’گڈ بائے میلبورن، سی ُیو اِن دلّی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جہاں ایک طرف سنہ 2006 کے دولتِ مشترکہ کھیلوں کے کامیاب انعقاد کے بعد میلبورن میں زندگی معمول کی جانب لوٹ رہی ہے وہیں انڈیا کے دارالحکومت دلّی میں سنہ 2010 کے دولتِ مشترکہ کھیلوں کی تیاریوں کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔ ایک ارب سے زیادہ آبادی والا یہ ملک 2010 میں پہلی مرتبہ دولتِ مشترکہ کھیلوں کی میزبانی کرے گا اور ان کھیلوں کے انعقاد کے سلسلے میں بنائی جانے والی انڈین کمیٹی کے سربراہ سریش کلماڈی کا کہنا ہے کہ’ میلبورن میں اختتامی تقریب ختم ہوتے ہی دباؤ دلّی پر منتقل ہو گیا ہے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ ہم پر بہت بڑی ذمہ داری ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ لوگ دہلی کے کھیل دیکھ کر حیران رہ جائیں گے۔ ہم دنیا کو دکھا دیں گے کہ انڈیا کیا کر سکتا ہے‘۔ کلماڈی اور ان کے معاون اب ان کھیلوں کی تیاری اور انعقاد کے سلسلے میں حتمی منصوبے بنائیں گے۔ یہ کھیل سنہ دو ہزار دس میں تین سے دس اکتوبر تک منعقد ہوں گے۔
حالیہ دولتِ مشترکہ کھیلوں میں انڈین کھلاڑیوں کی شاندار کاکردگی سے ان کھیلوں کی تیاری کو بھی تقویت پہنچےگی۔ جہاں انڈیا کے نشانے باز سمریش جنگ کو پانچ طلائی تمغے جیتنے پر ان کھیلوں کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا وہیں میلبورن گیمز میں انڈیا پہلی مرتبہ ٹیبل ٹینس کے کھیل میں طلائی تمغے جیتنے میں کامیاب ہوا۔ انڈیا کے لیئے شرد اچانتا نے مردوں کے ٹیبل ٹینس ایونٹ میں دو طلائی تمغے حاصل کیے۔ اسی طرح خواتین کے ڈسکس تھرو مقابلوں میں بھی پہلی بار کسی انڈین خاتون نے چاندی کا تمغہ جیتا۔ تمغوں کی مجموعی تعداد کے حساب سے انڈیا ان کھیلوں میں چوتھے نمبر پر رہا۔ تاہم انڈین ٹیم دلّی کے کھیلوں میں اس پوزیشن کو بہتر بنانا چاہتی ہے۔ میلبورن کھیلوں میں حصہ لینے والے انڈین دستے کے مینیجر گربیر سنگھ کا کہنا ہے کہ’ ہم دہلی میں دوسری پوزیشن حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس سلسلے میں ہم انڈین اولمپک کمیٹی کے ساتھ کام کر رہے ہیں تاکہ ملک میں کھیلوں کے معیار میں اضافہ کیا جا سکے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ ہمیں جمناسٹک،تیراکی اور ایتھلیٹکس کے شعبوں میں توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ ان میں بہت سے میڈل جیتے جا سکتے ہیں۔ ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے سو اس میں مردوں اور خواتین دونوں ٹیموں کو طلائی تمغے جیتنے چاہیئیں‘۔ انڈیا اپنے کھلاڑیوں کی فلاح وبہبود اور تربیت کے لیئے آئندہ چار برس میں ایک بڑی رقم خرچ کرنے کا ارادہ بھی رکھتا ہے۔ تجارتی اداروں کی امداد اور سپانسر شپ کے علاوہ حکومت خود بھی عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کے لیئے نقد انعامات کا اعلان کرنے کا منصوبہ بنا چکی ہے۔ میلبورن میں ایک گولڈ میڈ جیتنے والے کھلاڑی کے لیئے بارہ ہزار امریکی ڈالر کے مساوی انعامی رقم تو ہے ہی لیکن مستقبل میں انعامی رقم کا دارومدار اس بات پر بھی ہو گا کہ کھلاڑی نے تمغہ کتنے بڑے مقابلے میں جیتا ہے۔ 2010 کے دہلی کھیلوں کی مدد سے انڈیا کو یہ موقع بھی ملے گا کہ وہ دنیا کے سامنے اپنے آپ کو ایک ثقافتی اور معاشی طاقت کے طور پر پیش کر سکے۔
اس سلسلے کا اغاز تو میلبورن گیمز کی اختتامی تقریب میں ہی ہو چکا ہے جہاں انڈین فلمی صنعت کے نمایاں ستاروں نے اپنی پرفارمنس سے حاضرین و ناظرین کا دل موہ لیا تھا۔ انڈین دستے کے مینیجر گربیر سنگھ کا کہنا ہے کہ’جدید اور قدیم کے روایتی امتزاج والی انوکھی ثقافت کی وجہ سے انڈیا میں ہونے والے کھیل سب سے الگ ہوں گے‘۔ ان کھیلوں کے سلسلے میں جہاں دہلی میں موجود سٹیڈیموں اور دیگر کھیلوں سے متعلق انتظامات کو بہتر کیا جائے گا وہیں نئےانتظامات بھی کیئے جائیں گے۔ ان انتظامات میں چالیس ایکڑ رقبے پر نئے ایتھلیٹ ولیج کی تعمیر بھی شامل ہے۔ اگر چار برس کے عرصے میں انڈیا ایک کامیاب دولتِ مشترکہ کھیلوں کے انعقاد میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ انڈین کھیلوں کے حتمی خواب یعنی انڈیا میں اولمپک کھیلوں کے انعقاد کی جانب ایک بڑا قدم ہوگا۔ | اسی بارے میں میلبورن میں سیف اور رانی کا بھنگڑہ26 March, 2006 | فن فنکار انڈیا کے مزید 3 طلائی تمغے17 March, 2006 | کھیل کامن ویلتھ: انڈیاکی تیسری پوزیشن24 March, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||