بزمِ موسیقی ویران ہو گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اکیس جون سال کا سب سے لمبا دِن ہوتا ہے لیکن 1962 میں یہ دِن نثار بزمی کے لئے بھی زندگی کا سب سے لمبا دِن بن گیا۔ یہی وہ دِن تھا جب اپنی جنم بھومی نصیر آباد بمبئی کا بھرا پُرا میلہ چھوڑ کر موسیقار نثار بزمی عازِم پاکستان ہوئے۔ بمبئی میں وہ ایک نام ور موسیقار شمار ہوتے تھے اور لکشمی کانت پیارے لال جیسے میوزیشن اُن کی معاونت میں کام کر چُکے تھے۔ لیکن پاکستان میں قدم جمانا بھی کوئی آسان کام نہ تھا کیونکہ یہاں کے فلمی فلک پر بھی اُس وقت موسیقی کے کئی آفتاب اور مہتاب روشن تھے۔ فلمی موسیقی میں یہ زمانہ تھا خورشید انور اور رشید عطرے کا۔ اسی زمانے میں بابا چشتی، فیروز نظامی، روبن گھوش، ماسٹر عنایت، ماسٹر عبداللہ، سہیل رعنا اور حس لطیف بھی اپنے فن کا جوہر دکھا رہے تھے۔ زیادہ کمرشل سطح پر یہ زمانہ منظور اشرف، دیبو، ناشاد، اے حمید، سلیم اقبال، تصدق، لال محمد اقبال، رحمان ورما، بخشی وزیر، خلیل احمد اور وزیر افضل کا زمانہ تھا۔ معروف موسیقاروں کےاس جھرمٹ میں اپنے لئے جگہ پیدا کرنا کوئی آسان کام نہ تھا اس لئے دو برس کی شدید جدوجہد کے بعد بھی پاکستان میں نثار بزمی کو صرف ایک فلم ’ہیڈ کانسٹیبل‘ٰ ملی۔ تاہم مزید ایک برس کی شبانہ روز محنت
اس فلم کے بعد پاکستانی فلم انڈسٹری کے دروازے نثار بزمی پر کھُل گئے۔ انیس سوسڑ سٹھ میں انھوں نے ’لاکھوں میں ایک‘ٰ کی موسیقی مرتب کی تو پاکستان کی فلمی دنیا میں موسیقی سے تعلق رکھنے والے ہر شخص پر یہ حقیقت عیاں ہو گئی کہ بمبئی کا یہ موسیقار محض تفریحاً یہاں نہیں آیا بلکہ ایک واضح مقصد کے ساتھ یہاں مستقل قیام کا ارادہ رکھتا ہے۔ انیس سواڑسٹھ میں فلم ’صاعقہ‘ کی موسیقی پر اور 1970 میں فلم ’انجمن‘ کے میوزک پر نثار بزمی نے نگار ایوارڈ حاصل کیا، لیکن یہ محض ابتداء تھی۔ 1972 میں ’میری زندگی ہے نغمہ‘، 1979 میں ’خاک اور خون‘ اور 1986 میں فلم ’ہم ایک ہیں‘ کی موسیقی پر بھی انھیں اِسی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ پاکستان آنے کے بعد چند ہی برس کے عرصے میں انھوں نے بطور موسیقار ایک معزز مقام حاصل کر لیا۔ کیونکہ غزل کی گائیکی کےلئے درکار نیم کلاسیکی دھنوں سے لے کر فوک اور پوپ میوزک کی دھڑکتی پھڑکتی کمپوزیشن تک انھیں ہر طرح کی بندشوں میں کمال حاصل تھا اسی لئے مہدی حسن اور نور جہاں جیسے منجھے ہوئے گلوکاروں کے ساتھ ساتھ انھوں نے رونا لیلٰی اور اخلاق احمد جیسی نوخیز آوازوں کو بھی نکھرنے سنورنے کا موقع دیا۔
’ دِل دھڑکے، میں تم سےیہ کیسے کہوں، کہتی ہے میری نظر شکریہ‘ٰ رونا لیلٰی کا یہ گیت تین عشروں کے بعد بھی اپنی تازگی اور شوخی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ مہدی حسن کا گیت ’ٰ رنجش ہی سہی دِل ہی دُکھانے کےلئے آ ۔۔۔‘ اور ’اک ستم اور میری جاں ابھی جاں باقی ہے۔۔۔‘، آج بھی سنیئے تو دِل اُداس ہوجاتا ہے۔ ملکہ ترنم نور جہاں کے بارے میں کئی موسیقاروں کو شکایت تھی کہ وہ ریکارڈنگ سے صرف دس منٹ پہلے آتی ہیں اور پہلی ہی ٹیک میں گانا ریکارڈ کرواکے رخصت ہو جاتی ہیں۔ ایک انٹر ویو کے دوران ملکہ ترنم نے اعتراف کیا کہ وہ یقیناً ایسا کرتی ہیں لیکن صرف نام نہاد موسیقاروں کے ساتھ۔ میڈم نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ نثار بزمی صاحب کی ریہرسل پر میں ہمیشہ وقت سے پہلے پہنچتی ہوں اور سُروں کے اتار چڑھاؤ کی مشق کرتی ہوں کیونکہ وہ ایک عظیم موسیقار ہیں اور فن کی باریکیوں سے نہ صرف خود آگاہ ہیں بلکہ دوسروں کو سمجھانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ گوشت پوست کا نثار بزمی یقیناً آج ہم میں نہیں ہے لیکن موسیقار نثاربزمی اپنی امر دُھنوں اور سریلے نغمات کے ساتھ ہمیشہ ہماری محفل میں موجود رہے گا۔ | اسی بارے میں موسیقار ایم اشرف کی یاد میں05 February, 2007 | فن فنکار گلوکارہ زرینہ بلوچ انتقال کر گئیں 26 October, 2005 | فن فنکار ولایت خان چل بسے16 March, 2004 | آس پاس معروف قوال بدر میاں داد کا انتقال02 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||