معروف قوال بدر میاں داد کا انتقال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
معروف قوال اور گلوکار بدر میاں داد جمعہ کی صبح لاہور میں انتقال کرگئے۔ ان کی عمر تقریباً پینتالیس سال تھی۔ بدر میاں قوال کچھ عرصہ سے دل کے عارضہ اور ایک اعصابی مرض میں مبتلا تھے۔ بدھ کی صبح طبیعت زیادہ خراب ہونے پر انہیں ایک مقامی ہسپتال لے جایا گیا، جہاں ان کا انتقال ہوگیا۔ بدر میاں داد انیس سو باسٹھ میں پنجاب کے قصبہ پاکپتن میں پیدا ہوئے، جہاں ان کے والدین قیام پاکستان کے بعد بھارت سے ہجرت کر کے آئے تھے۔ بدر میاں داد معروف قوال نصرت علی خان کے ماموں زاد بھائی تھے۔ ان کے والد میاں داد بھی قوال تھے۔ ان کا گھرانہ سینکڑوں سال سے موسیقی کے فن سے وابستہ ہے۔ شروع میں ان کی گائیکی زیادہ تر ریڈیو ملتان سے نشر ہوتی تھی۔ بدر میاں داد نے اپنے بھائی شیر میاں داد کے ساتھ مل کر گائیکی کا آغاز کیا تھا، لیکن دس سال پہلے دونوں بھائی الگ ہوگئے تھے۔ بدر میاں داد کی ایک سو سے زیادہ البم جاری ہوچکے ہیں۔ انہوں نے ایک بھارتی فلم کے لیے گانے بھی گائے تھے۔ چند سال پہلے انہوں نے گلوکار سریش بابا ورما کے ساتھ مل کر کلاسیکی اور جدید طرز کی موسیقی کے امتزاج سے ایک نئی البم جاری کی تھی جو بہت مقبول ہوئی تھی۔ بدر میاں داد کے ایک دوست نے بتایا کہ دل کی تکلیف کے باعث پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ان کی انجیو پلاسٹی ہوچکی تھی۔ ان کے دوست نے بتایا کہ بدر میاں داد دو سال سے کسی ایسی اعصابی بیماری کا شکار تھے جس کی وجہ سے ان کا جسم سکڑنا شروع ہوگیا تھا اور وہ گانا بھی نہیں گاسکتے تھے۔ بدر میاں داد نے اپنے پس ماندگان میں ایک بیوی، دو بیٹیاں اور تین بیٹے چھوڑے ہیں۔ ان کی نماز جنازہ جمعہ کی سہ پہر لاہور میں تاجدار انبیاء مسجد سبزہ زار کالونی میں ادا کی جائے گی۔ | اسی بارے میں موسیقار ایم اشرف کی یاد میں05 February, 2007 | فن فنکار گلوکارہ زرینہ بلوچ انتقال کر گئیں 26 October, 2005 | فن فنکار مجیب عالم سپرد ِ خاک کر دیے گئے 03 June, 2004 | فن فنکار ثریا زندگی کی دوڑ ہار گئیں 31 January, 2004 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||