تھر ایکسپریس کے مسافر متاثر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں آنے والی تلخی کا اثر دونوں ممالک کو جوڑنے والی تھر ایکسپریس کے مسافروں پر بھی نظر آنے لگا ہے۔ تھر ایکسپریس جمعہ کو جودھپور سے روانہ ہوئی تو اس میں مسافروں کی تعداد صرف تین سو ہی رہ گئی۔ اس ٹرین سے ماضی میں ایک وقت ميں لگ بھگ پانچ سو افراد سفر کیا کرتے رہے ہیں۔ جنگ کے حالات کے مدنظر لوگوں کو اندیشہ ہے کہ اس ٹرین کو روک دیا جائے گا۔ اسی وجہ سے جعہ کو روانہ ہوئی تو ٹرین میں ہندوستانی مسافروں کی تعداد ماضی کے برعکس کافی کم تھی۔ اس لیے یہ بھی دیکھا گیا کہ ہندوستان کی جانب سے اپنے شہریوں کو پاکستان نہ جانے کا مشورہ دینے کے باوجود جمعہ کو تھر ایکسپریس میں تراسی ہندوستانی شہری سوار تھے۔
اس درمیان جودھ پور کی جیل سے رہا ہوئے 51 پاکستانی شہری اپنے وطن نہيں جا سکے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے اجازت نہ ملنے کی وجہ سے ہندوستانی اہلکاروں نے انہوں نے تھر ایکسپریس میں سوار ہونے نہيں دیا ہے۔ ان پاکستانی شہریوں میں 25 خواتین اور چار بچے بھی شامل ہیں۔ یہ سبھی جودھ پور جیل میں چھ مہینے کی سزا کاٹنے کے بعد گزشتہ سنیچر کو رہا ہوئے تھے۔ پولیس نے انہیں ویزے کے دستاویزات میں چھیڑ چھاڑ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ لیکن گزشتہ ہفتے ریاست راجھستان میں کانگریس کی نئی حکومت نے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ لیکن اب مرکزی حکومت سے اجازت نہ ملنے کی وجہ سے وہ تھر ایکسپریس پر سوار نہ ہوسکے۔ ریاست کے داخلہ سکریٹری ایس این تھانوی نے بی بی سی کو بتایا: ’ان کے خلاف جرم طے نہیں ہوا ہے۔ یہ رہائی کے بعد جودھپور کے ایک ہوٹل کی نگرانی میں رہ رہے ہیں۔‘ ان لوگوں کی رہائی کے لیے سیمانت لوک تنظیم کے ہندو سنگھ سودھا نامی شخص کوششیں کر رہے تھے۔ ان لوگوں کو جانے سے روکے جانے پر وہ بہت مایوس ہوئے، ان کا کہنا تھا: ’دونوں ممالک کو بےقصور لوگوں کو نشانہ نہيں بنانا چاہیے۔‘ |
اسی بارے میں ’جنگ نہیں کارروائی چاہیے‘23 December, 2008 | انڈیا دنیا پاکستان پر دباؤ بڑھائے: مکرجی22 December, 2008 | انڈیا ممبئی آپریشن ختم:ہوٹل تلاشی شروع، 195 ہلاک 29 November, 2008 | انڈیا ممبئی: سینکڑوں افراد زیرعلاج ہیں29 November, 2008 | انڈیا گنبد پر نگاہیں ٹکائے خبر کے انتظار میں28 November, 2008 | انڈیا ’ممبئی لہولہان، ہندوستان کا11/9 ‘28 November, 2008 | انڈیا ’یہ سب جلدی ختم ہو تاکہ ہم گھر جا سکیں‘28 November, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||