کہیں مایوسی کے بادل تو کہیں امید کی کرن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سنہ دو ہزار چھ میں جہاں کھیل کی دنیا میں ہندوستان نے اعزازات جیتے تو وہیں کچھ معاملات وجہ تنازعہ بھی بنے۔ نئے کھلاڑی چمکے تو پرانے کھلاڑیوں کی شاندار واپسی ہوئی۔ ایک جانب تو ہندوستان نے دولتِ مشترکہ کھیلوں میں بائیس طلائی تمغے جیتے تو دوسری جانب کرکٹ میں کھلاڑیوں کی بری کارکردگی کے حوالے سے کھیل کے ناقدین سے لے کر پارلیمانی رہنماؤں تک نے کھلاڑیوں اور کوچ پر تنقید کی۔ کل ملا کر یہ ایک ایسا سال ثابت ہوا جو کھیل کی تاریخ میں اچھی اور بری دونوں وجوہات کی بنا پر یاد کیا جائےگا۔ سب سے پہلے بات انڈیا میں کھیلوں کے سرتاج یعنی کرکٹ کی۔ سال دو ہزار چھ کرکٹ کے حوالے سے کسی بڑے اعزاز یا عمدہ جیت کے لیے تو شاید ہی یاد رکھا جائے تاہم اسے سوروگنگولی کی کرکٹ میں واپسی، سابق کوچ جان رائٹ کی کتاب انڈین سمرز کے تنازعے، ڈالمیا کی بی سی سی آئی سے چھٹی اور ماسٹر بلاسٹر سچن تندلکر کے ون ڈے میں چودہ ہزار رنز بنانے کے لیےضرور یاد کیا جائے گا۔ سال کی شروعات میں ہندوستان نے اپنے روایتی حریف پاکستان کا دورہ کیا اور جنوری فروری میں کھیلی جانے والی ٹیسٹ سیریز ایک،صفر سے ہار گیا لیکن ون ڈے سیریز میں اسے چار،ایک سے فتح نصیب ہوئی۔
اس کے بعد ہندوستان اور انگلینڈ کے درمیان کھیلی گئي سیریز برابر رہی لیکن ون ڈے میں ایک مرتبہ پھر بھارت کو کامیابی ملی اور بھارتی ٹیم نے انگلینڈ کو پانچ ایک سے شکست دی۔ ایک روزہ مقابلوں میں جیت کا یہ سفر زیادہ طویل ثابت نہ ہو سکا اور فتوحات کا یہ سلسلہ ویسٹ انڈیز میں ختم ہوا تاہم اس مرتبہ فتح کی دیوی ٹیسٹ میچوں میں بھارت پر مہربان رہی۔ بھارت اور سری لنکا کے درمیان ہونے والے مقابلے بم دھماکوں اور بارش کی نظر ہوگئے اور ٹیم اس سیریز میں بنا کھیلے ہی گھر واپس آگئي۔ اس کے بعد ٹیم کی بری فارم چیمپئنز ٹرافی میں بھی شکست کا سبب نہیں اور انڈین ٹیم لیگ مقابلوں میں ہی باہر ہوگئی۔ چیمپئنز ٹرافی میں شرمناک ہار کے بعد ہندوستانی ٹیم کی خراب کارکردگی کا سلسلہ جاری رہا اور جنوبی افریقہ میں کھیلی گئی سیریز میں اسے چار صفر سے ہزیمت اٹھانا پڑی۔
ہندوستانی کرکٹ میں یہ تنازعات کا سال بھی رہا۔ ٹیم کے سابق کوچ جان رائٹ کی کتاب ’انڈین سمرز‘ نے اس برس اگست کے مہینے میں کرکٹ کی دنیا میں ہل چل مچا دی۔ جان رائیٹ نے اپنی کتاب میں کہا کہ ہندوستان میں ٹیم سیلکٹرز علاقے کی بنیاد پر کھلاڑی سلیکٹ کرتے ہیں۔ سورو گنگولی کی واپسی کے حوالے سے بھی کھیلوں کی دنیا میں اٹکلیں لگتی رہیں اور آخرِ کار دسمبر میں ہندوستان کے جنوبی افریقہ کے دورے سے پہلے سورو گنگولی کو ٹیسٹ ٹیم میں واپس لایا گیا اور پہلے ٹیسٹ میں سورو نے اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا اور بھارت پہلی مرتبہ جنوبی افریقہ کی سر زمین پر ٹیسٹ میچ جیتنے میں کامیاب ہوا۔ دسمبر کے مہینے میں ہی بی سی سی آئی کے سابق صدر جگموہن ڈالمیا کو بدعنوانیوں کے الزام میں بی سی سی آئی نے بورڈ کے کسی بھی عہدے پر فائز نہ رہنے کی سزا دی۔ ڈالمیا بورڈ کے اس فیصلے کے خلاف تین سال بعد ہی اپیل کر سکتے ہیں۔ ایسا ہی نہیں کہ اس سال ہندوستانی کرکٹ ٹیم صرف تنازعے اور ہار سے ہی دوچار رہی۔ ٹیم میں بعض کھلاڑی چمکے تو وہیں بعض نے ریکارڈ بنائے۔ تندولکر ون ڈے میں چودہ ہزار رنز بنانے والے پہلے کھلاڑی بن گئے اور راہول ڈریوڈ سو ٹیسٹ کھیلنے والے چھٹے بھارتی کھلاڑی بن گئے تو وہیں نئے چہروں میں سریسانتھ اپنے اچھے کھیل کی وجہ سے خوب چمکے اور جنوبی افریقہ کی پچ پر ان کے بریک ڈانس کا لطف شائقین نے خوب اٹھایا۔
ایک جانب جہاں مردوں کی ٹیم دنیا کے کھیل کے میدان میں شرمسار ہوتی رہی وہیں دوسری جانب کرکٹ کی پچ پر خواتین کھلاڑیوں نے کامیابیاں سمیٹیں۔ خواتین کرکٹ ٹیم نے تیسری بار ویمن ایشین کپ جیت کر ہیٹ ٹرک بنائی۔ اب بات قومی کھیل ہاکی کی۔ ہاکی اپنے ہی مادری وطن میں دم توڑتی نظر آئی۔ میلبرن میں کھیلے گئے دولتِ مشترکہ کھیلوں میں ہندوستان دس ممالک میں چھٹے مقام پر رہا اور خواتین ہاکی ٹیم کو سلور میڈل پر اکتفا کرنا پڑا۔ ایشین گیمز دوحہ میں ہاکی ٹیم کو پانچواں مقام حاصل ہوا تو وہیں ازلان شاہ ہاکی کپ میں اسے کانسی کا تمغہ ملا اور سال کے آخر میں بری خبر یہ ملی کہ خراب رینکنگ کے سبب انہیں آئندہ اولمپکس کھیلنے کے لیے اسے کوالیفائنگ میچ کھیلنے پڑیں گے۔
ہاکی کے بعد بات ایک ایسے کھیل کی جو اس بار خوب چمکا۔ جی ہاں بات ہو رہی ہے نشانہ بازی کی۔ شوٹنگ میں اس برس کامن ویلتھ گیمز میں سمریش جنگ پانچ گولڈ میڈل جیت کر کامن ویلتھ کے بہترین کھلاڑی یعنی ڈیوڈ ڈکسن ایوارڈ کے حقدار بنے۔ جسپال رانا نے ایشیائی کھیلوں میں طلائی تمغہ جیتا جبکہ راجوردھن سنگھ راٹھور کو کانسی کا تمغہ ملا۔ اس کارکردگی کے بعد امید کی جا سکتی ہے کہ آئندہ دو ہزار دس میں ہندوستان میں ہونے والے کامن ویلتھ گیمز میں یہ کھلاڑی اور چمکیں گے۔ ٹینس کا حال بھی برا نہیں رہا۔ ایک طرف لیئنڈر پیس نے ستمبر کے مہینے میں مینز ڈبل یوایس اوپن کا خطاب جیتا تو وہیں مہیش بھوپتی نے اس برس آسٹریلین اوپن میں مکس ڈبلز کا خطاب جیتا۔ ٹینس کی اسٹار ثانیہ مرزا اس برس کی شروعات میں خراب فارم اور فٹنس کو لے کر جھوجھتی رہیں لیکن ستمبر کے مہینے میں کولکتہ میں سن فیسٹ ٹورنامنٹ میں پہلے سیمی فائنل میں پہنچیں اور پھر ایشیائی کھیلوں میں ایک گولڈ اور سلور میڈل کے ساتھ ثانیہ نے اس سال کا اختتام کیا۔
دوحہ گیمز کے بعد ٹینس کی دنیا کو ایک جھٹکا اس وقت لگا جب مہیش بھوپتی اور لیئنڈر پیس نے ایک مرتبہ پھر ساتھ نہ کھیلنے کا اعلان کیا۔ ٹینس میں ثانیہ کا جادو پھیکا پڑا تو بیڈمنٹن میں سائنہ کا سورج چمکا۔ یہ برس بیڈمنٹن میں سائنہ کی کامیابی کے لیے یاد رکھا جائےگا۔ مئی کے مہینے میں سائنہ نے فلپائن اوپن جیتا اور پھر کامن ویلتھ کھیلوں میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ وہ ورلڈ جونیئر چیمپئن شپ میں بھی رنر اپ رہیں۔ بیڈمنٹن میں ہندوستان نے جنوبی ایشیائی کھیلوں میں بھی پانچ گولڈ اور چار سلور میڈلز جیتے۔ ہندوستانی اس سال گولف کے میدان میں بھی پیچھے نہیں رہے۔ اس برس انڈین گولفر جیو ملکھا سنگھ ’ہیرو‘ بن کر ابھرے۔ انھوں نے وولوو ماسٹر کے خطاب کے علاوہ چار اہم ٹائٹل جیتے۔ انہیں ’پلیئر آف دی پلیئرز‘ کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ جیو پہلے ایسے بھارتی کھلاڑی ہیں جو آئندہ برس آگستا ماسٹر ٹورنامنٹ کھیلیں گے۔
بات اب ایتھلیٹکس کی۔ 2006 ہندوستانی ایتھلیٹکس میں خطابات کے لیے کم تنازعات کے لیے زیادہ یاد کیا جائےگا۔ ایک طرف سمیا انٹی ڈوپنگ معاملے میں ملوث پائی گئیں اور ایشین گیمز کے لیے دوحہ نہیں جاسکیں تو وہیں دوحہ گیمز کے دوران ایتھلیٹ سانتھی سندراجن کو جنس ٹیسٹ پاس نہ کرنے پر تنازعہ کا سامنا کرنا پڑا۔ ایشین گیمز دوحہ میں خواتین ریلے ٹیم نے ایک گولڈ میڈل جیتا جبکہ میلبرن میں ایتھلیٹکس میں انڈیا کو صرف دو چاندی اور دو کانسی کے تمعوں پر اطمینان کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ خواتین کی باکسنگ میں انڈیا نے جونیئر باکسنگ چیمپئن شپ کا خطاب جیتا جبکہ شطرنج میں ایشیائی کھیلوں میں سونے کا تمغہ جیت کر کونیرو ہمپی ایک ابھرتی ہوئی کھلاری کی شکل میں سامنے آئیں۔ کل ملا کر یہ برس بھارتی کھیلوں کے لیے ایک ایسا برس رہا جس میں بعض کھیل دھندلے پڑے تو بعض کھیل نوجوان کھلاڑیوں کے سبب خوب چمکے اور بعض کھلاڑیوں کی لگاتار اچھی پرفارمنس نے امید جگائی کہ منزلیں اور بھی ہیں۔ |
اسی بارے میں طلباء کا نیا کرکٹ ریکارڈ 16 November, 2006 | کھیل ’گڈ بائے میلبورن، سی ُیو اِن دلّی‘27 March, 2006 | کھیل چمکتے تمغے، بلند عزائم17 August, 2006 | کھیل سیف طلائی: انڈیا113، پاکستان 41 27 August, 2006 | کھیل ایشین گیمز کی تیاریاں جاری31 October, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||