ثانیہ کے بعد اب سائنہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی ہندوستان کے شہر حیدرآباد کی شناخت اس کی شائستگی اورشاندار روایات سے ہے لیکن آج کل یہ شہر لان ٹینس کھلاڑی ثانیہ مرزا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اور اب اسی شہر کی سولہ سالہ بیڈمنٹن کھلاڑی سائنہ نہوال ہندوستان کانام پوری دنیا میں روشن کر رہی ہیں۔ سائنہ ہندوستان کی پہلی خاتون بیڈمنٹن کھلاڑی ہیں جنہوں نے فیلیپینز اوپن کا مقابلہ جیتا اور اس کامیابی کے ساتھ ہی سائنہ کا نام ہندوستان کی بہترین خاتون بیڈمنٹن کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ہو گیا۔ فلیپینز اوپن ایک فور سٹار ٹورنامنٹ ہے اسے بیڈمنٹن کی دنیا میں ایک معروف ٹورنامنٹ کی حیثیت حاصل ہے۔ سائنہ کی کامیابی کے ساتھ ہی ثانیہ سے ان کی مقبولیت کاموازنہ بھی شروع ہو گیا۔ سائنہ کہتی ہیں کہ پہلے میڈیا میں ثانیہ مرزا کا نام ہر جگہ نظر آتا تھا لیکن ’اب بیڈمنٹن کا کھیل بھی روشنی میں آئے گا جو کہ ان لوگوں کے لئے کافی فائدہ مند ہوگا جنہيں بیڈمنٹن میں دلچسپی ہے۔‘ عالمی رینکنگ میں سائنہ 86 ویں نبمر پر ہیں اور اب تک وہ اپنے سے اوپر رینکنگ والی کئی کھلاڑیوں کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہو چکی ہیں۔ان میں عالمی رینکنگ میں دوسرے نمبر سمیت جرمنی کی اوّل نمبر کی کھلاڑی ژو ہوویئن بھی شامل تھیں۔ سائنہ کے کوچ سابق آل انگلینڈ چیمپیئن پولیلہ گوپی چند ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سائنہ بہت کم وقت میں سیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور ان میں زبردست حوصلہ ہے تا ہم انہوں یہ بھی کہا کہ ’ اگر سائنہ کو ٹاپ کھلاڑیوں کو شکست دینی ہے تو اسے اپنے کھیل میں تقریبا تام پہلوؤں کو مزید بہتر بنانا ہوگا۔‘
والد ہی نہیں سائنہ کی والدہ بھی اپنی بیٹی کے ہنر سے بخوبی واقف تھیں۔ ان کا کہناہے کہ ’سکول کے دنوں سے ہی سائنہ نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا تھا اور اس دوران ہی مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ آگے چل کر اچھا کھیلے گی۔‘ سائنہ کو انڈونیشن اوپن مقابلہ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن بیڈمنٹن کی دنیا کے کئی بہترین کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ سائنہ کے حوصلے اور ان کے کھیل کے انداز کو دیکھنے کے بعد وہ دن دور نہیں جب سائنہ بیڈمنٹن کی دنیا کی تمام اونچائیوں کو چھونے میں کامیابی حاصل کر يں گی۔ | اسی بارے میں ثانیہ مداحوں کے دباؤ میں21 June, 2005 | کھیل وینس ولیمز نے ثانیہ مرزا کو ہرا دیا06 January, 2006 | کھیل دبئی میں ثانیہ کی فتح01 March, 2005 | کھیل ثانیہ مرزا نے تاریخ رقم کر دی19 January, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||