سکیورٹی انتظامات: شدید دشواریاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا میں جاری دسویں ساؤتھ ایشین گیمز کے موقع سکیورٹی کے انتظامات انتہائی کڑے ہیں اور ان کی وجہ سے عام لوگوں کو ہی نہیں کھلاڑیوں اور صحافیوں کو دشواریوں کا سامنا ہے۔ افتتاحی تقریب میں سٹیڈیم اور اس کے قرب جوار میں تعینات پولیس اور فوجی جوانوں کی تعداد ساؤتھ ایشین گیمز میں شریک کھلاڑیوں اور آفیشلز بھی زیادہ تھی۔ دسویں ساؤتھ ایشین گیمز کی افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی سری لنکا کے صدر تھے۔ وہ تقریب شروع ہونے کے کافی دیر بعد آئے لیکن عام لوگوں کو گھنٹوں پہلے اسٹیڈیم میں بٹھادیا گیا تھا خاص کر میڈیا کو بتادیا گیا تھا کہ انہیں تقریب سے چار گھنٹے پہلے آکر اپنے لیپ ٹاپ کیمروں اور دیگر سامان کی چیکنگ کرانی ہے اور کلیئرنس کے بعد ہی وہ اسٹیڈیم میں داخل ہوسکیں گے۔ سامان اور جسمانی چیکنگ کا عمل خاصا طویل تھا جس میں مکمل اطمینان ہونے کے بعد سرکاری عملہ میڈیا والوں کی شرٹس اور ان کے سامان پر کلیئرنس کا اسٹیکر لگادیتا۔ ذرائع ابلاغ کے لوگوں کو موبائل فون ساتھ رکھنے کی اجازت بھی مشکل سے ملی۔ اس صورتحال سے تنگ آئے ہوئے ایک شائق کا یہ جملہ اچھا لگا کہ یہ صدر یا وزیراعظم کھیلوں کے مقابلوں میں کیوں آجاتے ہیں؟ عام طور پر بھی اسوقت کولمبو میں جگہ جگہ پولیس اور آرمی نے ناکے بنارکھے ہیں اور لوگوں اور گاڑیوں کی چیکنگ معمول کی بات ہے۔ افتتاحی تقریب کے بعد صدر کی سواری کرفیو کا ماحول پیش کرنے والے علاقوں سے گزرتی ہوئی برق رفتاری سے اپنی منزل پر پہنچ گئی ہوگی لیکن عام آدمیوں کے لیئے اپنی منزل تک پہنچنا بہت دشوار ہوگیا تھا۔ لوگ اپنی فیملی کو لے کر اسٹیڈیم سے بہت دور تک پیدل چلتے دکھائی دیئے کیونکہ یہ بات تو سب کو پتہ ہے کہ ممنوعہ قرار دی جانے والے مقامات پر صرف وی آئی پی گاڑیوں کے گزرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ | اسی بارے میں چمکتے تمغے، بلند عزائم17 August, 2006 | کھیل سکول ٹیم بھی سری لنکا سے روانہ17 August, 2006 | کھیل جنوبی افریقی ٹیم کا دورۂ سری لنکا ختم16 August, 2006 | کھیل ساؤتھ ایشین گیمز 18 اگست سے 14 August, 2006 | کھیل ویٹ لفٹر نہ ہوتا تو پہلوان ہوتا16 August, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||