BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 May, 2007, 13:44 GMT 18:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سفید فام طبلہ نواز نے دل جیت لیا

طبلہ نواز سٹیفن سیہالکہ (بائیں)
کینیڈا کے شہر ٹورانٹو میں پانچواں سالانہ جنوبی ایشیائی موسیقی میلہ یعنی ساؤتھ ایشین میوزک فیسٹیول سن دو ہزار سات منعقد ہوا ہے۔

یہ میلہ تین ہفتوں تک ٹورانٹو میں جاری رہا اور اس میلۂ موسیقی میں برصغیر پاک و ہند کی موسیقی کے شائقین کی بڑی تعداد اس سال ٹورانٹو میں جمع ہوئی۔

ہر سال کینیڈا میں مئی کا مہینہ سرکاری طور پر طور پر جنوبی ایشیائی ثقافت کے مہینے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ دیگر کئی رنگا رنگ تقریبات کے علاوہ اس میلۂ موسیقی کی ایک خاص بات یہ تھی کہ اس میں جنوبی ایشیائی فنکاروں کے ساتھ ساتھ کینیڈا اور امریکہ میں پیدا ہونے والے غیرایشیائی فنکار بھی پاکستانی اور ہندوستانی موسیقی کے ذریعے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اور ان موسیقاروں اور گلوکاروں کی ایک بڑی تعداد کینیڈا میں پیدا ہونے کے باوجود خصوصی طور پر ہندوستان اور پاکستان جا کر فن موسیقی کی تعلیم حاصل کر رہی ہے۔

سفید فام طبلہ نواز سٹیفن سیہالکہ
میلے میں ایک مقامی سفید فام طبلہ نواز سٹیفن سیہالکہ نے شائقین کو اپنے فن سے حیران کر دیا۔ سن انیس سو ترانوے سے فن طبلہ سے وابستہ اس فنکار نےمغربی موسیقی کو خیرباد کہہ کر بھارت کے شہر ممبئی کا رخ کیا جہاں سے استاد اللہ رکھا خان سے موسیقی کی تعلیم حاصل کی۔اس کے علاوہ انہوں نے طبلہ نواز استاد ذاکر حسین سے بھی موسیقی کی تعلیم حاصل کی ہے۔
اس میلے میں غیرایشیائی موسیقارو ں اور گلوکاروں کو بڑے انہماک سے سنا۔ میلے میں کلاسیکی، لوک اور دیگر اصناف کی موسیقی پیش کی گئ اور بھنگڑا ڈالا گیا۔

اس سال میلے میں ہندوستان سے کلاسیکی موسیقی کے دو بڑے فنکار خاص طور پر شریک ہوئے۔ معروف طبلہ نواز استاد ذاکر حسین اور کشمیر میں پیدا ہوئے والے معروف سنتور نواز پنڈت شیوکمار شرما نے شائقین موسیقی کے دل موہ لیے۔

پنڈت شیوکمار شرما نے بتایا کہ کینیڈا میں شائقین موسیقی کا انداز انہیں بڑا اچھا لگا ہے۔ لوگ بڑے انہماک اور توجہ سے سنتے رہے۔ اس کے علاوہ عام شائقین موسیقی بھی فنکاروں سے موسیقی کے اسرار و رموز کے بارے میں سوالات کرتے ہیں جو ان کو بہت اچھا لگا ہے۔

اس میلے میں ایک مقامی سفید فام طبلہ نواز سٹیفن سیہالکہ نے شائقین کو اپنے فن سے حیران کر دیا۔ سن انیس سو ترانوے سے فن طبلہ سے وابستہ اس فنکار نےمغربی موسیقی کو خیرباد کہہ کر بھارت کے شہر ممبئی کا رخ کیا جہاں سے استاد اللہ رکھا خان سے موسیقی کی تعلیم حاصل کی۔اس کے علاوہ انہوں نے طبلہ نواز استاد ذاکر حسین سے بھی موسیقی کی تعلیم حاصل کی ہے۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے ایک خصوصی ملاقات کے دوران کینیڈا کے شہر وینکوور میں پیدا ہونے والے کینیڈین طبلہ نواز سٹیفن سیہالکہ نے بتایا کہ وہ مغربی موسیقی کے بڑے شوقین تھے۔ راک اور جاز کے علاوہ ڈرم بھی بجاتے تھے۔انہیں دنیا کی دیگر ممالک کی موسیقی بھی وقتا فوقتا سننے کا شوق تھا۔ مگرسن انیس سو نوے میں ا ٹھارہ سال کی عمر میں اپنے والد کی میوزک لائبریری میں کسی میوزک ریکارڈ کی تلاش میں انہیں روی شنکر اور استاد اللہ رکھا خان کے دو کیسٹ مل گۓ۔

موسیقار کرن اہلووالیا نے بھی اس پروگرام میں شرکت کی
’جب میں نے ان کو سنا تو اس کے کچھ لمحے بعد مجھ پر یہ بات واضع ہوگئی کہ مجھے کون سی موسیقی سیکھنا ہے۔ اس کے کچھ دنوں بعد میں نے جہاز کا ٹکٹ خریدا اور ’ابا جی‘ استاد اللہ رکھا خان کے دروازے پر جاکرفن موسیقی سیکھنے کی درخواست کی تو پہلے انہوں نے سمجھا کہ میں ایک عام مغربی سیاح ہوں مگر چند منٹوں کے بعد میرے جنون کو دیکھ کرانہوں نے مجھے اپنی شاگردی میں لے لیا اور اسی شام استاد اللہ رکھا نے مجھےموسیقی کا پہلا درس دیا۔‘سٹیفن نے بتایا کہ وہ اس بات پر خود کو بڑا خوش نصیب سمجھتے ہیں۔

یہ کینیڈین فنکار معروف قوال نصرت فتح علی خان مرحوم کے بڑے پرستار ہیں اور اب سٹیفن سیہالکہ پنجابی اور اردو کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں تاکہ پاکستان و ہندوستان کے لوک میوزک اور قوالی میں مہارت حاصل کرسکیں۔

انہوں نے بتایا کہ اردو اور پنجابی زبان ان کو قوالی سیکھنے کی وجہ سے آرہی ہے۔ اوروہ پاکستان جاکر فیصل آباد، کراچی اور دیگر شہروں میں قوالی کے فن سے مزید آشنائی کے خواہشمند ہیں۔

جب میں نے ان سے نصرت فتح علی خان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ’نصرت فتح علی خان کی قوالی سننے کے بعد میری زندگی تبدیل ہوگئی ہے۔ مجھے صوفی ازم کے بارے میں بڑا علم ملا ہے۔‘ اردو میں استاد نصرت فتح علی خان کے بارے میں انہوں نے کہا: ’بہت ادب، نصرت فتح علی خان صاحب۔ الحمد اللہ۔‘

اس میلے کے حوالے سے ٹورانٹو کے مختلف تھیئٹرز میں پروگرام منعقد ہوئے جن میں لولہ لاؤنج اور فلائی شامل ہیں۔

سمال ورلڈ میوزک کمپنی اور بچوں کی تعلیم کے لۓ کام کرنے والی جنوبی ایشیائی تنظیم منائرآشا فاؤنڈیشن یعنی ایم ایم اے اس میلے کو کینیڈا کے سرکاری اور غیرسرکاری اداروں کے تعاون سےمنعقد کرتی ہیں۔

اس میلے کی منتظم رکن فرخ علی اور حنا کنابر نے کہا کہ میلے کی مقبولیت ہر سال بڑھتی جارہی ہے اور جنوبی ایشیائی ممالک کے تارکین وطن کی نئی نسل مشرقی موسیقی کو دیارِ غیرمیں زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

ایک برطانوی نژاد آسٹریلین موسیقار سٹیفن کینٹ نے بھی اس ساؤتھ ایشین میلہ میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ کینٹ کا کہنا ہے کہ ’بھارتی اور پاکستانی شائقین موسیقی کا کلاسیکل موسیقی سے لگاؤ ناقابل بیان ہے۔ ان ممالک کے تارکین وطن کی وجہ سے مغرب کو دوسری کئی اچھی چیزوں کے علاوہ اعلیٰ درجے کے موسیقی بھی ملی ہے جو کہ یہاں بہت مقبول ہے۔اور میں نے دنیا بھر میں پاکستانی فنکاروں استاد سلامت علی خان اور سخاوت علی خان کے ساتھ اپنے فن کا مظاہرہ کیا ہے۔‘

آج کا بیجل کون؟آج کا بیجل کون؟
افسانوی موسیقار کی تلاش فرجاد نبی کے ساتھ
ایاز فرید قوالخسرو کے سنگ
ایاز فرید قوال کے ساتھ بش ہاؤس میں ایک شام
بسم اللہ خان الوہیت کامتلاشی
وہ الوہیت کے متلاشی تھے۔ وجاہت مسعود
رباب پشتو موسیقی کا دل
رُباب کے سُر ثقافتی جدت میں گم ہو رہے ہیں
وہ عظیم فنکارہ تھیں
نوشاد کا نورجہان کو شاندار خراجِ تحسین
آڈیو، ویڈیو اور تصاویر میںآج کابیجل: پارٹ ٹو
ہر جمعہ کو آڈیو، ویڈیو اور تصاویر میں
 نثار بزمی’لاکھوں میں ایک‘
امر دُھنوں کے خالق نثار بزمی نہ رہے
اسی بارے میں
ستار نوازی سے آئس کریم تک
25 February, 2006 | فن فنکار
انڈین گانوں کے حقوق محفوظ
21 April, 2005 | فن فنکار
لتا پچھہتر کی ہوگئیں
28 September, 2003 | فن فنکار
برطانوی میوزک کے دلدادہ
22 March, 2005 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد