BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 January, 2006, 19:26 GMT 00:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خواتین کرکٹ: بھارت ایشیائی فاتح

بھارتی کپتان متھالی راج
کپتان متھالی راج نے ناقابل شکست سنچری بنائی
بھارتی ٹیم نے فائنل میں سری لنکا کو ستانوے رن سے ہرا کر خواتین کا دوسرا ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ جیت لیا ہے۔

بھارتی کپتان متھالی راج وومن آف دی میچ قرار پائیں۔

نیشنل اسٹیڈیم میں معمول سے زیادہ سرد دن میں کھیلے گئے فائنل میں بھی بھارت نے اپنے ناقابل شکست رہنے کا ریکارڈ برقرار رکھا اور سری لنکا کی ٹیم کو ستانوے رن سے شکست دے دی۔

بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کی اور مقررہ پچاس اووروں میں صرف چار وکٹوں کے نقصان پر دو سو انہتر رن بنا ڈالے۔

کپتان متھالی راج نے شاندار سنچری سکور کی اور سات چوکوں کی مدد سے صرف ایک سو اکیس گیندوں پر ایک سو آٹھ رن ناٹ آؤٹ بنائے۔

ان کے ساتھ دوسری اوپنر جیا شرما نے نو چوکوں کی مدد سے باسٹھ رن اور انجم چوپڑہ نے بیالیس رن بنائے۔

دو سو ستر رن کے تعاقب میں سری لنکا کی ٹیم کا آغاز تو اچھا نہ تھا تاہم کپتان ششکلا نے دوسری اوپنر چامری پولگمپولا کے ساتھ ملکر چھیاسی رن بنائے لیکن ان کے آؤٹ ہونے کے بعد سری لنکا کے لیے ہدف کا حصول مشکل تر ہوتا گیا۔

مقررہ پچاس اووروں میں سری لنکا کی ٹیم نو وکٹوں کے نقصان پر ایک سو بہتر رن ہی بناسکی۔

میچ کے بعد بھارتی کپتان متھالی راج نے بی بی سی کو بتایا کہ پورے ٹورنامنٹ میں ان کی ٹیم بہت مثبت سوچ کے ساتھ کھیلی اور نہ صرف یہ کہ کوئی میچ نہیں ہاری بلکہ کسی بھی میچ میں چار پانچ وکٹوں سے زیادہ بھی نہیں گنوائیں۔

انہوں نے پاکستان میں اپنی ٹیم کی مہمانداری کی بھی بہت تعریف کی اور کہا کہ وہ اچھی یادیں لیکر جارہی ہیں۔

سری لنکا کی کپتان ششکلا سری وردھنے بھی اپنی ٹیم کی کارکردگی سے کچھ زیادہ غیرمطمئن نہ تھیں اور انہوں نے کہا کہ وہ اپنی ٹیم کی کارکردگی سے بہت خوش ہیں۔

ان کے بقول فائنل میں بھی ان کا ہدف یہ تھا کہ بھارتی ٹیم کو دو سو تک محدود کرکے فائنل جیتنے کی کوشش کریں۔ وہ ایسا تو نہ کرسکیں لیکن پھر بھی ٹیم کی کارکردگی اچھی تھی۔

فائنل کے مہمان خصوصی سابق پاکستانی کپتان وسیم اکرم تھے جنہوں نے کہا کہ گو پاکستانی ٹیم اس ٹورنامنٹ میں کچھ زیادہ اچھی کارکردگی نہ دکھا سکی لیکن اس کی پرفارمنس کو دیکھتے ہوئے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ مستقبل میں اچھا کھیلے گی۔

خواتین شائقینکرکٹ اور خواتین
سٹیڈیم کے ہجوم سے ڈر لگتا ہے مگر شوق۔۔۔۔
کارلا خانکارلا ایران جائیں گی
کارلا خان وومن اسلامک گیمز کے لیے پاک ٹیم میں
گنگولی کا پیغام
’خواتین ٹیم وہ کر دکھائے جو مرد ٹیم نہیں کر سکی‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد