2007 کا کشمیر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سال دو ہزار سات کی شروعات فرضی جھڑپوں کے خلاف احتجاج اور ان میں ملوث پولیس افسروں و اہلکاروں کی گرفتاری سے ہوئی جبکہ یہ سال اگلے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں پر اختتام پزیر ہورہا ہے۔ اس دوران پاکستان کی سیاسی اتھل پتھل کے بعد یہاں کی علیٰحدگی پسند سیاست گویا سرد پڑگئی اور ہندنوازوں کے لہجہ میں نمایاں سختی آگئی۔ سال کی شروعات میں جہاں ہندوستان کے سابق وزیرداخلہ مفتی محمد سعید کی پارٹی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی یا پی ڈی پی نے فوج کی تعداد میں کمی کو لے کر سیاسی ماحول میں حرارت پیدا کر دی وہیں دسمبر میں سابق وزیر اعلیٰ ڈاکڑ فاروق عبداللہ نے اُنیس سو سینتالیس میں اُس وقت کے مہاراجہ ہری سنگھ اور حکومت ہندکے مابین ہوئے مبینہ الحاق پر سوال آٹھایا۔ حالیہ دنوں ہوئی کئی تقریبات پر بولتے ہوئے ڈاکٹر فاروق نے کہا’ اگر کشمیری لوگ اسی طرح فوج کے ہاتھوں مارے جاتے رہے تو ہمیں سینتالیس میں ہوئے الحاق کے بارے میں دوبارہ سوچنا پڑے گا‘۔ واضح رہے فاروق عبداللہ کو ان کی پارٹی نے پہلے ہی اگلے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے پروجیکٹ کرنا شروع کر دیا ہے۔
مفتی سعید کی پارٹی گو کہ اقتدار میں کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد کی حلیف ہے، لیکن اس نے بھی آئیندہ انخابات کے مدنظر علیٰحدگی پسندوں سے ملتے جلتے نعرے بلند کرنا شروع کردیے ہیں۔ اکثرسیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ پاکستان کے سیاسی بحران کے رہتے یہاں کی ہندمخالف قیادت کو سخت سیاسی مقابلے کا سامنا ہے۔ کالم نویس شیخ مختار احمد کے خیال میں دوہزار آٹھ میں ہندنواز لیڈروں کی یہ کوشش رہے گی کہ ’تحریک اور حکومت سازی‘ ایک ہی سکّہ کے دو رُخ قرار دیے جائيں۔اس طرح آنے والا سال یہاں کی علیٰحدگی پسند قیادت کے لیے ایک نظریاتی چیلینج کی حیثیت رکھتا ہے۔ مسٹر احمد کہتے ہیں’جذبات کو کوئی تبدیل نہیں کرسکتا۔ لیکن پاکستان کی سیاسی صورتحال اور یہاں کی مسلح مزاحمت کے تئیں مشرف حکومت کی نئی پالیسی کے رہتے اگرتحریکی قیادت اپنا مؤقف طے کرنے میں ناکام ہوئی تو ان جذبات کو ہندنواز ضرور ہائی جیک کرینگے۔ اور ایسا ہماری تحریک میں ہوا ہے‘۔ قابل ذکر ہے کہ ہندوستان کے سابق نائب وزیرخارجہ اور نیشنل کانفرنس کے صدر عمرعبداللہ نے کئی حلقوں کی مخالفت کے باوجود لندن میں حالیہ دنوں مسئلہ کشمیر سے متعلق منعقدہ عالمی کانفرنس میں علیٰحدگی پسند نمائندوں کے شانہ بہ شانہ شرکت کی۔ عمر اور دوسرے ہندنوازوں نے سال دوہزار سات کے دوران کئی مرتبہ پاکستان، امریکہ اور لندن میں علیٰحدگی پسندوں کے ہمراہ مختلف مباحثوں اور سیمیناروں میں شرکت کی۔
تاہم علیٰحدگی پسند قیادت اس صورتحال کو اپنے لیے چیلینج نہیں سمجھتی۔ ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ الگ الگ سطحوں پر مذاکرات کی حامی حریت کانفرنس کے سینئیر رہنما پرفیسر عبدالغنی بٹ نے بی بی سی کے ساتھ ایک بات چیت کے دوران بتایا ’ ہم لوگ مشاورت کے خلاف نہیں ہیں، ان کا یہ کہنا ہے غلط ہے کہ ہندنواز ہماری جگہ لے لیں گے۔ جو لوگ کل تک بھارت کے گیت گا رہے تھے اگر آج وہ لوگ بھی وہی بات کہتے ہیں جو ہم کہہ رہے ہیں تو یہ تحریک کی فتح ہے‘۔ پروفیسر بٹ پاکستان کی سیاسی صورتحال کو بھی الگ زاویئے سے دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے’ پاکستان کی اندرونی صورتحال کبھی بھی کشمیر پر اثرانداز نہیں ہوئی ہے۔ اُنیس سو اکہتر میں تو پاکستان دو لخت ہوگیا تھا، تب تک کشمیر میں پتھر چلتے تھے پھرگولیاں چلنے لگیں‘۔ |
اسی بارے میں ’مشرف کی مشکل نہیں بڑھانا چاہتے‘10 June, 2007 | انڈیا ’دلّی نے اقتدار کا لالچ دیا تھا‘02 May, 2007 | انڈیا کشمیرگول میز 24 اپریل کو ہو گی14 April, 2007 | انڈیا حزب المجاہدین بات چیت کے راضی 06 April, 2007 | انڈیا مفتی: حکومتی اتحاد سے علیحدگی؟18 March, 2007 | انڈیا ’کشمیر سے انخلا، قیاس آرائیاں ہیں‘04 March, 2007 | انڈیا فرضی تصادم: ایس ایس پی پر فرد جرم 28 February, 2007 | انڈیا لاپتہ کشمیریوں کے اقرباء دلّی روانہ18 February, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||