ویب سائٹ نے ’فتنہ‘ ہٹا لی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہالینڈ کے دائیں بازو کے سیاست دان گریٹ ولڈر کی متنازعہ فلم ’فتنہ‘ جس ویب سائٹ نے ریلیز کی تھی اب اس ویب سائٹ نے اپنے عملے کے ارکان کو ملنے والی ’سنگین دھمکیوں‘ کی وجہ سے یہ فلم ہٹا لی ہے۔ دریں اثناء ناول نگار سلمان رشدی نے کہا ہے کہ گریٹ ولڈر کی متنازعہ فلم ’فتنہ‘ کے بارے میں غیرضروری تنازعہ کھڑا کیا جا رہا ہے۔ ہندوستان کے ایک نجی ٹی وی چینل سی این این آئی بی این کو دیے گئے ایک انٹرویو ميں سلمان رشدی نے کہا: ’اس فلم پر بنا کسی بات کے ہی بیکار میں تنازعہ کھڑا کیا جا رہا ہے۔‘ سلمان رشدی نے کہا: ’میرے خیال میں یہ بہت دلچسپ ہے کہ جب سے یہ فلم ویب سائٹ پر ریلیز ہوئی ہے اور لوگوں نے اسے دیکھا ہے انہیں لگا ہے کہ یہ فلم اس حد تک جذبات نہیں بھڑکاتی ہے جتنی امید کی جا رہی تھی۔‘ لائو لیک نامی برطانوی ویب سائٹ جس نے یہ فلم ریلیز کی تھی ویب سائٹ پر لگے ایک بیان میں کہا: ’ہمارے ملازمین کو سنگین قسم کا خطرہ ہونے کے سبب اور بعض برطانوی میڈیا کی جانب سے غلط جانکاری ملنے کے بعد اپنے ملازمین کی حفاظت کے لیے لائو لیک کے پاس اس فلم کو سرور سے ہٹانے کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے۔‘ حالانکہ یہ فلم’ یو ٹیوب‘ سمیت دیگر ویب سائٹز پر اب بھی دیکھی جا سکتی ہے۔لائو لیک نے یہ فلم جمعرات کو ریلیز کی تھی۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق فلم کو ویب سائٹ سے ہٹائے جانے پرگریٹ ولڈر کاکہنا ہے کہ یہ بے حد برے حالات ہیں کیوں کہ اس قسم کی دھمکیوں کے سبب اظہار آزادی کے حق کو زبردست دھچکا پہنچتا ہے۔ لیکن انہوں نے ڈچ خبر رساں ایجنسی اے این پی کو دیے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ اس بات کو سمجھ سکتے ہیں کہ ویب سائٹ نے ان کی فلم کیوں ہٹائی ہے۔
اس فلم میں قرآنی آیات کے پیچھے دہشتگردانہ حملوں کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ ہے۔گریٹ نے اس فلم کا نام ’فتنہ‘ رکھا ہے جس کے معنی شر انگیزی اور شرارت بھی ہوتے ہیں۔ ہالینڈ کے نشریاتی ادارے اس فلم کو دکھانے پر آمادہ نہیں ہوئے تھے۔ اس سے قبل ا قوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اس فلم کو’جارحانہ حد تک اسلام مخالف‘ قرار دیا تھا۔ بعض اسلامی تنظیموں نے اس فلم کو ’قرآن مخالف‘ بتایا ہے۔ پاکستان میں اس فلم کے اجراء کے خلاف جمعہ کو کئی مقامات پر معمولی احتجاج ہوئے جب کہ اسلام آباد میں حکومت نے ولندیزی سفیر کو بلا کر احتجاج کیا۔ دوسری طرف ہالینڈ میں فلم کے اجراء کے بعد ظاہر کیے جانے والے ردِ عمل پر قدرے اطمینان کا ہے۔ مبصرین کی متفقہ رائے ہے کہ ولڈر کی ویڈیو فلم ان کی توقع سے کہیں کم اشتعال انگیز ہے۔ خود مسٹر ولڈر نے اپنی فلم کو غیرگستاخانہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا مقصد اس معاملے پر بحث کو متحرک کرنا تھا جب کہ دوسرے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کی فلم میں ’کچھ نیا نہیں‘ ہے۔ |
اسی بارے میں اسلام مخالف فلم کے خلاف مظاہرے07 March, 2008 | پاکستان کارٹون: کراچی میں ہڑتال اور فائرنگ14 March, 2008 | پاکستان احتجاج میں عراق اور مصر بھی شامل21 June, 2007 | پاکستان کراچی: احتجاج تشدد میں تبدیل17 February, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||