| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
لتا پچھہتر کی ہوگئیں
ہندوستان کی نامور گلوکارہ لتا منگیشکر اتوار اٹھائیس ستمبر کو پچھتر برس کی ہوگئیں ہیں۔ ان کے جنم دن کے موقع پر ممبئی کی فلمی صنعت نے موسیقی کے ایک بہت بڑے پروگرام کا اہتمام کیا ہے۔ لتا منگیشکر کی سالگرہ سے شروع ہونے والی یہ تقریبات پورے سال منعقد ہوتی رہیں گی۔ لتا نے سن انیس سو بیالیس میں اپنے والد کے انتقال کے بعد باقاعدہ گلوکاری شروع کر دی تھی۔
پاکستان کے مرحوم ہدایتکار ضیا سرحدی کا کہنا ہےکہ وہ اور پاکستان کی گلوکارہ ملکہِ ترنم نور جہاں ایک مرتبہ لتا منگیشکر کے آبائی علاقے میں گئیں جہاں انہوں نے ایک بچی کو انتہائی سریلی آواز میں گانا گاتے سنا۔ پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ منگیشکر کی بڑی بیٹی لتا ہیں۔ نور جہاں نے لتا کی آواز کی بہت تعریف کی اور کہا کہ اتنی خوبصورت آواز کو فوراً بمبئی میں متعارف ہونا چاہیئے۔ اور یوں ضیا سرحدی کے مطابق لتا منگیشکر کی گلوکاری کا اصل دور شروع ہوا۔ اپنی پچھترویں سالگرہ پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے لتا جی نے کہا کہ ان کے چاہنے والے لوگ ان کا جنم دن منا کر انہیں ایک سرپرائز دینا چاہتے ہیں اور سالگرہ کی تقریبات کو ان سے مسلسل پوشیدہ رکھ رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کی فن کی زندگی بہت بھر پور رہی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر انہیں دوسرا جنم ملے تو وہ کیا وہ گلوکارہ ہی بننا چاہیں گی تو لتا منگیشکر کا جواب تھا کہ ان کی خواہش نہیں کہ وہ کوئی دوسرا جنم لیں۔ لتا منگیشکر نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ پاکستان جا کر بھی اپنے مداحوں کے سامنے اپنے فن کا مظاہرہ کرنا چاہتی تھیں۔ ’ایک مرتبہ پاکستان جانے کا پروگرام بھی طے پایا تھا مگر اس جانب سے کچھ ایسا ہوا کہ میرا پاکستان جانے کا پروگرام ہی منسوخ کر دیا گیا۔‘ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا: ’اگر مجھے پاکستان بلایا گیا تو ضرور جاؤں گی مگر بغیر بلائے تو ہم خدا کے گھر بھی نہیں جائیں گے۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||