BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 March, 2007, 09:55 GMT 14:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
معروف قوال بدر میاں داد کا انتقال

بدر میاں داد
بدر میاں داد معروف قوال نصرت فتح علی کے ماموں زاد بھائی تھے
معروف قوال اور گلوکار بدر میاں داد جمعہ کی صبح لاہور میں انتقال کرگئے۔ ان کی عمر تقریباً پینتالیس سال تھی۔

بدر میاں قوال کچھ عرصہ سے دل کے عارضہ اور ایک اعصابی مرض میں مبتلا تھے۔ بدھ کی صبح طبیعت زیادہ خراب ہونے پر انہیں ایک مقامی ہسپتال لے جایا گیا، جہاں ان کا انتقال ہوگیا۔


بدر میاں داد انیس سو باسٹھ میں پنجاب کے قصبہ پاکپتن میں پیدا ہوئے، جہاں ان کے والدین قیام پاکستان کے بعد بھارت سے ہجرت کر کے آئے تھے۔

بدر میاں داد معروف قوال نصرت علی خان کے ماموں زاد بھائی تھے۔ ان کے والد میاں داد بھی قوال تھے۔ ان کا گھرانہ سینکڑوں سال سے موسیقی کے فن سے وابستہ ہے۔

شروع میں ان کی گائیکی زیادہ تر ریڈیو ملتان سے نشر ہوتی تھی۔

بدر میاں داد نے اپنے بھائی شیر میاں داد کے ساتھ مل کر گائیکی کا آغاز کیا تھا، لیکن دس سال پہلے دونوں بھائی الگ ہوگئے تھے۔

 بدر میاں داد کی ایک سو سے زیادہ البم جاری ہوچکے ہیں۔ انہوں نے ایک بھارتی فلم کے لیے گانے بھی گائے تھے

بدر میاں داد کی ایک سو سے زیادہ البم جاری ہوچکے ہیں۔ انہوں نے ایک بھارتی فلم کے لیے گانے بھی گائے تھے۔

چند سال پہلے انہوں نے گلوکار سریش بابا ورما کے ساتھ مل کر کلاسیکی اور جدید طرز کی موسیقی کے امتزاج سے ایک نئی البم جاری کی تھی جو بہت مقبول ہوئی تھی۔

بدر میاں داد کے ایک دوست نے بتایا کہ دل کی تکلیف کے باعث پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ان کی انجیو پلاسٹی ہوچکی تھی۔

ان کے دوست نے بتایا کہ بدر میاں داد دو سال سے کسی ایسی اعصابی بیماری کا شکار تھے جس کی وجہ سے ان کا جسم سکڑنا شروع ہوگیا تھا اور وہ گانا بھی نہیں گاسکتے تھے۔

بدر میاں داد نے اپنے پس ماندگان میں ایک بیوی، دو بیٹیاں اور تین بیٹے چھوڑے ہیں۔

ان کی نماز جنازہ جمعہ کی سہ پہر لاہور میں تاجدار انبیاء مسجد سبزہ زار کالونی میں ادا کی جائے گی۔

اسی بارے میں
موسیقار ایم اشرف کی یاد میں
05 February, 2007 | فن فنکار
ثریا زندگی کی دوڑ ہار گئیں
31 January, 2004 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد