تیراکی، بھارت کے32 گولڈ میڈلز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اپنے تیراکوں کی انتہائی شاندار کارکردگی کے نتیجے میں بھارت کو دسویں ساؤتھ ایشین گیمز کے میڈلز ٹیبل پر اپنی پوزیشن مضبوط کرنے میں بڑی مدد ملی جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ چھٹے دن کھیلوں کے اختتام پر بھارت کے مجموعی66 سونے کے تمغوں میں سے تقریباً نصف تیراکی میں تھے۔ بھارتی تیراکوں نے کولمبو کے سوگاتھا اسٹیڈیم میں ہونے والے سوئمنگ کے پانچ روزہ مقابلوں کو ون کنٹری شو بناکر رکھ دیا۔ انہوں نے تیراکی کے38 میں سے32 ایونٹس میں طلائی تمغے جیت کر اپنی برتری ثابت کردی۔ پاکستانی تیراکوں نے اسلام آباد کی طرح کولمبو میں بھی گولڈ میڈل نہ جیتنے کی روایت برقرار رکھی لیکن کولمبو میں مجموعی کارکردگی اسلام آباد سے بھی زیادہ پست رہی۔ تب پاکستان کے حصے میں چاندی کے13 اور کانسی کے14 تمغے آئے تھے اس مرتبہ پاکستان کے چاندی کے تمغوں کی تعداد صرف5 رہی جبکہ کانسی کے16 تمغے رہے بنگلہ دیش نے سوئمنگ میں ایک طلائی تمغہ حاصل کرڈالا جبکہ میزبان سری لنکا نے پانچ گولڈ میڈلز جیتے جن میں سے تین مایومی رحیم کے ہیں۔ مردوں کے مقابلوں میں بازی اپنے نام کرنے والے بھارت کے ریحان پونچا رہے جنہوں نے تین گولڈ میڈلز جیتے۔ ریحان پونچا نے اسلام آباد کے ساؤتھ ایشین گیمز میں بھی تین گولڈ میڈلز حاصل کئے تھے لیکن اس مرتبہ انہوں نے نئے ریکارڈز قائم کرتے ہوئے کامیابیاں سمیٹیں۔ پاکستان کی خاتون تیراک کرن خان نے اپنی دیگر ساتھی تیراکوں سے اچھی کارکردگی دکھائی اور چاندی کے دو تمغے حاصل کیئے۔ مرد تیراک نثاراحمد نے بھی چاندی کے دو تمغے اپنے نام کیئے۔ چاندی کا پانچواں تمغہ ثناء واحد کے حصے میں آیا۔ اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی رباب رضا توقعات پر پوری اترنے میں ناکام رہیں۔ کولمبو میں موجود پاکستان سوئمنگ فیڈریشن کے اعلی عہدیداران یہ ماننے کے لیئے تیار نہیں کہ پاکستانی تیراکوں کی کارکردگی پچھلے ساؤتھ ایشین گیمز کے مقابلے میں خراب رہی بلکہ وہ صرف اسی بات پر خوش تھے کہ ان کے مرد اور خواتین تیراکوں نے اپنے قومی ریکارڈز ان ساؤتھ ایشین گیمز میں بہتر بنائے۔ پاکستان ویمنز سوئمنگ ایسوسی ایشن کی صدر فاطمہ لاکھانی کا کہنا ہے کہ خواتین تیراکوں کی کارکردگی سے وہ بہت خوش ہیں اور انہیں توقع نہیں تھی کہ پاکستانی تیراک تیرہ تمغے جیت جائیں گی۔ فاطمہ لاکھانی کہتی ہیں کہ پاکستان میں پرائویٹ کلبوں میں سوئمنگ ہوتی ہے جہاں پورے سال تیراکوں کی ٹریننگ نہیں ہوسکتی جیسا کہ بھارت اور سری لنکا میں ہوتی ہے۔اس کے علاوہ تیراکوں کی تعلیم کے سبب بھی انہیں طویل عرصے کے لیئے کیمپ میں نہیں بھیجا جاسکتا۔ فاطمہ لاکھانی کا کہنا ہے کہ پچھلے سیف گیمز میں سری لنکا نے اپنے دوسرے درجے کے تیراک پاکستان بھیجے تھے لیکن پاکستان کی شاندار کارکردگی کے بعد انہوں نے بھرپور تیاری کی تھی۔ |
اسی بارے میں انڈیا اول، سری لنکا دوم، پاکستان سوم21 August, 2006 | کھیل ساؤتھ ایشین گیمز، انڈیا سب سے آگے19 August, 2006 | کھیل سکیورٹی انتظامات: شدید دشواریاں 19 August, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||