BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شعیب اختر الزام سے بری

شہریار خان اور رمیز راجہ
شعیب اختر کو اب خصوصی رعایت نہیں دی جائے گی
پاکستان کرکٹ بورڈ نے بالآخر فاسٹ بالر شعیب اختر کو پاک بھارت کرکٹ سیریز کے راولپنڈی ٹیسٹ میں غلط تکلیف بتا کر بولنگ نہ کرانے کے الزام سے بری کر دیا ہے اور انہیں کسی قسم کا کوئی جرمانہ نہیں کیا گیا۔

آج لاہور میں قذافی سٹیڈیم میں ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہر یارخان نے کہا کہ میڈیکل کمیشن رپورٹ واضح طور پر نہیں بتاتی کہ بون سکین میں شعیب کی گیارہویں پسلی پر نظر آنے والی چوٹ میچ کے دوران گرنے کے بعد آئی تھی یا وہ کوئی پرانی چوٹ تھی۔

شہر یار خان نے کہا کہ چونکہ میڈیکل کمیشن کی رپورٹ میں شعیب کے لئے شک و شبہہ کی گنجائش تھی اس لیے بورڈ نے یہ فیصلہ کیا کہ شعیب کی بات کو سچ مان لیا جائے۔

شہر یار خان کے بقول شعیب کی چوٹ کا یہ معاملہ اب ختم ہو گیا ہے تاہم انہیں راولپنڈی ٹیسٹ کے دوران شعیب اور دیگر کھلاڑیوں کے رویے پر بہت تشویش تھی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم ڈاکٹر، مینجمنٹ اور کپتان کے مطابق میچ کے دوران شعیب کے میدان چھوڑ کر جانے کے سبب ٹیم کے مورال اور ٹیم سپرٹ کو دھچکا لگا تھا۔

بورڈ نے شعیب کو تنبیہہ کی ہے کہ وہ اپنا رویہ درست کریں، اپنی فٹنس کا خیال رکھیں اور کھیلتے ہوئے ٹیم کے مورال اور ٹیم سپرٹ کو مدِ نظر رکھیں۔

کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے مطابق سترہ اپریل کو شعیب کا ایم آر آئی کروایا گیا تھا اور راولپنڈی کے ایک کنسلٹنٹ ریڈیالوجسٹ ڈاکٹر افتخار بھٹہ کی رپورٹ کے مطابق پسلی پر چوٹ کا کوئی نشان نہ تھا۔

تاہم اٹھائیس اپریل کو ہونے والے بون سکین کے مطابق شعیب کی گیارہویں پسلی پر سوجن ہے لیکن اس بات کےکوئی شواہد نہیں کہ یہ چوٹ پرانی تھی یا نئی۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ شعیب نے اس دن گرنے کے بعد ہتھیلی کی چوٹ کے باوجود چار پانچ بال کروائے جن کی سپیڈ نواسی سے لے کر چورانوے میل فی گھنٹہ تھی اور پھر اگلے دن شیعب نے درد بتا کر بولنگ نہیں کرائی اور میدان میں فیلڈنگ کرانے بھی نہیں آئے اور پھر بغیر کسی تکلیف کے اظہار کے بیٹنگ کی اور چوکے چھکے لگائے۔ ان کے اس رویے پر میڈیکل کمیشن قائم کیا گیا تھا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق اگرچہ بورڈ نے شعیب کو کوئی جرمانہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم ان پر واضح کر دیا گیا اب انہیں ان کے مقام اور حیثیت کی بنا پر کوئی خصوصی رعایت نہیں دی جائے گی اور انہیں ٹیم میں جگہ پانے کے لئے نظم و ضبط کا مظاہرہ کرنے کے ساتھ ڈومیسٹک کرکٹ میں اپنی قابلیت ثابت کرنا ہو گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد