سری لنکا:ہسپتال پر حملہ، نو ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امدادی تنظیم ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ جنگ سے متاثرہ شمالی مشرقی شری لنکا میں ایک ہسپتال پر کیے جانے والے حملوں میں بچوں سمیت نو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ ریڈ کراس کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ حملوں کا نشانہ بننے والا ہسپتال ملے تیوی ضلع کے پتھکودیارپو میں واقع ہے اور گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں اس ہسپتال پر تین بار حملہ ہوا۔ ادھر اقوام متحدہ کے ترجمان گورڈن وائس نے بی بی کو بتایا کہ ہسپتال میں بچوں کے لیے بنے وارڈ پر گولے داغے گئے ہیں۔ لیکن یہ نہیں معلوم یہ گولے کس نے داغے۔ انہوں نے بتایا جس وقت حملہ ہوا اس وقت ہسپتال میں کافی بھیڑ تھی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ حملے میں ہلاکتوں کی صحیح تعداد پتہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ گورڈن وائس کا کہنا تھا کہ یہ حملے عالمی انسانی حقوق کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔ سری لنکن حکومت نے ان حملوں میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے جبکہ علیحدگي پسند باغی تمل ٹائیگرز کی جانب سے بھی اس حملے کے بارے میں کوئی بیان نہیں آیا ہے۔ خیال رہے کہ باغیوں کے قبضے والے اس علاقے میں یہ واحد ہسپتال ہے جہاں زخمیوں کا علاج ہورہا ہے۔ اسی ہسپتال کے آس پاس تمل باغیوں اور فوج کے درمیان لڑائی سے بچنے کے لیے ہزاروں افراد نے پناہ لی ہے۔ فوج کی کاروائی کے بعد تمل باغی جنگل میں رہ رہے ہیں۔ امدادی ایجنسیوں کے مطابق وہاں ڈھائی لاکھ سے زائد شہری بھی ہیں۔حکومت کا کہنا ہے کہ وہاں پھنسے ہوئے شہریوں کے تعداد ایک لاکھ بیس ہزار سے ہے اور فوج کی پالیسی کے تحت وہ شہریوں پر گولی نہیں چلا سکتی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ تمل باغی شہریوں کو باہر آنے نہیں دے رہے ہیں اور انہیں اپنے تحفظ کے لیے بطور انسانی ڈھال استعمال کر رہے ہیں جبکہ باغیوں کا کہنا ہے کہ شہری ان کی حفاظت میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ حکومت کے ترجمان کہلیا رامبکویلا کا کہنا ہے کہ ’ہمیں اب شہریوں کو بچاتے ہوئے آگے کی کاروائی کرنی ہوگی‘۔ کہلیا رامبکویلا کا مزید کہنا تھا کہ ’اب بات ظاہر ہے کہ تمل باغیوں کے سربراہ پربھاکرن شہریوں کو اپنی حفاظت کے لیے ایک شیلڈ کی طرح استعمال کر رہے ہیں‘۔ سری لنکا کی فوج کا کہنا ہے وہ شہریوں کے محفوظ انخلاء کے لیے دی گئی مدت ختم ہوتے ہی اپنی کارروائی شروع کر دے گی۔ اسی دوران سری لنکا حکومت نے خبردار کیا ہے کہ باغیوں سے ہمدردی جتانے والی امدادی اور خبر رساں اداروں کو سری لنکا سے باہر نکال دیا جائے گا۔امدادی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ جنگ کے میدان میں پھنسے لوگ بری حالت میں ہیں اور اس دوران سیکڑوں لوگوں ہلاک ہوچکے ہیں۔ سری لنکا میں اس جنگ کی وجہ سے ڈھائی لاکھ افراد بےگھر ہوگئے ہیں اور چونکہ امدادی ایجنسیوں کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے اس لیے وہاں افراتفری کا ماحول ہے۔ بیشتر لوگوں کے پاس رہنے کی جگہ نہیں ہے، لوگوں کو دوائیوں اور کھانے پینے کا سامان دستیاب نہیں ہے۔ فوج نے جہاں جہاں قبضہ کیا ہے وہاں کی آبادی کے بہت کم لوگ وہاں پائے گئے ہیں جس سے ایک سوال یہ کھڑا ہوگیا ہے کہ یا تو تمل ٹائیگرز انہیں زبردستی اپنے ساتھ لے گئے ہیں یا وہ لڑائی کے ڈر سے پہلے ہی وہاں سے بھاگ گئے۔ تمل باغیوں کے اقتدار والے تقریباً سبھی علاقوں پر سری لنکا کی حکومت کا قبضہ ہوگیا ہے لیکن ایل ٹی ٹی کے سربراہ ویلوپلے پربھاکرن کا کوئی پتہ نہیں ہے اور قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ وہ ملایشیا یا تھائی لینڈ چلے گئے ہیں۔ |
اسی بارے میں سری لنکا: فوجی پیش قدمی جاری29 January, 2009 | آس پاس سری لنکا: کوئی انسانی بحران نہیں28 January, 2009 | آس پاس سری لنکن فوج:’ملے تیوو پر قبضہ‘26 January, 2009 | آس پاس ’میرا قاتل جان لے کہ میں بزدل نہیں ہوں‘13 January, 2009 | آس پاس صحافی کا جنازہ، ہزاروں شریک12 January, 2009 | آس پاس تامل باغیوں نے جہاز ڈبو دیا10 May, 2008 | آس پاس سری لنکا لڑائی بھاری جانی نقصان24 April, 2008 | آس پاس سری لنکا:52باغی اور15 فوجی ہلاک23 April, 2008 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||