BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 January, 2009, 14:51 GMT 19:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’میرا قاتل جان لے کہ میں بزدل نہیں ہوں‘
’میری موت سے مادرِ وطن میں نئی آزادیاں طلوع ہوں گی‘
سری لنکا کے اخبار سنڈے لیڈر سے وابستہ نامور صحافی لسانتھا وکرما تنگے نے جنہیں آٹھ جنوری کو قتل کر دیا گیا، اپنی موت سے چند دن پہلے ایک اداریہ لکھا تھا جس میں انہوں نے پیشگوئی کی تھی کہ انہیں قتل کر دیا جائے گا۔

یہ اداریہ ان کے اخبار نے تین روز قبل شائع کیا ہے جس میں لسانتھا نے بڑی تفصیل کے ساتھ اپنے نظریات، اپنے اخبار کا موقف، اپنے پیشے سے وابستہ چیلنجز اور اپنے ملک کی صورتِ حال پر تفصیلی بحث کی۔ اس اداریے میں انہوں نے سری لنکا کی سیاسی سمت اور تامل ٹائیگرز پر حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں عوام، خصوصاً تامل طبقے کی محرومیوں کا خاص طور سے ذکر کیا ہے۔

اس طویل ایڈیٹوریل میں جسے برطانوی اخبار گارڈین نے قدرے اختصار کے ساتھ شائع کیا ہے، لاسانتھا لکھتے ہیں کہ انہیں امید ہے کہ ان کا لہو آزادی کی شکست نہیں کہلائے گا بلکہ ایک نئے جذبے کو جنم دے گا۔

انہوں نے یہ بھی لکھا :’میں چاہتا ہوں میرا قاتل جان لے کہ میں بزدل نہیں ہوں. . . . انسانوں کو ڈھال بنا کر اس کی آڑ میں چُھپنے والا بزدل. . . . جو ہزاروں افراد کو موت کے منہ میں دھکیل دیتا ہے۔‘

میری قاتل حکومت ہی ہوگی
 مجھ پر دو مرتبہ قاتلانہ حملہ کیا گیا جسے حکومت کی آشیرباد حاصل تھی۔ اور جس دن میں قتل کر دیا جاؤں گا تو میری قاتل حکومت ہی ہوگی۔
لسانتھا

لسانتھا نے لکھا کہ دنیا میں صرف ایک ہی پیشہ ایسا ہے جو اپنے عاملان سے زندگی قربان کر دینے کو کہتا ہے اور یہ پیشہ فوج کا ہے۔ ’لیکن سری لنکا میں صحافت بھی ایک ایسا ہی پیشہ ہے جو اپنے راستے پر چلنے والوں سے جان کا نذرانہ طلب کرتا ہے۔‘

’گزشتہ کچھ برسوں سے سری لنکا میں آزاد میڈیا حملوں کا نشانہ بنا ہے، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے دفاتر میں بم مارے گئے ہیں، انہیں جلایا گیا ہے اور کئی ایک کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے۔ ان گنت صحافیوں کو ہراساں کیا گیا ہے، دھمکیاں دی گئی ہیں اور کئی ایسے ہیں جن کی جان تک لے لی گئی ہے۔‘

لسانتھا نے لکھا کہ ’سری لنکا میں تبدیلی آئی ہے مگر اچھائی، برائی میں تبدیل ہوگئی ہے۔ ملک میں خانہ جنگی ہے اور یہ جنگ وہ لڑ رہے ہیں جن میں خون کی ایسی ہوس ہے جس کی کوئی حد نہیں ہے۔ دہشت گردی کا دور دورہ ہے۔ قتل وہ ہتھیار ہے جس کے ذریعے ریاست آزادیوں کا خون کرتی ہے۔ آج صحافی سہہ رہے ہیں، کل جج جھیل رہے ہوں گے۔‘

لسانتھا کے مطابق انہیں اس بے باکی سے کام کرنے سے دوستوں نے بھی منع کیا اور سیاست دانوں نے بھی سمجھایا۔ انہیں وزارتوں کی پیشکش بھی ہوئی اور سری لنکا سے باہر آرام دہ رہائش سے بھی للچایا گیا مگر ’میں اس پیشہ سے وابستہ ہوں جو اب بھی ان سب باتوں سے مبرا ہے۔ میرے اندر ضمیر کی ایک آواز ہے۔‘

ان کے مطابق ان کے اخبار نے جو دیکھا وہ لکھا۔ ’ہم نے وہ آواز اٹھائی جو بہت سے کانوں کو بھاتی نہیں تھی۔ ہم نے کہا کہ علیحدگی پسند دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ دینا چاہیے لیکن دہشت گردی کی بنیادی وجہ تلاش کرنا اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ ہم نے دہشت گردی کے خلاف ریاستی جنگ کے بارے میں بھی لکھا اور بتایا کہ سری لنکا روئے زمین پر وہ واحد ملک ہے جہاں اپنے ہی شہریوں پر بم برسائے جاتے ہیں۔ چنانچہ ہمیں غدار کہا گیا۔ اگر غداری اسے ہی کہتے ہیں تو ہمیں فخر ہے کہ ہم غدار ہیں۔‘

صدر راج پکشئے کے نام
 ’تمہیں میرا قتل کبھی نہیں بھولے گا۔ مجھے معلوم ہے کہ تمہیں بھی میری موت کا افسوس ہوگا لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تم کچھ نہیں کر سکو گے۔ تم بس میرے قاتلوں کو بچاؤ گے۔
لسانتھا

’جنگ کے خلاف ہمارے نظریات کا یہ مطلب نہیں کہ ہم تامل ٹائیگرز کے طرف دار ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تامل ٹائیگرز کا گروپ، خون کے پیاسوں کی تنظیم ہے اور زمین پر نازل ہونے والا درد ناک عذاب ہے۔ اس کی بیخ کنی ہونی چاہیے لیکن اس طرح نہیں کہ تامل شہریوں کے حقوق پامال کر دیئے جائیں اور بے رحم گولیاں انہیں نشانہ بنائیں۔‘

لسانتھا کا کہنا تھا کہ ان پر دو مرتبہ قاتلانہ حملہ کیا گیا جسے بقول ان کے حکومت کی آشیرباد حاصل تھی۔ ’اور جس دن میں قتل کر دیا جاؤں گا تو میری قاتل حکومت ہی ہوگی۔‘

اپنے اداریے میں انہوں نے ملک کے صدر راج پکشئے کو بھی مخاطب کیا جن سے ان کی صاحب سلامت تھی۔ انہوں نے اس زمانے کی یاد آوری کی جب وہ، موجودہ صدر( جو اس وقت صدر نہیں تھے) اور چند دیگر دوست مل کر سیاسی موضوعات پر بات چیت کیا کرتے تھے۔‘

انہوں نے موجودہ صدر کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا: ’تمہیں میرا قتل کبھی نہیں بھولے گا۔ مجھے معلوم ہے کہ تمہیں بھی میری موت کا افسوس ہوگا لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تم کچھ نہیں کر سکو گے۔ تم بس میرے قاتلوں کو بچاؤ گے۔‘

اداریے میں لکھا ہے کہ سنڈے لیڈر اپنی جنگ جاری رکھے گا اور اس اخبار کو اتنی آسانی سے موت کی نیند نہیں سلایا جا سکے گا کیونکہ ’میری موت مختلف قوتوں کو اکٹھا کر دے گی جس سے مادرِ وطن میں انسانی آزادیوں کا نیا سویرا طلوع ہوگا۔‘

مفاہمت نہیں امن
تامل اور سری لنکا کے مذاکرات کا مقصد
سری لنکا میں خوف
سری لنکا میں خانہ جنگی کا خطرہ پھربڑھ رہا ہے۔
اسی بارے میں
سری لنکا بس حملہ، 26 ہلاک
16 January, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد