گلوکارہ زرینہ بلوچ انتقال کر گئیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی مشہور لوک گلوکارہ اور ٹی وی آرٹسٹ زرینہ بلوچ کا انتقال ہوگیا ہے۔ وہ ایک طویل عرصے سے دل کے عارضے اور سانس کی تکلیف میں مبتلا تھیں۔ طبیعت زیادہ خراب ہونے کے بعد انہیں حیدرآباد سے کراچی نیشنل ہسپتال لایا گیا تھا جہاں منگل کی شب ساڑھے دس بجے ان کا انتقال ہوگیا۔ گلوکارہ، استاد، ترجمہ نگار، اداکارہ اور سیاسی جدوجہد کے حوالے سے بڑا نام کمانے والی زرینہ بلوچ انتیس دسمبر انیس سو بتیس میں حیدرآباد شہر میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے بیس سال تک سندھ یونیورسٹی کے ماڈل اسکول میں پڑھایا۔ زرینہ بلوچ نے شیخ ایاز، استاد بخاری اور تنویر عباسی کو بہت گایا۔ بلوچی گانے، گل خان نصیر کی شاعری، اردو میں فیض احمد فیض، احمد فراز، اور بعض سرائیکی گیتوں کو سر دیا۔ ان کی تین درجن سے زائد آڈیو کیسٹ ریلیز ہو چکی ہیں۔ میونخ فیسٹیول میں ان کی اداکاری پر مشتمل ڈرامہ ’دنگی منجھ دریا‘ دنیا بھر میں تیسرے نمبر پر آیا۔انہوں نے اردو میں انا، جنگل، کارواں، اور سندھی میں رانی کی کہانی جیسے مقبول ڈرامے کئے۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں انہیں پرائیڈ اف پرفارمنس دیا گیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے پی ٹی وی ایوارڈ، لطیف، سچل، شہباز اور کئی ایوارڈ بھی حاصل کئے۔ انہوں نے ایک کتاب تنہنجی گولا تنہجوں گالھیوں ( تمہاری تلاش تہماری باتیں) لکھی۔ تین سے زائد ڈرامہ لکھے۔زان پال سارتر کی کتاب دیوار کا سندھی ترجمہ کیا۔ انہوں نے قومی گیت گا کر سندھ کی قومی تحریکوں میں جوش پیدا کیا۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں کام کرنے کی وجہ سے ان کی صرف کوئی ایک پہچان نہیں۔ اس لئے سندھ کے سیاسی اور ادبی حلقوں میں انہیں جیجی کہا جاتا تھا۔ | اسی بارے میں سندھی ادیب جمال ابڑو انتقال کر گئے01 July, 2004 | فن فنکار ثریا زندگی کی دوڑ ہار گئیں 31 January, 2004 | فن فنکار پرویز مہدی انتقال کر گئے29 August, 2005 | فن فنکار مجیب عالم سپرد ِ خاک کر دیے گئے 03 June, 2004 | فن فنکار امریش پوری انتقال کرگئے12 January, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||