BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 September, 2005, 18:37 GMT 23:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پہلی وومن فٹ بال چیمپئن شپ

وومن فٹ بال چیمپئن شپ
پہلی فٹ بال کی قومی چمپئن شپ میں شریک ٹیموں نے بہت کم دن تربیت کی
’مجھے خواتین کی پہلی فٹ بال چمپئن شپ میں کھیل کر بہت مزا آیا گو کہ میں خاتون نہیں ایک چھوٹی سی لڑکی ہوں لیکن پھر بھی خود سے بڑی لڑکیوں سے نہ تو مجھے ڈر لگا، نہ میں گھبرائی بلکہ میں نے بہت کچھ سیکھا اور بہت لطف اٹھایا‘۔ یہ الفاظ ہیں پاکستان سپورٹس کمپلیکس اسلام آباد کے جناح فٹ بال سٹیڈیم میں جاری پہلی فٹ بال نیشنل چمپئن شپ میں شریک نو سال کی شلائلا عرفان کے جو بلوچستان کی ٹیم کی طرف سے کھیل رہی ہیں۔

اس پہلی فٹ بال کی قومی چمپئن شپ میں شریک ٹیموں نے بہت کم دن تربیت کی اس لیے کھیل کا معیار تو اچھا نہ تھا تاہم ان کھلاڑی لڑکیوں کا جزبہ ،جوش اور شوق دیدنی تھا۔

پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے زیر انتظام اس پہلی وومین نیشنل چمپئن شپ میں ملک بھر سے آٹھ ٹیمیں شرکت کر رہی ہیں۔

ان ٹیموں میں چاروں صوبوں کے علاوہ اسلام آباد، پاکستان واپڈا، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور فٹ بال سکول آف ایکسلینس کراچی کی ٹیموں نے شرکت کی۔
ان آٹھ ٹیموں کو دو پولز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر پول سے زیادہ پوائنٹس حاصل کرنے والی دو دو ٹیموں نے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کیا۔

چمپئن شپ میں ایک سو پچیس سے زائد لڑکیاں تھیں

ہر ٹیم میں سولہ سولہ کھلاڑي لڑکیاں ہیں لہذا اس پہلی چمپئن شپ میں ایک سو پچیس سے زائد لڑکیاں میدان میں اتری ہیں۔

اس کے سیمی فائنل میں پنچاب اور سندھ کا مقابلہ ہوا اور بلوچستان کی ٹیم پاکستان واپڈا سے کھیلی۔

پنجاب نے سندھ کو 1-2 سے ہرایا اور پاکستان واپڈا نے بلوچستان کو 0-4 سے شکست دی۔

بلوچستان کی ٹیم واپڈا کی کھلاڑیوں کی نسبت بہت کم عمر اور ناتجربہ کار تھی جبکہ واپڈا کی ٹیم میں ایسی اتھلیٹ تھیں جو قومی سطح پر کھیل چکی تھیں۔

بلوچستان کی کپتان ارم کہتیں ہیں کہ اتنی کم عمر لڑکیوں کی بلوچستان کی ٹیم کا سیمی فائنل میں پہنچنا بھی بہت بڑی بات ہے ۔

ارم کہتی ہیں اتنے بڑے سٹیڈیم میں کھیلنا اور وہ بھی فلڈ لائٹس میں بہت اچھا تجربہ رہا لیکن تماشائی موجود نہیں تھے اس کا قلق انہیں رہے گا۔

پاکستان فٹ بال فیڈریشن نے مرد تماشائیوں کو سٹیڈیم میں آنے کی اجازت نہیں دی لیکن بلوچستان کی ارم کہتیں ہیں کہ ہمارے کوچ مرد ہیں ریفری مرد ہیں تو مرد تماشائی کیوں نہیں آ سکتے آخر کوئی تو ہوتا ہمارے کھیل پر تالیاں بجانے والا۔

پاکستانی خواتین کے لیے فٹ بال کا کھیل بالکل نیا ہے

جمعے کو اس چمپئن شپ کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی۔ مارچ پاسٹ بھی ہوا بینڈ بھی بجایا گیا غبارے بھی چھوڑے گئے تاہم سٹیڈیم میں اس تقریب کو دیکھنے کے لیے تماشائی موجود نہ تھے۔

گو کہ پاکستان فٹ بال فیڈریشن نے جب اس چمپئن شپ کے انعقاد کا اعلان کیا تھا تو بارہ ٹیموں کی شرکت کی یقین دہانی کروائی تھی تاہم اگر پاکستان کے معاشرے اور اس کی روایات پر نظر دوڑائی جائے تو آٹھ ٹیموں کی شرکت بھی ایک کارنامہ ہی لگتا ہے۔

ویسے بھی پاکستانی خواتین کے لیے فٹ بال کا کھیل بالکل نیا ہے کیونکہ پاکستانی لڑکیاں ویسے تو سکولوں اور کالجز میں کئی کھیل کھیلتی ہیں لیکن فٹ بال ایسا کھیل ہے جو نہیں کھیلا جاتا تھا۔

اس لیے ان خواتین کو فٹ بال میں تو تربیت دینا ایک مشکل مرحلہ تھا۔

اس چمپئن شپ میں شریک کچھ ٹیمیں تو پاکستان کے ایسے علاقوں سے تھیں جہاں خواتین کا باہر نکلنا ہی معیوب سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان کے سرحدی صوبے سے آئی ٹیم کی کپتان اور کوچ حسن آرا کہتی ہیں کہ خود انہوں نے اپنےگھر والوں کو مشکل سے راضی کیا۔ جب انہیں راضی کر لیا تو باقی ٹیم کی ارکان کے والدین کو منانا انتہائی مشکل مرحلہ تھا۔

حسن آرا کہتی ہیں کہ مجھے ان لڑکیوں کے والدین کو منانے کے لیے بہت جتن کرنے پڑے اور آخر کار میں کامیاب ہو گئی۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے آنے والی ٹیم کی کپتان نخبا عروج کو بھی لڑکیوں کے والدین سے اجازت کا مسئلہ درپیش تھا تاہم جب اس نے اسے حل کیا تو اگلا مرحلہ تھا تربیت کا۔

نخبا کہتی ہیں کہ ہم نے اس چمپئن شپ کے لیے صرف سات دن تربیت حاصل کی اور وہ بھی گراؤنڈ کی بجائے ایک زیر تعمیر بیڈ منٹن ہال میں۔

سندھ سے دو ٹیمیں آئی ہیں جن کا سہرا پاکستان کے قومی کوچ طارق لطفی کے سر ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کو فٹ بال کھلانے کے لیے بہت سی سہولتیں درکار ہیں جیسے کہ انہیں ان کے گھروں سے لانا لے جانا۔ طارق لطفی نے کہا کہ ان لڑکیوں میں شوق بھی ہے اور جزبہ بھی تاہم انہیں اگر مناسب تربیت ملے تو ہی کھیل کا کچھ معیار نظر آئے گا۔

ان تمام مشکلات اور مسائل کے باوجود فٹ بال سکول آف ایکسیلینس کراچی کی سعدیہ شیخ کہتی ہیں کہ پہلی فٹ بال چمپئن شپ کا انعقاد بہت احسن قدم ہے اور ہم پاکستانی لڑکیوں نے اس میں شرکت سے ثابت کر دیا ہے کہ ہم کسی سے کم نہیں۔ ’پاکستان کی لڑکیاں فٹ بال بھی کھیل سکتی ہیں اور اگر ہمیں مناسب تربیت ملے تو ہم بین الاقوامی سطح پر بھی کھیلنے کے قابل ہو سکتی ہیں‘۔

سٹیڈیم میں اس تقریب کو دیکھنے کے لیے تماشائی موجود نہ تھے

پاکستان فٹ بال کے صدر وفاقی وزیر امور کشمیر کا وعدہ ہے کہ اس چمپئن شپ میں بہترین کھیلنے والی لڑکیوں کو منتخب کر کے انہیں بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں بھی کھلایا جائے گا۔

اس چمپئن شپ کی فاتح ٹیم کو دو لاکھ کی انعامی رقم ملے گی، دوسرے نمبر پر آنے والی ٹیم کو ایک لاکھ اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیم کو پچاس ہزار ملیں گے۔

پہلی نیشنل چمپئن شپ میں اتنی انعامی رقم بھی کافی حوصلہ افزا بات ہے اور لگتا ہے کا پاکستان فٹ بال فیڈریشن فیفا یعنی انٹرنیشنل فٹ بال فیڈریشن سے وومین فٹ بال کے لیے ملنے والے بیس لاکھ کے فنڈ کو خواتین پر مکمل طور پر خرچ کرنے پر تلی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد