پاکستان کا کرکٹ کے ساتھ لگاؤ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میں صرف ایک ایسے پاکستانی کو ملا ہوں جسے کرکٹ پسند نہیں۔ وہ ایک پچیس سالہ ’طالب‘ یعنی مذہبی مدرسے کا طالبعلم تھا۔ نام تھا علی۔ وہ پشاور کا رہنے والا تھا اور چھ کی عمر سے پاکستان کے ایک مدرسے میں پڑھ رہا تھا۔ تنکوں جیسی داڑھی مالک علی کی زندگی کے بارے میں رائے خاصی نیک اور امن پسندانہ تھی۔ اس کہنا ہے ’لوگوں کو پتنگیں نہیں اڑانا چاہئیں یونکہ جب کٹی پتینگیں زمین پر گرتی ہیں تو لوگ ان سے زخمی ہو سکتے ہیں۔‘ یاد رہے پتنگ بازی پاکستانی نوجوانوں کا پسندیدہ کھیل ہے۔ ’موسسیقی سننا، ڈانس کرنا اور ٹی وی دیکھنا سب غلط ہیں۔‘ میں نے کوشش کی کہ اپنے تھیلے سے کوئی ایسا تیر نکالوں جو علی کو چبھے تو سہی۔ ’آہا، پاکستانی ہونے کے ناطے تمہیں کم از کم کرکٹ تو پسند ہوگا۔` ’کرکٹ‘ اس نے ایک آہ بھری اور آسمان کی طرف دیکھنے لگا۔ ’کرکٹ، کرکٹ، کرکٹ؟ لوگوں کو احساس نہیں کہ وہ اپنا وقت برباد کر رہے ہیں؟ انہیں کرکٹ نہیں بلکہ اللہ کے بارے میں سوچنا چاہیے۔‘ ملحد یہ کہہ سکتے ہیں کہ مذہب عام لوگوں کے لیے ایک افیون ہے لیکن پاکستان میں زیادہ تر مذہبی لوگوں کا خیال ہے کہ کرکٹ نے عوام کے ذہنوں کو سن کر دیا ہے۔‘ ویسے میں نے آج تک کرکٹ میچ میں کسی پاکستانی کو سُن دماغ کے ساتھ بیٹھے نہیں دیکھا۔ بلکہ میں نے انہیں کچھ زیادہ ہی اچھلتے دیکھا ہے ۔ میں نے سوچا اس دفعہ خود جا کر تجربہ کیوں نہ کروں۔میں نے لاہور کے ایک میچ کے دوران صحافیوں کا ایئرکنڈیشنڈ چبوترہ چھوڑا اور نیچے جنرل سٹینڈ میں چلا گیا۔ اگر یہ نوجوان انگلینڈ کے کسی میدان میں ہوتے تو آپ کہتے کہ انہوں نے پی رکھی ہے لیکن پاکستان میں صاف ظاہر انہوں نے ایک قطرہ بھی نہیں پی ہوئی تھی۔ میدان کے درمیان پچ پر میچ اپنے اتار چڑھاؤ دکھا رہا تھا۔ کوئی چیز ان کے حق میں ہوتی تووہ خوشی کا نعرہ لگاتے اور اگر خلاف ہوتی تو مایوسی میں بڑ بڑ کر کے رہ جاتے۔ یہ نوجوان پاکستان کی جیت کی محض خواہش نہیں لے کر آئے تھے۔ یہ ان کا مطالبہ تھا کہ پاکستان جیتے۔ جہاں تک میں جانتا ہوں پاکستان نے اپنی اٹھاون سالہ تاریخ میں تین کھیلوں میں عالمی چیمپین پیدا کیے ہیں۔ تاش کا یاک کھیل برج، سکواش اور کرکٹ۔ اب برج صرف شہری امراء تک محدود ہو کر رہ گیا ہے جبکہ سکواش پاکستان میں ایک گھرانے کی بات ہے۔ میں نے آج تک پاکستان میں کہیں بھی کوئی سکواش کورٹ نہیں دیکھا لیکن اس کہ باوجود ایک گھرانا، پشاور کا خان گھرانہ‘ ایسا ہے کہ جس نے پچاس سالوں میں دنیا کو عالمی معیار کے سات کھلاڑی دیے۔ ان میں سے ایک، جہانگیرخان، کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سکواش کی تاریخ میں اس سے بڑا کھلاڑی نہیں پیدا ہوا۔ لیکن جس نے کھیل نے اس قوم کے دل میں گھر کیا ہے وہ ہے کرکٹ۔ پاکستانی فوج کے سینیئر افسران مجھے بتا چکے ہیں کہ جس چیز سے وہ سب سے زیادہ ڈرتے ہیں وہ بھارتی فوج کی کشمیر پر ایک ایسے دن چڑھائی ہے جب کوئی ٹیسٹ میچ ہو رہا ہوں۔ اُن کے بقول اس دن وہ ذرا برابر دفاع نہیں کر سکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف سپاہیوں پر موقوف نہیں بلکہ اُس دن فوج کے تمام افسرخود ٹی وی کے سامنے بیٹھیں ہوں گے۔
میں نے خود بچوں کو پشاور کی تنگ گلیوں، پنجاب کے سرسبز میدانوں، حتٰی کہ قبائلی علاقوں کی پتھریلی زمین پر کرکٹ کھیلتے دیکھا ہے۔ ہر جگہ، ہروقت اور سارا سارا دن۔ جب میں اسلام آبادمیں رہتا تھا تو ہر شام مقامی مرد اور لڑکے اکٹھے ہوجاتے اور مرے گھر کے قریب ایک خالی جگہ پر کرکٹ کھیلتے۔ یہ اُن کے لیے ایسا ہی تھا جیسے آپ دفتر کے بعد کسی بار میں جائیں اور بیئر کا ایک گلاس پئیں۔ ایک طویل دن کے بعد سستانےیا ریلیکس کرنے کا ایک طریقہ۔ میں بھی ہر دوسرے چوتھے دن ان کے ساتھ کھیل میں شامل ہو جاتا تھا۔ ان کو ایک ایسے شخص کو آؤٹ کرنے میں بہت مزا آتا تھا جس کا تعلق انگلینڈ کی اُس کاؤنٹی سے ہے جس نے یہ کھیل ایجاد کیا تھی۔ پاکستان میں کہیں بھی کرکٹ کھیلی جا رہی ہو، تیز باؤلنگ اور مشکل اور پھرتیلے کیچ اس کا خاصا ہیں۔ وہ لوگ اسے ’سٹریٹ کرکٹ، اور سچ یہ ہے گلی محلوں میں کھیلی جانے والی اس کرکٹ نے پاکستان کو کئی زبردست کھلاڑی دیے ہیں۔ چونکہ کرکٹ کی گیند بہت سخت ہوتی ہے اور گلی میں اس کے ساتھ کھیلنا خطرناک ہو سکتا ہے اس لیے سٹریٹ کرکٹ میں زیادہ تر ٹینس کی گیند کو ٹیپ چڑھا کر استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن شیشے کی کھڑکیاں بہرحال محفوظ نہیں ہوتیں۔ پاکستان کے کچھ مایہ ناز بلے بازوں کا کہنا ہے کہ وہ کبھی کیچ آؤٹ نہیں ہوتے کیونکہ جب وہ بچے تھے تو ہمیشہ ایسی شارٹ کھیلتے تھے جس سے گیند ہوا میں نہ اچھلے، کھڑکیاں نہ ٹوٹیں اور ماں سے پٹائی نہ ہوں۔ میری طرح میرے بچے بھی پاکستان کے سٹریٹ کرکٹرز کا مقابلہ نہیں کر سکتے اگرچہ کرکٹ کے ساتھ جذباتی لگاؤ کسی قدر میرے بچوں میں بھی آیا ہے۔ دوسال پہلے میں انہیں انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان ایک ٹیسٹ میچ دکھانے لارڈز لے گیا۔ ہم اُس سے تھوڑا ہی عرصہ پہلے پاکستان سے لوٹے تھے جہاں کسی نے میرے دونوں بیٹوں کو پاکستانی کرکٹ ٹیم جیسی شرٹیں دیں تھیں۔ دونوں نے وہ شرٹیں پہن کر لارڈز جانے کا فیصلہ کیا۔ جب ہم اپنی نشتستوں کی طرف جا رہے تھے تو کچھ بوڑھے انگریزوں نے میرے بیٹوں کو حیرت سے دیکھا۔ گہرے سبز رنگ کی شرٹوں پر چمکدار حروف میں ’پاکستان‘ چھپا دیکھ کر صاف لگ رہا کہ ان کے ذہن میں کیا سوال ہے۔ ’بچے تو گورے ہیں۔۔ شرٹوں پر پاکستان لکھا ہوا ہے۔۔ پاکستان میں انگریز تو نہیں رہتے۔۔۔ کیاپتا رہتے ہیں ہوں۔‘ ’شاید نوآبادیاتی دور سے کوئی انگریز گھرانہ وہاں رہ رہا ہو۔لیکن نہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو یہ بچے انگیلنڈ کی حمایت کر رہے ہوتے۔ یا خدا ماجرا کیا ہے؟‘ جب ہم ان کے سامنے سے گزرے تو ایک دو نےقہر آلود نظروں سے بھی دیکھا۔ جواباً ہم نے بھی ایسا ہی کیا۔ میرے ساتھ آئے ہوئے پاکستانی ٹیم کے دونوں فین پورے جذبے میں تھے۔ کسی نے کہا ’تم پاکستانی ٹیم کے مداح ہو؟ تہمارا پسندیدہ کھلاڑی کون ہے” شعیب اختر؟ راولپنڈی ایکسپریس؟ جواب تھا: ’وہ ٹرین سے بھی زیادہ تیز ہے، دنیا میں سب سے زیادہ تیز باؤلر۔ ذرا انتظار کرو، اسے آنے دو۔ اگر سب برطانوی کھلاڑیوں کو بولڈ نہ کر دیا تو پھر کہنا۔‘ | اسی بارے میں انضمام الحق کی بذلہ سنجی04 November, 2005 | کھیل کرکٹ بہترین مرہم ہے: انضمام الحق25 October, 2005 | کھیل وان کی ٹیم زخمی بچوں کے پاس گئی28 October, 2005 | کھیل شعیب اختر انگلینڈ کے خلاف ٹیم میں؟ 17 October, 2005 | کھیل رمضان میں متاثرین کو کِھلانا16 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||