BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 22 August, 2006, 00:59 GMT 05:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وہ سُر میں الوہیت کے متلاشی تھے

بسم اللہ خان
شہنائی فٹ بھر کی نرسل ہی تو ہے مگر لکڑی کا یہ بے جان ٹکڑا بسم اللہ خان کے ہونٹوں سے چھو جاتا تو نرتے سمراٹ ہو جاتا
26 جنوری، 1951 آزاد ہندوستان کا پہلا یوم جمہوریہ تھا۔ پنڈت نہرو، راجندر پرشاد، سردار پٹیل اور مولانا آزاد لال قلعے کی تقریبات میں شریک تھے۔ کوئی 35 برس کا ایک فنکارشہنائی ہاتھ میں لیئے سٹیج پر نمودار ہوا اور راگ کافی کی دھن چھیڑ دی۔ شہنائی کے واضح اور بھرپور سُر فضا میں پھیل گئے۔ لال قلعے کی فصیلوں پر ابابیلیں اترنے لگیں۔ قریب ہی ہمایوں کے مقبرے کی سیڑھیوں پر سے وہ تلچھٹ دھلنے لگی جو میجر ہڈسن نے بہادر شاہ ظفر کو یہاں گرفتار کر کے ہندوستان پر تھونپی تھی۔ شہنائی کے یہ جادوگر فنکار بسم اللہ خان تھے۔

مندروں کے شہر بنارس میں گنگا کنارے بسنے والے بھارت رتن استاد بسم اللہ خان کا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے تن تنہا شہنائی کی سیتا کو ڈوم ڈھاریوں کے نرغے سے نکال کر موسیقی کے بلند ترین معیار سے روشناس کرایا۔ شہنائی فٹ بھر کی نرسل ہی تو ہے مگر لکڑی کا یہ بے جان ٹکڑا بسم اللہ خان کے ہونٹوں سے چھو جاتا تو نرتے سمراٹ ہو جاتا۔ شہنائی کے ساز پر بسم اللہ خان انگلیاں رکھتے تو کاشی دوار میں مندروں کے کلس سنہری ہو جاتے، دلوں میں مسرت آمیز نیکی کا وفور ہونے لگتا۔

1937 کا برس تھا۔ کلکتہ میں کل ہند موسیقی کانفرنس میں استاد بسم اللہ خان نے شہنائی بجائی تو راگ ودیا کے پارکھ اس ساز کے امکانات سے آگاہ ہوئے۔

شہنائی کے ساز پر بسم اللہ خان انگلیاں رکھتے تو کاشی دوار میں مندروں کے کلس سنہری ہو جاتے، دلوں میں مسرت آمیز نیکی کا وفور ہونے لگتا

بسم اللہ خان نے تب سے مُڑ کر نہیں دیکھا۔ ممبئی میں سُر سنگار سمیلن ہر برس اپریل میں منعقد ہوتا ہے۔ کوئی 40 برس اس سنگت کا آغاز استاد بسم اللہ کی شہنائی سے ہوا کیا۔ بھارت کا کونسا رہنما ہے جس نے بسم اللہ خان کی شہنائی نہیں اٹھائی۔ پدم شری، پدم بھوشن، اور پھر پدم وی بھوشن سے لے کر بھارت رتن تک ہندوستان کا کونسا اعزاز تھا جو بسم اللہ خان پر نچھاور نہیں کیا گیا۔

استاد عبدالکریم خان اور پنڈت اوم کار ناتھ کے بعد استاد بسم اللہ خان تیسرے فنکار تھے جنہیں سُر میں الوہی کیفیت کی جستجو تھی۔ استاد بسم اللہ راگ میں ڈوب جاتے تو وارفتگی اور عبودیت میں فاصلہ نہیں رہتا تھا۔ سُر ورشا سننے والوں پر یوں اُترتی تھی جیسے کوئی عارف اپنے پیروکاروں میں گیان کے موتی بانٹتا ہے۔ شہنائی سے کھیلتی انگلیاں اور کہیں دور ٹکِی آنکھیں راگ کے وسیلے سے زندگی کے اس گیان کو پانا چاہتی تھیں جو فن کے بندھے ٹکے قاعدوں کی جکڑ میں نہیں آ سکتا۔

استاد نے فرمایا ۔۔۔
 سُر ایسا سُچا موتی اور صاف جل ہے کہ اس میں کھوٹ اور کپٹ نہیں ہو سکتی۔ چاہو تو سُر کے گھاٹ ہی پہ رہو اور چاہو تو اثر کے ساگر میں اتر جاؤ

استاد فرماتے تھے کہ سُر ایسا سُچا موتی اور صاف جل ہے کہ اس میں کھوٹ اور کپٹ نہیں ہو سکتی۔ چاہو تو سُر کے گھاٹ ہی پہ رہو اور چاہو تو اثر کے ساگر میں اتر جاؤ۔ حلال اور حرام کی جکڑ بندیوں میں الجھے کسی کٹ حجتی نے استاد کو دِق کیا تو قدرے جھلا کے کہا ُُُُسات شدھ اور پانچ کومل سُروں کی یہ مالا ہمارے لیئےتو مالک تک پہنچنے کا وسیلا بن گئی۔ اگر یہ حرام ہے تو اور حرام کرو، اور حرام کرو۔ ’چرچل نے بھی تو کہا تھا کہ اگر جمہوریت میں خرابیاں ہیں تو جمہوریت تھوڑی زیادہ کر دو‘۔

سادھارن روپ میں جیون کرنے والا یہ کبیر پنتھی نئے بھارت میں مذہبی رواداری اور رنگا رنگ کشادگی کا نشان تھا۔ فجر کی نماز ادا کیے بغیر ریاض نہیں کرتے تھے اور ریاض برسوں بنارس کے وشواناتھ مندر میں کیا۔

آزاد ہندوستان کا پہلا یوم جمہوریہ تھا۔ پنڈت نہرو، راجندر پرشاد، سردار پٹیل اور مولانا آزاد لال قلعے کی تقریبات میں شریک تھے۔ کوئی 35 برس کا ایک فنکارشہنائی ہاتھ میں لیئے سٹیج پر نمودار ہوا اور راگ کافی کی دھن چھیڑ دی۔ شہنائی کے یہ جادوگر فنکار بسم اللہ خان تھے

ریکارڈنگ کے لیئے چپکے سے کہہ دیتے کہ نماز سے پہلے ختم کر لی جائے۔ بنارس کے اہل تشیع مسلمان آئندہ محرم میں امام بارگاہ کے صحن میں کھڑے نیم کے پیڑ کے نیچے آنسؤوں میں بھیگا وہ باریش چہرہ نہیں دیکھیں گے جو سفید براق کرتا پہنے زمین پہ بیٹھا ہولے ہولے پڑھتا تھا ’آیا ہے کربلا میں غریب الوطن کوئی‘

فن کے اعلٰی ترین امکانات فنکار میں کیسے تجسیم پاتے ہیں، یہ جاننے کے لیئے استاد بسم اللہ خان کو دیکھنا کافی تھا۔ وضع قطع میں بانکپن مگر بانکا پن نہیں، روّیے میں معصومیت مگر لاعلمی نہیں، رکھ رکھاؤ میں رعونت نہیں، بس اپنے مقام کا ان کہا احساس۔ دنیا بھر کی یونیورسٹیوں سے اعلٰی ترین اعزازی ڈگریاں پانے والے بسم اللہ خان سائیکل رکشہ پر سفر کرتے تھے۔ سستے سگریٹ کا رنج کھینچتے تھے۔ شہر سے باہر جانا ہوتا تو ریل کے دوسرے درجے میں سفر کرتے۔ مگر بسم اللہ خان کی انگلیوں کا جادو بھارت ہی نہیں دنیا کے ہر اُس کونے میں بول رہا ہے جہاں ہندوستانی موسیقی سنی جاتی ہے۔

استاد نے 21 مارچ 1916 کو بہار کے گاؤں دمراؤں) ضلع بکسر (میں جنم لیا تھا۔ 21 اگست 2006 کی صبح واراناسی کے Heritage )ورثہ( ہسپتال کے پیڑوں پہ چڑیاں چہچہا رہی تھیں اور دور کہیں بھیرویں کے بول ’جوگی مت جا مت جا مت جا۔۔۔‘ ابھی ہوا میں رچ رہے تھے کہ استاد نے آنکھیں موند لیں۔ شہنائی خاموش ہو گئی۔

(وجاہت مسعود انسانی حقوق، صحافت اور تعلیم کے شعبوں میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ ادبی اور سیاسی موضوعات پر متعدد کتابوں کے مصنف ہیں اور آج کل برطانیہ میں بین الاقوامی قانون کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔)

بسم اللہ خان واہ، بسم اللہ خان
وہ عناصرمیں ظہورِ موسیقی کے خالق تھے
استاد بسم اللہ خان شہنائی کا دور ختم
عالمی شہرت یافتہ استاد بسم اللہ خان کا انتقال
استاد بسم اللہ خان شہنائی خاموش ہے
گنگا کنارے بجنے والی شہنائی خاموش ہوگئی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد