BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 20 March, 2004, 16:32 GMT 21:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اسٹیبلشمنٹ نے تسلیم نہیں کیا‘

News image
سابق صدر اسحاق خان، عطااللہ کو میڈل سے نواز رہے ہیں
پاکستان میں موسیقی کے میدان میں بڑے ناموں کی کبھی بھی کمی نہیں رہی لیکن عوامی سطح ہر جو پذیرائی عطااللہ عیسیٰ خیلوی کو حاصل ہوئی وہ موجودہ دور کے کسی اور گلوکار کو نصیب نہ ہو سکی۔

سن انیس سو اٹھہتر میں عوامی موسیقی کے افق پر نمودار عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی پاکستان کے واحد گلوکار ہیں جن کی شہرت مکمل طور سرکاری میڈیا کی بجائے آڈیو کیسٹ کے مرہون منت ہے۔

فیصل آباد کے ادارے رحمت گراموفون سے جاری ہونے والی پانچ آڈیو کیسٹوں نے انہیں نہ صرف خیبر سے کراچی تک شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا بلکہ ان کی آواز دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانیوں کے کانوں میں رس گھولنے لگی۔

حال ہی میں لاہور میں ایک ملاقات کے دوران میں نے عطااللہ سے پوچھا کہ ملک کی ثقافتی اسٹیبلشمنٹ سے اپنے فن کا لوہا منوانے میں انہیں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟

عطااللہ عیسیٰ خیلوی: یہ تو مشکل سوال ہے کیونکہ انہوں نے مجھے تو ابھی تک قبول نہیں کیا ہے البتہ یہ ضرور ہے کہ سامعین نے مجھے پذیرائی ضرور بخشی۔ لیکن ملکی ادراروں نے مجھے بہت دیر میں تسلیم کیا، کچھ ادارے ایسے بھی ہیں جنہوں نے اب تک مجھے تسلیم نہیں کیا لیکن مجھے ان سے کوئی گِلہ ہے نہ امید۔ اصل پذیرائی تو سننے والے ہیں جنہوں نے مجھے اتنی عزت دی اور مجھے پرائڈ آف پرفارمنس تک لے آئے۔

سوال: آپ اپنے میوزک ویڈیوز کے بارے میں اپنے سامعین کو کچھ بتانا چاہیں گے؟

 جب میں نے خود کو سنیما سکرین پر دیکھا تو مجھے بہت شرم آئی کہ یہ میرے بس کا کام نہیں

عطااللہ عیسیٰ خیلوی: میرے سامعین خاصے عرصے سے اصرار کر رہے تھے کہ میں بھی کوئی ایسا کام کروں جو جدید موسیقی سے ملتا جلتا ہو۔ لیکن میں چونکہ فولک سنگر ہوں اس لئے کنی کتراتا رہا کیونکہ میں فوک موسیقی کی اورجنیلیٹی کو برقرار رکھنا چاہتا تھا۔ لیکن لوگوں کے بڑھتے ہوئے اصرار اور بدلتے ہوئے حالات کے باعث برمنگھم میں مقیم میرے ایک دوست ڈی جے چینو نے یہ خوبصورت کوشش کی کہ میرے ایک گانے کو ری مکس کیا۔

سوال: آپ کے میوزک ویڈیو دیکر کر احساس ہوتا ہے کہ آپ بھی تجربات تو کر رہے ہیں لیکن آپ کی گائیکی کا انداز ابھی تک ویسے کا ویسا ہی ہے؟ کیا آپ موسیقی میں تجربات کرنے کے حق میں نہیں ہیں؟

عطااللہ لوگوں کے سامنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے

عطااللہ عیسیٰ خیلوی: میرے خیال میں گانے کا ویڈیو تیار کرتے ہوئے شاعری اور گانے کے بولوں کو مدنظر رکھنا چاہئے اور ویڈیوں میں غیر ضروری طور پر ڈانس شامل نہیں کرنا چاہئے تاکہ شاعری کی خوشبو برقرار رہ سکے اور لوگ اپنے کنبے کے ساتھ بیٹھ کر گانےکا ویڈیوں دیکھ سکیں اس لئے میری آئندہ بھی یہی کوشش ہو گی کہ فوک میوزک کی پاکیزگی برقرار رہے۔

سوال: آپ نے آڈیو میوزک سے ہٹ کر فلموں میں صرف ایک جھلک ہی دکھائی اور پھر فلموں سے دور ہو گئے، اس کی کیا وجہ ہے؟

عطااللہ عیسیٰ خیلوی: میں سمجھتا ہوں کہ میں بنیادی طور پر اداکار نہیں تھا۔ مجھے فلم کا زیادہ شوق تھا نہ ہی میں اس شعبے کا آدمی تھا۔ البتہ چند دوستوں کے مجبور کرنے پر میں نے فلموں میں پلے بیک سنگر کے طور پر کام کیا اور پھر کچھ لوگوں نے سوچا کہ فلموں میں شامل کئے جانے والے میرے چند مشہور گانے مجھ پر ہی کیوں نہ فلمائے جائیں؟ اس طرح میرا گانا ’اے تھیوا مندری دا تھیوا‘ جب فلم میں مجھی پر فلمایا گیا تو غالباً فلمی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ سنیما سکرین پر یہ گانا متعدد بار ریوائنڈ کر کے چلایا گیا۔ اس گانے میں لوگوں کو انتہائی پذیرائی حاصل ہوئی لیکن جب میں نے خود کو سنیما سکرین پر دیکھا تو مجھے بہت شرم آئی کہ یہ میرے بس کا کام نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد