انضمام الحق کی بذلہ سنجی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انضمام الحق سے ایک مرتبہ کسی نے پوچھا آپ اتنی دفعہ ٹاس کیسے جیت لیتے ہیں۔ انضمام کا جواب تھا’ میں پریکٹس بہت کرتا ہوں‘۔ فیلڈ میں ڈھیلے ڈھالے نظر آنے والے انضمام الحق کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ ایک انتہائی حاضر دماغ اور بذلہ سنج شخص ہیں۔ پیروں اور صوفیوں کے لیے مشہور شہر سے تعلق رکھنے والے انضمام الحق کے بارے کرکٹ کے عام شائقین کا خیال ہے کہ وہ ایک سست الوجود شخص ہے جبکہ حقیت میں ایسا نہیں ہے۔ اسحاق پٹیل جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انہوں انضمام الحق میں چھپی ہوئی صلاحیتوں کو سب سے بھانپا تھا، کہتے ہیں کہ جب انہوں نے پہلی دفعہ انضمام الحق کو کھیلتے ہوئے دیکھا تو ان کو یقین ہو گیا کہ یہ لڑکا ایک عظیم کھلاڑی بنے گا۔ اسحاق پٹیل کے دوستوں نے انضمام الحق کے بارے میں ان کی اس بات کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ یہ سست اور موٹو سے لڑکے میں بڑا کھلاڑی بننے کی صلاحیت موجود نہیں ہے۔ اسحاق پٹیل کے بعد پاکستان ٹیم کے کپتان عمران خان نے انضمام الحق میں چھپے ہوئے جوہر کو بھانپا اور 1992 کے ورلڈ کپ کے لیے چنی جانے والی ٹیم میں انضمام کو شامل کر لیا۔ انضمام الحق نے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل کے ایک میچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف صرف سینتیس گیندوں پر ساٹھ رنز بنا کر پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔انضمام الحق نے یہ رنز اس وقت بنائے تھے جب پاکستان کی ٹیم پر دباؤ بڑھ چکا تھا۔ انضمام الحق کی اس اننگز کی وجہ سے پاکستان فائنل پہنچنے میں کامیاب ہوا اور پہلی دفعہ ورلڈ کپ بھی جیت لیا۔ انضمام الحق کہتے ہیں کہ وہ مشکل وقت میں والد سے رہنمائی کے علاوہ عمران خان سے مشورہ ضرور کرتے ہیں۔ ورلڈ کپ ٹورنامنٹ سے مشہور ہونے والے انضمام الحق کے لیے 2003 کا ورلڈ کپ ایک ڈروانا خواب بن کے آیا اور اس ٹورنامنٹ میں انضمام الحق چھ اننگز میں صرف انیس رنز سکور کرنے میں کامیاب ہو سکے۔ انضمام الحق کہتے ہیں کہ اس مشکل گھڑی میں ان کو اپنے والد کی یہ نصیحت بہت کام آئی کہ برے وقت کے بعد اچھا وقت ضرور آتا ہے۔ ورلڈ کپ میں مایوس کن کارکردگی کے صرف پانچ ماہ بعد انضمام الحق کو پاکستان کی قسمت نے کروٹ بدلی اور وہ ٹیم کے کپتان بنا دیئے گئے۔ انضمام الحق نے بہت جلد ان لوگوں کو خاموش کر دیا جن کے خیال میں انضمام الحق ایک اچھا کپتان نہیں بن سکتا۔بھارت میں ون ڈے سیریز جیتنے اور ٹیسٹ سریز برابر کر کے آنے کے بعد وہ ایک ہیرو کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ٹیم کے کوچ باب وولمر کا کہنا ہے کہ کھلاڑی انضمام الحق کی انتہائی عزت کرتے ہیں اور وہ پاکستان کے لیے انتہائی کامیاب ہو سکتے ہیں۔ | اسی بارے میں ہارے بھی تو بازی مات نہیں14 March, 2004 | کھیل انضمام، شعیب میں تلخ کلامی06 July, 2004 | کھیل انضمام پابندی سے بچ گئے03 February, 2005 | کھیل تجربات پر تنقید بلاجواز ہے: انضمام08 February, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||