BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 01 October, 2006, 01:03 GMT 06:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جان دینے کا رسم اور درگا کی پوجا

ملک کی آبادی کی اکثریت کا انحصار زراعت پر ہے
تیز رفتار معاشی ترقی اور زرعی مسائل
رواں سال کے پہلے حصے میں بھارت کی معاشی ترقی کی شرح میں اندازے سے زیادہ اضافہ ہوا ہے اور تازہ اعداد و شمار کے مطابق یہ شرح نمو 9 ۔8 ہے جبکہ گزشتہ برس یہ 5۔8 تھی۔ پہلی سہ ماہی میں یہ ترقی مینوفیکچرنگ، تجارت، ٹرانسپورٹ اور سروس سیکٹر میں اچھی کارکردگی کے سبب ہو ئی ہے۔

بھارت کی بے پناہ صنعتی صلاحیت اور اس کے بڑھتے اثر و رسوخ نے اسے دنیا کی تیزی سے ترقی کرنی والی اقتصادی طاقت بنا دیا ہے اور اگر وہ اس شرح نمو کو مسلسل چار سال تک برقرار رکھ سکے تو ایشیا میں چين کے بعد وہ سب سے تیز رفتار ترقی کرنے والا ملک ہوگا۔

لیکن ملک کی ساٹھ فیصد آبادی آج بھی زرعی شعبے پر منحصر ہے اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ اس شعبے میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔ جس روز حکومت نے شرح ترقی کے اعداد و شمار جاری کیے اسی دن کسانوں کی فلاح کے لیے اسے سترہ ہزار کروڑ روپے کے ایک امدادی پیکج کا اعلان کرنا پڑا۔ کسانوں کی مشکلیں برقرار ہیں اور ان کی خودکشیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

حال ہی میں اقوام متحدہ کی طرف سے جاری ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پہلے کے مقابلے بھارت میں بھوک سے ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے اور پہلے سے بیگار ی بھی بڑھی ہے۔ ماہرین اس کے لیے حکومت کی پالیسیوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ زرعی اور دیہی ترقی کے نام پر صرف کاغذی خانہ پری ہوتی ہے اور حقیقتا اس پر عمل نہیں ہوتا اسی لیے یہ حال ہے۔

سنتھارا کا چلن

جین اور جان دینے کی رسم
 مغربی ریاست راجستھان میں جین مذہب کی پیروکار ایک خاتون نے مستقل تیرہ روز تک فاقہ کرکے اپنی جان دیدی اور ان کی پوجا بھی شروع ہوگئی ہے۔ جین مذہب کے مطابق عمر کے آخری دور میں موکشا یعنی نجات پانے کے لیے کھانا پانی چھوڑ کر جان دینا ایک جائز عمل ہے۔ اس رسم کو سنتھارا کہا جاتا ہے۔
مغربی ریاست راجستھان میں جین مذہب کی پیروکار ایک خاتون نے مستقل تیرہ روز تک فاقہ کرکے اپنی جان دیدی اور ان کی پوجا بھی شروع ہوگئی ہے۔ جین مذہب کے مطابق عمر کے آخری دور میں موکشا یعنی نجات پانے کے لیے کھانا پانی چھوڑ کر جان دینا ایک جائز عمل ہے۔ اس رسم کو سنتھارا کہا جاتا ہے۔

ساٹھ سالہ وملا دیوی کی موت کے دوسرے ہی روز ایسے ہی ایک اور واقعے کا پتہ چلا ہے۔ جے پور کی ایک ایک ترانوے سالہ خاتون نے موت کی طلب میں کھانا پانی چھوڑ دیا ہے۔ اس معاملے میں دونوں خواتین کو ان کے خاندان سے پوری مدد ملی ہے۔ ذرائع ابلاغ میں ان واقعات کو سرخیوں میں جگہ ملی ہے اور بحث یہ جاری ہے کہ جان دینے کا یہ طریقہ خود کشی ہے یا یہ بھی ستی کے مترادف ہے۔

بعض کا یہ بھی کہنا ہے کہ بزرگ ایسا کرنے پر اس لۓ بھی مجبور ہیں کیونکہ وہ گھروالوں پر بوجھ تصور کیےجاتے ہیں۔ بعض لوگوں نے اس رسم کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی ہے اور معاملہ عدالت میں زیرسماعت ہے۔ لیکن جین مذہب کے پیرو کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ایک مذہبی عقیدہ ہے جسے اپنی مرضی سے اپنایا جاسکتا ہے اور اس میں قانون کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔

فیسٹیول سیزن

طاقت کی دیوی ’درگا‘
بھارت میں آجکل چاروں طرف تہواروں کا موسم ہے۔ ایک طرف مسلمانوں کے علاقوں میں اگر رمضان کی چہل پہل ہے تو دوسری طرف درگا پوجا، دسہرا اور نوراتری کی زبردست دھوم دھام ہے۔ شمال میں رات کو رام اور راون کی زندگی پر مبنی رام لیلا یعنی ڈرامے کی گہما گہمی ہے تو مغربی علاقوں میں گربہ اور ڈانڈیا جیسے رقص کی دھماکے دار محفلیں سج رہی ہیں۔ عید اور دیوالی سے پہلے ان تہواروں کے لئے بڑے بڑے شپانگ مالز اور بازاروں میں خرید و فروخت شباب پر ہے اور یہ سلسلہ دیوالی کے بعد چـھٹ کی پوجا تک جاری رہے گا۔

تجارت کے نکتۂ نظر سے اکتوبر کا پورا مہینہ تاجروں اور دکانداروں کے لیے خوشبری لیکر آتا ہے۔ اس دوران شیئر بازار کے ساتھ ساتھ شہر اور گاؤں کے چھوٹے چھوٹے بازار بھی لمبی چھلانگ لگاتے ہیں۔

مسلم ہندوؤں کے سا تھ ڈانس نہ کریں
مہا راشٹر کی سخت گیر ہندو قوم پرست سیاسی جماعت شیو سینا نے مسلم نو جوانوں سے کہا ہے کہ وہ ہندوؤں کے نودنوں کے تہوار ’نوراتری‘ کے دوران ان کے پروگراموں میں حصہ لینے سے باز رہیں ۔

شیو سینا کو سب سے زیادہ اعتراض اس تہوار کے دوران رات دیر گئے تک نوجوان لڑکے لڑکیوں کے روایتی ’ڈانڈیا‘ رقص میں مسلم نوجوانوں کی شرکت پر ہے۔ پچھلے کچھ برسوں میں ڈانڈیا رقص کافی م‍قبول ہوا ہے اور اب یہ گجرات سے نکل کرمہاراشٹر اور ملک کے دیگر علاقوں میں بھی تہوار کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔

اس میں کئی مقامات پر مسلم بھی شریک ہوتے ہیں ۔ چند برسوں سے شیو سینا اور وشو ہندو پریشد جیسی تنظیمیں مسلمانوں کی شرکت پر اعتراض کرتی رہی ہیں۔ شیو سینا کے ایک رہنما نے کہا ہے کہ ’گوشت کھانے والے یہ مسلمان کس طرح ہندوؤں کے مذہبی رسم و رواجوں میں شریک ہو سکتے ہیں۔‘

دہشت گردی پر قابو پانا ہے تو اردو پڑھئے

پولیس کے لیے اردو عربی لازمی
 مہاراشٹر کے پولیس محکمے نے اپنی خفیہ شاخ میں شامل ہونے والے افسروں کے لیے اردو یا عربی سیکھنا لازمی قرار دیا ہے۔ ریاستی پولیس کے سربراہ نےگزشتہ دنوں بتایا کہ خفیہ پولیس کے نئے افسروں کو تامل، مراٹھی اور کنڑ میں سے کوئی ایک زبان سیکھنی ہوگی۔ ساتھ ہی اب انہیں اردو اور عربی میں سے بھی ایک زبان چننا ہوگا۔
مہاراشٹر کے پولیس محکمے نے اپنی خفیہ شاخ میں شامل ہونے والے افسروں کے لیے اردو یا عربی سیکھنا لازمی قرار دیا ہے۔ ریاستی پولیس کے سربراہ نےگزشتہ دنوں بتایا کہ خفیہ پولیس کے نئے افسروں کو تامل، مراٹھی اور کنڑ میں سے کوئی ایک زبان سیکھنی ہوگی۔ ساتھ ہی اب انہیں اردو اور عربی میں سے بھی ایک زبان چننا ہوگا۔

جولائی کے بم دھماکوں کے بعد یہ نوٹس لیا گیا تھا کہ انسداد دہشت گردی شاخ اور ریاستی خفیہ ادارے کے بہت کم افسر ایسے تھے جو اردو جانتے تھے۔ مہاراشٹر کی پولیس کا خیال ہے کہ دہشت گردوں کی زبان عموما اردو ہوتی ہے۔

مہاراشٹر میں مسلمانوں کی خاصی آبادی ہے لیکن ملک کی دوسری ریاستوں کی طرح یہاں بھی پولیس محکمے میں بہت کم مسلم ہیں اور خفیہ ادارے میں تو ت‍قریبا نہیں کے برابر ہیں۔

سنجے دت کے گھر میں سانپ
ممبئی شہر میں سانپ اور وہ بھی کسی کثیر منزلہ عمارت کی گیارہویں منزل پر۔ ہےنہ حیرت کی بات۔ پچھلے منگل کو امپیریل ہائٹس بلڈنگ کےگیارہویں فلور پر واقع معروف اداکار سنجے دت کی رہائش گاہ پر ایک پانچ فٹ کا سانپ گھس آیا تھا۔

سانپ بظاہر پیر کی رات سے وہاں تھا لیکن ایک سپیرے نے اسے اگلے دن صبح پکڑا۔ سانپ کی موجوگی سے پوری عمارت میں بھگدڑ مچ گئی اور مقامی فائر بریگیڈ والے بھی وہاں پہنچ گئے تھے لیکن سانپ پکڑنے کے معاملے میں وہ کچھ نہیں کر سکتے تھے ۔ بالآخر ایک سپیرے کی مدد لی گئی۔

فلم اسٹار نے اپنے گھر پر ایک بڑی پوجا کا اہتمام کیا تھا اور ہر کوئی چاہتا تھا کہ پوجا سے پہلے سانپ پکڑ میں آجائے تاکہ اطمینان رہے۔ سنجے کے اصرار پر سانپ کو بعد میں ایک محفوظ جنگل میں چھوڑ دیا گیا۔

سنجے دت پر 1993 کے بم دھماکو ں کے سلسلے میں ایک معاملے میں مقدمہ چل رہا ہے اور اب عدالت کا فیصلہ کسی بھی دن آنے والا ہے۔ ابھی تک یہ معاملہ پراسرار بنا ہوا ہے کہ سانپ گیارہویں منزل پر سنجے دت کے گھر تک کیسے پہنچا۔

دِلی ڈائری
یونیورسٹی انتخاب پر عدالتی لگام
دِلی ڈائری
انڈین سیاحت اور خفیہ رازوں کی چوری
دِلی ڈائری
جوہری تنصیبات، سیاحت اور خودکشیاں
دلی ڈائری
تاج محل، بابری مسجد اور طاقتور خواتین
 ونیشادلی ڈائری
وزیراعظم کے بھائی کو کیوں پکڑا گیا؟
دلی ڈائری
مشکل سفر،سست دفاعی تحقیق، شاہ رخ کا ٹیکس
بھکاریدلی ڈائری
نارائنن کا خط اور بھکاریوں کی چھٹی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد