا رہی ہیں‘۔

 لبنان پر اسرائیلی جارحیت نے مشرق وسطی کو ایک بڑی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیاہے
دی نیوز

پیر کو روزنامہ جنگ نے اپنے اداریہ ’ کیا اسرائیل پر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا؟‘ کے عنوان سے شائع کیا۔ اس اداریے میں کہا گیا ہے کہ’جنوبی لبنان پر اسرائیل کے بری، بحری اور فضائی حملوں کے بعد یہ بات ایک بار پھر کھل کر سامنے آگئی ہے کہ صیہونی ریاست کی نظروں میں اخلاقی و انسانی اقدار کی کوئی وقعت ہے نہ وہ بین الاقوامی قوانین ، اصولوں اور ضابطوں کی پروا کرتی ہے‘۔

اداریے میں آگے چل کر اخبار نے لکھا کہ فلسطینی وزارت صحت کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیل غزہ پر حملوں میں کیمیائی ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ اس صورتحال کا ایک افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ مغربی ممالک کی طرف سے اسرائیل کی غیر اخلاقی اور انسانیت سوز کارروائیوں کی مذمت کی بجائے اس کی حمایت میں مختلف تاویلیں پیش کی جا رہی ہیں اور فلسطینیوں، حماس اور لبنانی حکومت کو موردالزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔

 جنوبی لبنان پر اسرائیل کے بری، بحری اور فضائی حملوں کے بعد یہ بات ایک بار پھر کھل کر سامنے آگئی ہے کہ صیہونی ریاست کی نظروں میں اخلاقی و انسانی اقدار کی کوئی وقعت ہے نہ وہ بین الاقوامی قوانین ، اصولوں اور ضابطوں کی پروا کرتی ہے۔
روزنامہ جنگ

نوائے وقت ’اسرائیل کی ظالمانہ کارروائی‘ کے عنوان سے تحریر کرتا ہے کہ ’اسرائیلی کارروائیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ عراق اور افغانستان میں ناکامی کا غصہ معصوم فلسطینوں پر نکال رہے ہیں۔ امریکہ دہشت گردی کا ڈھونگ رچاتا ہے اسے معلوم نہیں کہ اس کی جڑیں اس تشدد اور نا انصافی پر مبنی ہیں جس کی وجہ سے اسرائیل امریکی چھتری تلے معصوم فلسطینی عوام کو اندھی گولیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے‘۔

انگریزی روزنامہ دی نیوز ادارتی صفحات پر ’مشرقِ وسطٰی کو جنگ کا خطرہ‘ کے عنوان سے مضمون میں لکھتا ہے کہ’لبنان پر اسرائیلی جارحیت نے مشرق وسطی کو ایک بڑی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیاہے‘۔ اس مضمون میں جو اخبار نے ایک ویب سائٹ کے تعاون سے شائع کیا ہے اس خطرے کا اظہار بھی کیا گیا ہے کہ امریکہ لبنان میں موجود پچیس ہزار کے قریب امریکی شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کا بہانے بنا کر لبنان میں بائیس ہزار کے قریب اپنے میرین اتار دے۔

 ان شہریوں کی ہلاکت اسرائیل کی طرف سے انسانیت کے خلاف ایک اور برہنہ جرم ہے اور اگر اسرائیل کو امریکہ کی پشت پناہی حاصل نہ ہو تو اسرائیل اس طرح کے انسانیت سوز مظالم ڈھانے کی ہمت نہیں کر سکتا۔
دی نیشن

مضمون میں اس ضمن میں مقتدر امریکی اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ اس مضمون میں امریکہ اخبار وال سٹریٹ جنرل میں شائع ہونے والے ایک اداریے کا ذکر بھی کیا ہے جس میں اخبار نے بش انتظامیہ کو شام اور ایران پر حملہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

میڈیا کے علاوہ عام شہری براہ راست ٹیلی فون پر بھی اس تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ بی بی سی کے اسلام آباد کے دفتر میں ڈھرکی سندھ سے عبدالحکیم نے فون کر کے کہا کہ ’لبنان پر حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل آہستہ آہستہ تمام اسلامی ممالک پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ ان کے قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھا سکیں‘۔

اقلیتوں کے سابق وفاقی وزیر جے سالک نے بھی اس سلسلے میں ایک مظاہرے کا اہتمام کیا تھا۔ انہوں اس مظاہرے کے علاوہ اسلام آباد میں واقع اپنے گھر پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف بڑے بڑے بینر لگا رکھے ہیں۔

اسرائیلی حملے فورم: اسرائیلی حملے
کیا آپ عالمی برادری کے ردِ عمل سے مطمئن ہیں؟
 لبنانمشرق وسطیٰ کا بحران
مشرق وسطیٰ کے مسئلے کا کوئی آسان حل نہیں
حزب اللہاسرائیل کا درد سر
حزب اللہ اور اسرائیل کا ایک تقابلی جائزہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد