امراؤ جان – ایک بار پھر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج سے سو برس پہلے لکھے جانے والے مرزا محمد ہادی رسوا کے ناول پر اب تک ہزاروں فلمیں بن چکی ہیں۔ جی ہاں، ذرا ذہن پر زور دیکر سوچئیے تو خود آپکو کتنی ہی ایسی فلمیں یاد آجائیں گی جن میں ایک اغوا شدہ بچّی کو طوائف کے کوٹھے پر فروخت کر کے اسکی بقیہ زندگی ناچ گانے سے وابستہ کر دی جاتی ہے۔ نخشب کی ٰ زندگی یا طوفان ٰ ہو یا ایس ایم یوسف کی مہندی، کمال امروہی کی ٰ پاکیزہ ٰ ہو یا راج کھوسلہ کی ٰ تُلسی تیرے آنگن کی ٰ ہر جگہ آپکو ایک سجی بنی طوائف کسی شریف زادے کا انتظار کرتی نظر آئے گی جو اسے طبلے کی تھاپ اور گھنگھرؤں کی جھنکار سے آزاد کر کے گھریلو چار دیواری کی پناہ میں لے جائے۔ خاموش فلموں کا دور ختم ہوتے ہی ایسی کہانیوں کی مانگ بڑھ گئی تھی جن میں ڈرامائی مکالمے کے ساتھ ساتھ رقص و موسیقی کا اہتمام بھی کیا جا سکے۔ چونکہ ایک وسیع تر تناظر میں پاک و ہند کی ہر تیسری فلم امراؤ جان ہی کی کہانی پیش کرتی تھی اس لئے خود مرزا ہادی رسوا کے ناول کو فلمانے کا خیال بیسویں صدی کی ساتویں دہائی تک کسی کو نہ آیا۔ مرزا ہادی رسوا کا ناول 1905 میں منظرِ عام پر آیا تھا اور اب تک اُردو خواں طبقے کی کئی نسلیں اسے پڑھ چکی ہیں۔ مختلف درجوں میں اُردو زبان اور ادب کے نصاب کا حصّہ ہونے کے سبب طالب علموں کی کئی پیڑھیاں اسے ضرورتاً بھی پڑھتی رہی ہیں اور اُردو بازار کے ناشرین اسکی گائیڈیں اور خلاصے چھاپ کر خاصا مال بھی کماتے رہے ہیں۔ سو برس تک ناقدینِ ادب کی نوکِ قلم تلے رہنے کے سبب یہ ناول طرح طرح کی تشریحات اور انوکھی تاویلات کا نشانہ بھی بنتا رہا ہے جن میں دلچسپ ترین توضیح غالباً ترقی پسند نقّاد صفدر میر کی ہے جن کے بقول امراؤ جان ادا اصل میں انگریزوں کے اس سیاسی جبر کا قصّہ ہے جو انھوں نے اودھ پر اپنے حریصانہ قبضے کے لئے روا رکھا، لیکن حکمرانوں کے سینسر سے بچنے کےلئے مصنّف نے اس غاصبانہ قبضے کی کہانی پر شعر و شاعری کا گاڑھا لیپ کر کے اس پر ناچ گانے کی پھول پتیاں چپکا دی ہیں۔ ناول میں امیرن نام کی ایک آٹھ سالہ بچّی اپنے گاؤں سے اغوا ہوتی ہے اور لکھنؤ پہنچ کر خانم نامی ایک مادام کے ڈیرے پر فروخت کر دی جاتی ہے۔ خانم ہی کی تربیت میں یہ لڑکی شعر و ادب سے آشنا ایک با ذوق رقاصہ کی صورت میں جوان ہوتی ہے اور اپنے کوٹھے پر آنے والوں کے شوقِ رقص و موسیقی کے ساتھ ساتھ اُن کے ذوقِ شعر و سخن کی بھی تسکین کرتی ہے۔ کوٹھے پر آنے والوں میں ایک نواب سلطان بھی ہیں جنھیں امراؤ دِل دے بیٹھی ہے۔ تاہم جب زندگی بھر ساتھ نبھانے کا سوال آتا ہے تو نوجوان نوّاب اپنے گھر والوں کی مرضی کے سامنے سر تسلیم خم کر کے ایک خاندانی بہو لانے پر راضی ہوجاتے ہیں۔
کہانی میں ایک ڈرامائی موڑ اُس وقت آتا ہے جب لکھنؤ پر گوروں کی فوج کا حملہ خانم کے ڈیرے والوں کو راہِ فرار اختیار کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ امراؤ اور اُس کے ساتھیوں کا قافلہ لکھنؤ سے باہر ایک قصبے میں پڑاؤ ڈالتا ہے تو امراؤ یہ دیکھ کر حیران رہ جاتی ہے کہ حالات اسے فیض آباد میں واپس لے آئے ہیں، یعنی اُسی قصبے میں جہاں سے وہ آٹھ برس کی عمر میں اغوا ہوئی تھی۔ اہلِ خانہ سے ملاقات کا ایک انتہائی جذباتی منظر پیش آتا ہے لیکن اپنی تمام تر محبت کے باوجود وہ ایک طوائف کو اپنے فردِ خانہ کے طور پر قبول کرنے سے معذور ہیں چنانچہ امراؤ واپس اپنے اڈے پر آجاتی ہے اور پہلے کی طرح شعر و سخن اور رقص و موسیقی کے دامن میں پناہ حاصل کرتی ہے۔ پاکستانی امراؤ جان ادا میں حسن طارق نے خالص کمرشل ضروریات کے تحت بہت سی تبدیلیاں کر دی تھیں اور بالا خانے پر لڑائی مار کُٹائی کے کئی منظر ڈالنے کے ساتھ ساتھ اُس زمانے کے مقبول کامیڈین رنگیلا کو کہانی کا جزو بنایا تھا۔ پاکستانی امراؤ جان ادا کی کامیابی کا سہرا سکرین پلے رائیٹر اور شاعر سیف الدین سیف کے سر بندھتا ہے اور اس اعزاز میں اُن کا واحد حصّے دار میوزک ڈائریکٹر نثار بزمی ہے۔ اداکاروں میں رانی اور شاہد کے مرکزی کرداروں کے علاوہ نیّر سلطانہ قابلِ ذکر ہیں جہنوں نے خانم کا کردار ادا کیا۔
فلم کے انجام پر رانی کا والہانہ رقص اور نغمہ ٰٰ آخری گیت سنانے کے لئے آئے ہیںٰٰ ایک ایسا کلائیمکس ثابت ہوا جو عرصہ دراز تک فلم بینوں کے ذہن پر نقش رہا۔ 1981 میں بمبئی کے فلم ساز اور ہدایتکار مظفر علی نے اس ناول کو فلمانے کی ٹھانی لیکن کچھ اس انداز سے کہ مرزا رسوا کی سنائی ہوئی کہانی کو اوّلیت حاصل رہے اور کمرشل تقاضے مرزا کے بیانئے پر اثر انداز نہ ہوں۔ مظفر علی نے امراؤ کے لئے اداکارہ ریکھا کا انتخاب کیا جو کہ پاک و ہند کی فلمی تاریخ میں بہترین کاسٹنگ کی ایک مثال کے طور پر ہمیشہ زندہ رہے گا۔ نواب سلطان کے لئے فاروق شیخ بھی انتہائی موزوں ثابت ہوئے۔ بالا خانے کی مالکن خانم کا کردار کیفی اعظمی کی بیگم اور شبانہ کی والدہ شوکت اعظمی نے انتہائی خوبصورتی سے ادا کیا۔ انگریزوں کے لکھنؤ پر حملے کے بعد جب امراؤ کا قافلہ فیض آباد جا پہنچتا ہے اور امراؤ کو یاد آجاتا ہے کہ یہ تو اسکا آبائی گاؤں ہے تو وہ درد کی سروں میں یہ گیت گاتی ہے ٰ یہ کیا جگہ ہے دوستو، یہ کونسا مقام ہے ٰ موسیقار خیام نے طرز بنانے پر جان توڑ محنت کی ہے اور جس طرح ناول میں یہ موڑ انتہائی اہم ہے اسی طرح مظفر علی کی فلم میں بھی اس گانے کی بدولت کہانی کا یہ موڑ اہم ترین بن جاتا ہے۔ کاسٹنگ میں احتیاط برتنے کے ساتھ ساتھ مظفر علی نے اصل ناول کی زبان کے قریب قریب رہنے کی کوشش کی ہے۔ مرزا رسوا کے لکھنوی محاورے کو بغیر زیادہ قطع برید کے نئے فلم بینوں کی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کا کام آسان نہ تھا چنانچہ ہدایتکار نے اپنے لکھے ہوئے سکرپٹ کو مزید نکھارنے اور سنوارنے کےلئے جاوید صدیقی اور شمع زیدی کی مدد بھی حاصل کی اور اس طرح مظفر علی کی امراؤ جان سن اسّی کے عشرے کی ایک اہم ترین فلم بن گئی۔
مرزا رسوا نے اپنے ناول میں فلیش بیک کی تکنیک استعمال کی تھی یعنی امراؤ جان کی زبانی اُسکے ماضی کا احوال مختلف ٹکڑوں میں بیان کیا تھا۔ جے۔ پی دتہ بنیادی طور پر بیانئے کے اسی اندز سے متاثر ہوئے تھے چنانچہ فلم میں بھی امراؤ جان کی داستانِ ماضی اسی طرح فلیش بیک کے ذریعے فلم بینوں پر واضح ہوتی ہے۔ اس مرتبہ امراؤ جان کا کردار ایشوریا رائے ادا کر رہی ہیں، نواب سلطان کےلئے ابھیشیک بچن کو چنا گیا ہے، فیض علی ڈاکو کا رول سنیل شیٹھی نے نبھایا ہے جبکہ خانم جان کا کردار شبانہ اعظمی نے ادا کیا ہے اور فلم کے گیت اُن کے شوہر جاوید اختر نے لکھے ہیں۔ انو ملک کی موسیقی کے ساتھ ساتھ ہدایتکار بہت حد تک فلم کے آخری رقص پر انحصار کر رہا تھا جس میں بھاری ملبوسات کے ساتھ ایشوریا رائے کو کتھک کے تیز تیز قدم اُٹھانے تھے لیکن شوٹنگ کے دوران واضح ہوا کہ اتنے بھاری لباس میں اتنا تیز کتھک ممکن نہیں چنانچہ کوریو گرافر وبھئی مرچنٹ نے سیٹ پر ہی کتھک کی تیز گامی کو کچھ لگام دی اور کلاسیکی حرکات و سکنات کی جگہ آسانی سے سمجھ میں آنے والے ٰسٹیپٰ متعارف کرائے جن سے نہ صرف ایشوریا کا کام آسان ہوگیا بلکہ ناظرین کی تفننِ طبع کا سامان بھی ہوگیا۔ دنیا بھر کی زبانوں میں کلاسیکی ناول ہر پندرہ بیس برس کے بعد نئے سرے سے فلمائے جاتے ہیں، ہمارے یہاں یہ تجربہ فی الحال بنگالی ناولوں تک محدود رہا ہے۔ امراؤ جان اُردو کا پہلا ناول ہے جِسے تیسری بار فلم بند ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ یہ روایت کہاں تک آگے بڑھتی ہے، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہندوستان میں اور بیرونِ ہندوستان اس فلم کے ناظرین کس حد تک اس کی پذیرائی کرتے ہیں۔ |
اسی بارے میں ڈگلس انڈیا میں فلم بنائیں گے26 January, 2005 | فن فنکار ’لالو‘ کی فلم پر پابندی30 January, 2005 | فن فنکار بالی ووڈ بلیک ہو گیا04 February, 2005 | فن فنکار سونامی: لولی بولی ووڈ ستارے ساتھ 08 February, 2005 | فن فنکار عیسائی بالی وُڈ سے ناراض21 February, 2005 | فن فنکار ’چاند بجھ گیا‘ نمائش کے لیے تیار01 March, 2005 | فن فنکار بالی ووڈ کا میڈ ان پاکستان 15 March, 2005 | فن فنکار ’اچھے مارکیٹنگ سسٹم کی ضرورت‘14 April, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||