BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 02 February, 2009, 09:10 GMT 14:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سری لنکا:ہسپتال پر حملہ، نو ہلاک
فائل فوٹو
فوج اور تمل باغیوں کے درمیان جنگ سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔
امدادی تنظیم ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ جنگ سے متاثرہ شمالی مشرقی شری لنکا میں ایک ہسپتال پر کیے جانے والے حملوں میں بچوں سمیت نو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

ریڈ کراس کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ حملوں کا نشانہ بننے والا ہسپتال ملے تیوی ضلع کے پتھکودیارپو میں واقع ہے اور گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں اس ہسپتال پر تین بار حملہ ہوا۔

ادھر اقوام متحدہ کے ترجمان گورڈن وائس نے بی بی کو بتایا کہ ہسپتال میں بچوں کے لیے بنے وارڈ پر گولے داغے گئے ہیں۔ لیکن یہ نہیں معلوم یہ گولے کس نے داغے۔ انہوں نے بتایا جس وقت حملہ ہوا اس وقت ہسپتال میں کافی بھیڑ تھی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ حملے میں ہلاکتوں کی صحیح تعداد پتہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

گورڈن وائس کا کہنا تھا کہ یہ حملے عالمی انسانی حقوق کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔

سری لنکن حکومت نے ان حملوں میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے جبکہ علیحدگي پسند باغی تمل ٹائیگرز کی جانب سے بھی اس حملے کے بارے میں کوئی بیان نہیں آیا ہے۔

خیال رہے کہ باغیوں کے قبضے والے اس علاقے میں یہ واحد ہسپتال ہے جہاں زخمیوں کا علاج ہورہا ہے۔ اسی ہسپتال کے آس پاس تمل باغیوں اور فوج کے درمیان لڑائی سے بچنے کے لیے ہزاروں افراد نے پناہ لی ہے۔

فوج کی کاروائی کے بعد تمل باغی جنگل میں رہ رہے ہیں۔ امدادی ایجنسیوں کے مطابق وہاں ڈھائی لاکھ سے زائد شہری بھی ہیں۔حکومت کا کہنا ہے کہ وہاں پھنسے ہوئے شہریوں کے تعداد ایک لاکھ بیس ہزار سے ہے اور فوج کی پالیسی کے تحت وہ شہریوں پر گولی نہیں چلا سکتی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ تمل باغی شہریوں کو باہر آنے نہیں دے رہے ہیں اور انہیں اپنے تحفظ کے لیے بطور انسانی ڈھال استعمال کر رہے ہیں جبکہ باغیوں کا کہنا ہے کہ شہری ان کی حفاظت میں رہنا پسند کرتے ہیں۔

 فوج نے جہاں جہاں قبضہ کیا ہے وہاں کی آبادی کے بہت کم لوگ وہاں پائے گئے ہیں جس سے ایک سوال یہ کھڑا ہوگیا ہے کہ یا تو تمل ٹائیگرز انہیں زبردستی اپنے ساتھ لے گئے ہیں یا وہ لڑائی کے ڈر سے پہلے ہی وہاں سے بھاگ گئے۔

حکومت کے ترجمان کہلیا رامبکویلا کا کہنا ہے کہ ’ہمیں اب شہریوں کو بچاتے ہوئے آگے کی کاروائی کرنی ہوگی‘۔ کہلیا رامبکویلا کا مزید کہنا تھا کہ ’اب بات ظاہر ہے کہ تمل باغیوں کے سربراہ پربھاکرن شہریوں کو اپنی حفاظت کے لیے ایک شیلڈ کی طرح استعمال کر رہے ہیں‘۔

سری لنکا کی فوج کا کہنا ہے وہ شہریوں کے محفوظ انخلاء کے لیے دی گئی مدت ختم ہوتے ہی اپنی کارروائی شروع کر دے گی۔

اسی دوران سری لنکا حکومت نے خبردار کیا ہے کہ باغیوں سے ہمدردی جتانے والی امدادی اور خبر رساں اداروں کو سری لنکا سے باہر نکال دیا جائے گا۔امدادی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ جنگ کے میدان میں پھنسے لوگ بری حالت میں ہیں اور اس دوران سیکڑوں لوگوں ہلاک ہوچکے ہیں۔

سری لنکا میں اس جنگ کی وجہ سے ڈھائی لاکھ افراد بےگھر ہوگئے ہیں اور چونکہ امدادی ایجنسیوں کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے اس لیے وہاں افراتفری کا ماحول ہے۔ بیشتر لوگوں کے پاس رہنے کی جگہ نہیں ہے، لوگوں کو دوائیوں اور کھانے پینے کا سامان دستیاب نہیں ہے۔

فوج نے جہاں جہاں قبضہ کیا ہے وہاں کی آبادی کے بہت کم لوگ وہاں پائے گئے ہیں جس سے ایک سوال یہ کھڑا ہوگیا ہے کہ یا تو تمل ٹائیگرز انہیں زبردستی اپنے ساتھ لے گئے ہیں یا وہ لڑائی کے ڈر سے پہلے ہی وہاں سے بھاگ گئے۔

تمل باغیوں کے اقتدار والے تقریباً سبھی علاقوں پر سری لنکا کی حکومت کا قبضہ ہوگیا ہے لیکن ایل ٹی ٹی کے سربراہ ویلوپلے پربھاکرن کا کوئی پتہ نہیں ہے اور قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ وہ ملایشیا یا تھائی لینڈ چلے گئے ہیں۔

’میں بزدل نہیں ہوں‘
سری لنکن ایڈیٹر کا قتل سے پہلے آخری اداریہ
قبضے کی اہمیتقبضے کی اہمیت
تامل ٹائیگرز کے مرکز پر فوج کا قبضہ کتنا اہم؟
مفاہمت نہیں امن
تامل اور سری لنکا کے مذاکرات کا مقصد
سری لنکا میں خوف
سری لنکا میں خانہ جنگی کا خطرہ پھربڑھ رہا ہے۔
ویلو پِلی پربھاکرن ٹائیگرز کا الٹی میٹم
سال کے اندر اندر سیاسی حل پیش کرنےکا مطالبہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد