BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 March, 2008, 11:18 GMT 16:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ویب سائٹ نے ’فتنہ‘ ہٹا لی
 افغانستان
گریٹ ولڈر کی فلم فتنہ کے خلاف افغانستان میں احتجاج
ہالینڈ کے دائیں بازو کے سیاست دان گریٹ ولڈر کی متنازعہ فلم ’فتنہ‘ جس ویب سائٹ نے ریلیز کی تھی اب اس ویب سائٹ نے اپنے عملے کے ارکان کو ملنے والی ’سنگین دھمکیوں‘ کی وجہ سے یہ فلم ہٹا لی ہے۔

دریں اثناء ناول نگار سلمان رشدی نے کہا ہے کہ گریٹ ولڈر کی متنازعہ فلم ’فتنہ‘ کے بارے میں غیرضروری تنازعہ کھڑا کیا جا رہا ہے۔

ہندوستان کے ایک نجی ٹی وی چینل سی این این آئی بی این کو دیے گئے ایک انٹرویو ميں سلمان رشدی نے کہا: ’اس فلم پر بنا کسی بات کے ہی بیکار میں تنازعہ کھڑا کیا جا رہا ہے۔‘

سلمان رشدی نے کہا: ’میرے خیال میں یہ بہت دلچسپ ہے کہ جب سے یہ فلم ویب سائٹ پر ریلیز ہوئی ہے اور لوگوں نے اسے دیکھا ہے انہیں لگا ہے کہ یہ فلم اس حد تک جذبات نہیں بھڑکاتی ہے جتنی امید کی جا رہی تھی۔‘

لائو لیک نامی برطانوی ویب سائٹ جس نے یہ فلم ریلیز کی تھی ویب سائٹ پر لگے ایک بیان میں کہا: ’ہمارے ملازمین کو سنگین قسم کا خطرہ ہونے کے سبب اور بعض برطانوی میڈیا کی جانب سے غلط جانکاری ملنے کے بعد اپنے ملازمین کی حفاظت کے لیے لائو لیک کے پاس اس فلم کو سرور سے ہٹانے کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے۔‘

حالانکہ یہ فلم’ یو ٹیوب‘ سمیت دیگر ویب سائٹز پر اب بھی دیکھی جا سکتی ہے۔لائو لیک نے یہ فلم جمعرات کو ریلیز کی تھی۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق فلم کو ویب سائٹ سے ہٹائے جانے پرگریٹ ولڈر کاکہنا ہے کہ یہ بے حد برے حالات ہیں کیوں کہ اس قسم کی دھمکیوں کے سبب اظہار آزادی کے حق کو زبردست دھچکا پہنچتا ہے۔ لیکن انہوں نے ڈچ خبر رساں ایجنسی اے این پی کو دیے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ اس بات کو سمجھ سکتے ہیں کہ ویب سائٹ نے ان کی فلم کیوں ہٹائی ہے۔

گریٹ نے اس فلم کا نام ’فتنہ‘ رکھا ہے جس کے معنی شر انگیزی ہوتا ہے
طویل عرصے پر محیط تنازعے اور احتجاج کے بعد جمعرات کو نیٹ پر جاری کی جانے والی پندرہ منٹ کی اس فلم کی کئی مسلمان ملک پہلے ہی مذمت کر چکے ہیں۔ ان ملکوں میں پاکستان، انڈونشیا، ایران اور بنگلہ دیش سرِ فہرست ہیں۔

اس فلم میں قرآنی آیات کے پیچھے دہشتگردانہ حملوں کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ ہے۔گریٹ نے اس فلم کا نام ’فتنہ‘ رکھا ہے جس کے معنی شر انگیزی اور شرارت بھی ہوتے ہیں۔ ہالینڈ کے نشریاتی ادارے اس فلم کو دکھانے پر آمادہ نہیں ہوئے تھے۔

اس سے قبل ا قوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اس فلم کو’جارحانہ حد تک اسلام مخالف‘ قرار دیا تھا۔ بعض اسلامی تنظیموں نے اس فلم کو ’قرآن مخالف‘ بتایا ہے۔

پاکستان میں اس فلم کے اجراء کے خلاف جمعہ کو کئی مقامات پر معمولی احتجاج ہوئے جب کہ اسلام آباد میں حکومت نے ولندیزی سفیر کو بلا کر احتجاج کیا۔

دوسری طرف ہالینڈ میں فلم کے اجراء کے بعد ظاہر کیے جانے والے ردِ عمل پر قدرے اطمینان کا ہے۔ مبصرین کی متفقہ رائے ہے کہ ولڈر کی ویڈیو فلم ان کی توقع سے کہیں کم اشتعال انگیز ہے۔

خود مسٹر ولڈر نے اپنی فلم کو غیرگستاخانہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا مقصد اس معاملے پر بحث کو متحرک کرنا تھا جب کہ دوسرے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کی فلم میں ’کچھ نیا نہیں‘ ہے۔

گیرٹ ولڈرز تقریب رونمائی نہیں
ڈچ مخالف فلم کی رونمائی نہیں مگر ریلیز ہو گی
اسلام پر نئی ڈچ فلم، نیٹو کے خدشاتنئی ڈچ فلم
اسلام پر نئی فلم سے متعلق نیٹو کے خدشات
ایان ہرسی علیڈچ ایم پی کہتی ہیں
’کارٹون چھاپنا غلط فیصلہ نہیں تھا‘
نقاببرقع پر پابندی
ھالینڈ میں برقع پابندی پرمسلم خواتین کی تنقید
ہالینڈ: مسجد نذرِآتش
ہالینڈ میں ایک مسجد کو نذرِآتش کر دیا گیا ہے۔
ایان حرسی علیمتنازعہ فلمساز کا قتل
مسلم عورتوں کے خلاف تشدد دکھایا گیا تھا
اسی بارے میں
کراچی: احتجاج تشدد میں تبدیل
17 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد