BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 July, 2004, 20:36 GMT 01:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انضمام، شعیب میں تلخ کلامی

انضمام الحق
کیمپ کے آغاز پر شیعب اختر کی شرکت غیریقینی تھی
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق اور فاسٹ بولر شعیب اختر کے درمیان اختلافات ختم ہونے کے بجائے شدت اختیار کرگئے ہیں جس کا اندازہ منگل کو قومی کیمپ میں ان دونوں کے درمیان ہونے والی تلخ کلامی سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ دونوں کے درمیان لڑائی اس قدر بڑھ گئی کہ کوچ باب وولمر کو مداخلت کرنی پڑی۔

انضمام الحق اور شعیب اختر کے درمیان تازہ ترین جھگڑے کا آغاز اس وقت ہوا جب پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان نے فاسٹ بولر کے حالیہ بیان پران کی سرزنش کی جس پر شعیب اختر نے ترکی بہ ترکی جواب دیا کہ ابتدا انضمام نے ان کے خلاف منفی بیانات دے کر کی ہے۔

انضمام الحق اور شعیب اختر کے تعلقات بھارت کے خلاف ہوم سیریز کے دوران اس وقت کشیدہ ہوگئے تھے جب راولپنڈی ٹیسٹ میں پاکستان ٹیم کی شکست کے بعد انضمام الحق نے شعیب اختر اور پاکستان ٹیم کے سابق ٹرینر ڈاکٹر توصیف رزاق پر تنقید کی تھی۔ ساتھ ہی انہوں نے شعیب اختر کی انجری پر بھی شک وشبہ ظاہر کیا تھا جس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس معاملے پر ایک میڈیکل کمیشن تشکیل دینا پڑا تھا۔ بعد میں کمیشن کی رپورٹ یہ سامنے آئی کہ شعیب اختر واقعی ان فٹ تھے جس کے سبب انہیں میدان چھوڑکر باہر آنا پڑا تھا۔

انضمام الحق نے حال ہی میں ایک مقامی اخبار کو انٹرویو میں شعیب اختر کا فٹنس ٹیسٹ خود لینے کی بات کی تھی جس کی بعد میں انہوں نے تردید کی جبکہ وہ اخِبار مذکورہ انٹرویو پر قائم ہے۔ انضمام الحق اپنے سے منسوب اس بیان کو بھی غلط قرار دیتے ہیں جس میں انہوں نے شعیب اختر کو پاکستان ٹیم کی کامیابیوں کے بجائے شکست میں اہم کردار قرار دیا تھا۔

دوسری جانب شعیب اختر سے، جو ایشیا کپ میں حصہ لینے کے لیے ڈرہم کاؤنٹی سے معاہدہ ختم کرکے کیمپ میں آئے ہیں، جب انضمام الحق سے اختلافات کی بابت سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’ان کا کسی سے اختلاف نہیں، جہاں تک انضمام الحق کا تعلق ہے تووہ ان سے پوچھیں‘۔

مبصرین کا خیال ہے کہ ایشیا کپ سے قبل ان دو اہم کھلاڑیوں کے درمیان سرعام تلخ کلامی ٹیم کے لیے نقصان دہ ہے اور ان حالات میں دونوں کے لیے سو فیصد کارکردگی کا مظاہرہ کرنا مشکل ہوجائے گا۔ مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹیم مینجمنٹ کو ڈسپلن پر عمل درآمد کے سلسلے میں موثر کردار ادا کرنا ہوگا جس میں وہ ابھی تک ناکام نظر آرہی ہے۔ یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان کرکٹ بورڈ کےتمام بڑے افسران ملک سے باہر ہیں اور پاکستان کرکٹ بورڈ کا ہیڈکوارٹر کسی مجاز اتھارٹی کے بغیرکام کر رہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد