BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 October, 2005, 04:38 GMT 09:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گلوکارہ زرینہ بلوچ انتقال کر گئیں

انہوں نے قومی گیت گا کر سندھ کی قومی تحریکوں میں جوش پیدا کیا۔
پاکستان کی مشہور لوک گلوکارہ اور ٹی وی آرٹسٹ زرینہ بلوچ کا انتقال ہوگیا ہے۔ وہ ایک طویل عرصے سے دل کے عارضے اور سانس کی تکلیف میں مبتلا تھیں۔

طبیعت زیادہ خراب ہونے کے بعد انہیں حیدرآباد سے کراچی نیشنل ہسپتال لایا گیا تھا جہاں منگل کی شب ساڑھے دس بجے ان کا انتقال ہوگیا۔

گلوکارہ، استاد، ترجمہ نگار، اداکارہ اور سیاسی جدوجہد کے حوالے سے بڑا نام کمانے والی زرینہ بلوچ انتیس دسمبر انیس سو بتیس میں حیدرآباد شہر میں پیدا ہوئیں۔

انہوں نے بیس سال تک سندھ یونیورسٹی کے ماڈل اسکول میں پڑھایا۔
1964 میں عوامی تحریک کے سربراہ رسول بخش پلیجو سے شادی کی۔
ضیا دور میں بھٹو بچاؤ تحریک میں انہوں نے دو سال قید کاٹی۔ ون یونٹ کے خلاف جدوجہد میں بھر پور حصہ لیا۔دو سال قبل کالاباغ ڈیم کے خلاف جب سندھ کے لوگوں نے بھٹ شاہ سے کراچی تک لانگ مارچ کیا تو انہوں نے اس میں حصہ لیا۔ اس دوران پولیس نے دو مرتبہ ان پر لاٹھی چارج کیا۔انہوں نے مختلف سیاسی جماعتوں کے احتجاجوں میں شرکت کی۔

زرینہ بلوچ نے شیخ ایاز، استاد بخاری اور تنویر عباسی کو بہت گایا۔ بلوچی گانے، گل خان نصیر کی شاعری، اردو میں فیض احمد فیض، احمد فراز، اور بعض سرائیکی گیتوں کو سر دیا۔

ان کی تین درجن سے زائد آڈیو کیسٹ ریلیز ہو چکی ہیں۔ میونخ فیسٹیول میں ان کی اداکاری پر مشتمل ڈرامہ ’دنگی منجھ دریا‘ دنیا بھر میں تیسرے نمبر پر آیا۔انہوں نے اردو میں انا، جنگل، کارواں، اور سندھی میں رانی کی کہانی جیسے مقبول ڈرامے کئے۔

پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں انہیں پرائیڈ اف پرفارمنس دیا گیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے پی ٹی وی ایوارڈ، لطیف، سچل، شہباز اور کئی ایوارڈ بھی حاصل کئے۔

انہوں نے ایک کتاب تنہنجی گولا تنہجوں گالھیوں ( تمہاری تلاش تہماری باتیں) لکھی۔ تین سے زائد ڈرامہ لکھے۔زان پال سارتر کی کتاب دیوار کا سندھی ترجمہ کیا۔

انہوں نے قومی گیت گا کر سندھ کی قومی تحریکوں میں جوش پیدا کیا۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں کام کرنے کی وجہ سے ان کی صرف کوئی ایک پہچان نہیں۔ اس لئے سندھ کے سیاسی اور ادبی حلقوں میں انہیں جیجی کہا جاتا تھا۔
انہوں نے سندھی کے شادی بیاہ کے گیتوں کو جان بخشی۔

اسی بارے میں
ثریا زندگی کی دوڑ ہار گئیں
31 January, 2004 | فن فنکار
پرویز مہدی انتقال کر گئے
29 August, 2005 | فن فنکار
امریش پوری انتقال کرگئے
12 January, 2005 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد