BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 June, 2006, 09:20 GMT 14:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ثانیہ کے بعد اب سائنہ

سائنہ
سائنہ کا نام ہندوستان کی بہترین خاتون بیڈمنٹن کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ہو گیا۔
جنوبی ہندوستان کے شہر حیدرآباد کی شناخت اس کی شائستگی اورشاندار روایات سے ہے لیکن آج کل یہ شہر لان ٹینس کھلاڑی ثانیہ مرزا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اور اب اسی شہر کی سولہ سالہ بیڈمنٹن کھلاڑی سائنہ نہوال ہندوستان کانام پوری دنیا میں روشن کر رہی ہیں۔

سائنہ ہندوستان کی پہلی خاتون بیڈمنٹن کھلاڑی ہیں جنہوں نے فیلیپینز اوپن کا مقابلہ جیتا اور اس کامیابی کے ساتھ ہی سائنہ کا نام ہندوستان کی بہترین خاتون بیڈمنٹن کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ہو گیا۔ فلیپینز اوپن ایک فور سٹار ٹورنامنٹ ہے اسے بیڈمنٹن کی دنیا میں ایک معروف ٹورنامنٹ کی حیثیت حاصل ہے۔

سائنہ کی کامیابی کے ساتھ ہی ثانیہ سے ان کی مقبولیت کاموازنہ بھی شروع ہو گیا۔

سائنہ کہتی ہیں کہ پہلے میڈیا میں ثانیہ مرزا کا نام ہر جگہ نظر آتا تھا لیکن ’اب بیڈمنٹن کا کھیل بھی روشنی میں آئے گا جو کہ ان لوگوں کے لئے کافی فائدہ مند ہوگا جنہيں بیڈمنٹن میں دلچسپی ہے۔‘

عالمی رینکنگ میں سائنہ 86 ویں نبمر پر ہیں اور اب تک وہ اپنے سے اوپر رینکنگ والی کئی کھلاڑیوں کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہو چکی ہیں۔ان میں عالمی رینکنگ میں دوسرے نمبر سمیت جرمنی کی اوّل نمبر کی کھلاڑی ژو ہوویئن بھی شامل تھیں۔

سائنہ کے کوچ سابق آل انگلینڈ چیمپیئن پولیلہ گوپی چند ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سائنہ بہت کم وقت میں سیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور ان میں زبردست حوصلہ ہے تا ہم انہوں یہ بھی کہا کہ ’ اگر سائنہ کو ٹاپ کھلاڑیوں کو شکست دینی ہے تو اسے اپنے کھیل میں تقریبا تام پہلوؤں کو مزید بہتر بنانا ہوگا۔‘

والد ہی نہیں سائنہ کی والدہ بھی اپنی بیٹی کے ہنر سے بخوبی واقف تھیں۔
اگرچہ قومی سطح پر سائنہ نے چھ برس قبل بیڈمنٹن کھیلنا شروع کیا لیکن والدین کے ساتھ وہ بچپن سے ٹینس کھیلتی رہی ہیں۔ سائنہ کے والد ہرویر سنگھ بتاتے ہیں کہ ’ بچپن میں جب سائنہ ہما رے ساتھ بیڈمنٹن کھیلتی تھیں تو ہم سب اسے پڑھنے کو کہتے تھے لیکن شاید اس کے نصیب میں بیڈمنٹن کی دنیا ہی تھی۔‘

والد ہی نہیں سائنہ کی والدہ بھی اپنی بیٹی کے ہنر سے بخوبی واقف تھیں۔ ان کا کہناہے کہ ’سکول کے دنوں سے ہی سائنہ نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا تھا اور اس دوران ہی مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ آگے چل کر اچھا کھیلے گی۔‘

سائنہ کو انڈونیشن اوپن مقابلہ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن بیڈمنٹن کی دنیا کے کئی بہترین کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ سائنہ کے حوصلے اور ان کے کھیل کے انداز کو دیکھنے کے بعد وہ دن دور نہیں جب سائنہ بیڈمنٹن کی دنیا کی تمام اونچائیوں کو چھونے میں کامیابی حاصل کر يں گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد