BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 April, 2004, 15:57 GMT 20:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوری تبدیلی نہیں ہو گی: شہریار
شہریار خان
’فوری تبدیلی کے اثرات منفی ہو سکتے ہیں‘
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ شہریار خان نے کہا ہے کہ فوری طور پر ٹیم انتظامیہ میں تبدیلی کے منفی اثرات ہوں گے اس لئے کسی بھی طرح کی تبدیلی سوچ بچار کے بعد کی جائے گی۔

بی بی سی اردو سروس کے ہفتے وار پروگرام کھیل کے میدان سے کے ایک خصوصی شمارے میں دنیا بھی سے کرکٹ شائقین کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فی الحال کپتان انضمام الحق کم ازکم اس برس کے آخر تک اپنے منصب پر برقرار رہیں گے جب کہ کوچ اور مینیجر کی بھی تبدیلی کا کوئی فوری امکان نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی کپ میں شکست کے بعد سے ٹیم کی کارکردگی میں بہت بہتری آئی ہے اور ٹیم نے تین سیریز جیتی بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی ٹیم کے نئے اور نوجوان کھلاڑیوں کو ذہنی طور پر مزید مضبوطی کی ضرورت ہے۔

تاہم شہریار خان نے کہاکہ یہ بات کہ ٹیم کا کوچ غیرملکی ہو یا نہیں اور یہ کہ کیا ٹیم کے لیے علیحدہ بولنگ کوچ، ماہر غذائیات اور غیرملکی فزیو تھراپسٹ مقرر کیے جائیں یا نہیں ، تو اس کا حتمی فیصلہ وہ کرکٹ ماہرین سے مشورہ کرکے ہی کریں گے۔

انہوں نے ان تاثرات کی سختی سے تردید کی کہ موجودہ پاک بھارت سیریز کے نتائج کسی بھی طرح پہلے سے طے شدہ تھے یا اس سیریز کے کوئی بھی پس پردہ سیاسی مقاصد تھے۔

لیکن شہریار خان نے اس بات کو تسلیم کیا کہ سیریز کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے عوام میں فاصلے ختم ہوئے ہیں اور اس کے لیے انہوں نے کرکٹ بورڈ سے زیادہ پاکستانی عوام کی کوششوں کی تعریف کی۔

انہوں نے بتایا کہ بھارتی سفیر کے بقول ، سیریز دیکھ کے جانے والے بیس ہزار بھارتی شائقین پاکستانی مہمان نوازی سے اتنے زیادہ متاثر ہوئے ہیں کہ اب یہ شائقین بھارت میں پاکستانی سفیروں کا کردار ادا کررہے ہیں۔

پاکستانی ٹیم میں ڈسپلن سے متعلق شکایات کے لیے شہریار خان کا کہنا تھا کہ ان میں سے بعض درست ہیں اور خاص طور پر شعیب اختر کی مشکوک چوٹ کی تفتیش کے لیے ایک کمیٹی بنادی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ٹیم کے کھلاڑیوں سے یہ بھی دریافت کررہے ہیں کہ آخری میچ میں انتہائی غیرذمہ دارانہ بیٹنگ کیوں کی گئی۔

بلوچستان سمیت ملک کے مختلف حصوں کی ٹیم میں نمائندگی نہ ہونے پر ان کا کہنا تھا قومی ٹیم میں تو نمائندگی صرف اور صرف اعلٰی کارکردگی پر ہی ہوگی تاہم پسماندہ علاقوں میں سہولیات بہتر بنائی جائیں گی اور سرمایہ کاری کی جائے گی تاکہ آئندہ چند برسوں میں ایسے علاقوں کے کھلاڑی بھی قومی ٹیم میں شامل ہوسکیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد