BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 27 December, 2008, 10:48 GMT 15:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تھر ایکسپریس کے مسافر متاثر

پاک شہری
بھارتی جیل میں قید پاک شہریوں کو گذشتہ سنیچر کو جودھپور کی جیل سے رہا کیا گیا تھا
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں آنے والی تلخی کا اثر دونوں ممالک کو جوڑنے والی تھر ایکسپریس کے مسافروں پر بھی نظر آنے لگا ہے۔

تھر ایکسپریس جمعہ کو جودھپور سے روانہ ہوئی تو اس میں مسافروں کی تعداد صرف تین سو ہی رہ گئی۔ اس ٹرین سے ماضی میں ایک وقت ميں لگ بھگ پانچ سو افراد سفر کیا کرتے رہے ہیں۔

جنگ کے حالات کے مدنظر لوگوں کو اندیشہ ہے کہ اس ٹرین کو روک دیا جائے گا۔ اسی وجہ سے جعہ کو روانہ ہوئی تو ٹرین میں ہندوستانی مسافروں کی تعداد ماضی کے برعکس کافی کم تھی۔

اس لیے یہ بھی دیکھا گیا کہ ہندوستان کی جانب سے اپنے شہریوں کو پاکستان نہ جانے کا مشورہ دینے کے باوجود جمعہ کو تھر ایکسپریس میں تراسی ہندوستانی شہری سوار تھے۔

مسافر کا موقف
 ہندوستان اور پاکستان کو ایک ساتھ مل کر دہشتگردی سے مقابلہ کرنا چاہیے نہیں تو دونوں ممالک کے لیے برا ہوگا ، جیل میں ہم سے اچھا برتاؤ کیا گیا اور لوگوں نے ہماری مدد بھی کی
نجمہ ، جیل سے رہا ہوئی پاک شہری
جودھ پور ریل کے مینیجر ایس کے سود نے تسلیم کیا ہے کہ ہندوستانی اور پاکستانی مسافروں کی تعداد کم تھی لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مسافروں کی تعداد کم زیادہ ہوتی رہتی ہے۔

اس درمیان جودھ پور کی جیل سے رہا ہوئے 51 پاکستانی شہری اپنے وطن نہيں جا سکے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے اجازت نہ ملنے کی وجہ سے ہندوستانی اہلکاروں نے انہوں نے تھر ایکسپریس میں سوار ہونے نہيں دیا ہے۔

ان پاکستانی شہریوں میں 25 خواتین اور چار بچے بھی شامل ہیں۔ یہ سبھی جودھ پور جیل میں چھ مہینے کی سزا کاٹنے کے بعد گزشتہ سنیچر کو رہا ہوئے تھے۔

پولیس نے انہیں ویزے کے دستاویزات میں چھیڑ چھاڑ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ لیکن گزشتہ ہفتے ریاست راجھستان میں کانگریس کی نئی حکومت نے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ لیکن اب مرکزی حکومت سے اجازت نہ ملنے کی وجہ سے وہ تھر ایکسپریس پر سوار نہ ہوسکے۔

ریاست کے داخلہ سکریٹری ایس این تھانوی نے بی بی سی کو بتایا: ’ان کے خلاف جرم طے نہیں ہوا ہے۔ یہ رہائی کے بعد جودھپور کے ایک ہوٹل کی نگرانی میں رہ رہے ہیں۔‘

ان لوگوں کی رہائی کے لیے سیمانت لوک تنظیم کے ہندو سنگھ سودھا نامی شخص کوششیں کر رہے تھے۔ ان لوگوں کو جانے سے روکے جانے پر وہ بہت مایوس ہوئے، ان کا کہنا تھا: ’دونوں ممالک کو بےقصور لوگوں کو نشانہ نہيں بنانا چاہیے۔‘

شیواجی ٹرمینسہوٹل ’ری فریش‘
لوگ ٹرین آنے سے چند منٹ پہلے ہی آتے ہیں
 ممبئی’اب بہت ہو گیا‘
ممبئی میں حملوں کے خلاف احتجاج
شیتلخواتین وارڈ میں
ممبئی حملوں کا نشانہ بنی ننھی شیتل
کون بزنس کرے گا؟
سیاحت اور تجارت سے جڑے لوگ فکرمند
تاج ہوٹل(فائل فوٹو)وڈیو اور تصاویر
ممبئی میں حملے کی تصاویر اور وڈیو جھلکیاں
تاج کے کبوتر۔۔۔
تاج ہوٹل پر کارروائی میں کبوتروں پر کیا بیتی؟
جمال ’عراق سے زیادہ ڈر‘
غیر ملکی سیاحوں میں خوف و ہراس
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد