BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 21 January, 2006, 13:21 GMT 18:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سری لنکا: خوف کے بڑھتے سائے
پلالے کیمپ میں موجود فوجی جافنا کے گرد متعین کیے جانے کی تیاریاں کر رہے ہیں
سری لنکا تشدد کے ایک نئے دور میں قدم رکھ چکا ہے اور سونامی کی آمد سے پیدا ہونے والی امن کی توقعات دم توڑ چکی ہیں۔

ایک سال پہلے جب سمندری طوفان سونامی آیا تھا تو خیال کیا جا رہا تھا کے قدرتی تباہی کی اس ہولناکی سے حکومت اور تامل باغیوں کے درمیان اختلافات کم ہوں گے اور دونوں مل کر تباہی کا نشانہ بننے والوں کے لیے کام کریں گے۔

ایسا نہیں ہو سکا۔ برسوں سے ایک دوسرے پر بد اعتمادی امداد کے وسائل کی تقسیم پر اور بڑھ گئی۔ باہمی تعلقات اور مزید خراب ہوگئے اور 2002 میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد کا بدترین وقت ہے۔

مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور گزشتہ ماہ جو خون خرابہ ہوا اس کی مثال گزشتہ چار سال میں نہیں ملتی۔ ایک بار پھر فوجیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور تامل شہریوں کو ہلاک اور اغوا کیا جا رہا ہے۔ سب سے بدترین حملے شمالی جزیرہ نما جافنا میں ہوئے ہیں۔

فوج میں جو نئے بھرتی ہونے والے نوجوان جنہیں جنگ کے لیے تیار کیا جا رہا ہے خوفزدہ اور بد حواس ہیں لیکن ان کے کمانڈر جو اس سے پہلے بھی باغیوں کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لے چکے ہیں کہتے ہیں کہ وہ ہر طرح کے حالات سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

پلالے کیمپ میں موجود فوجی جافنا کے گرد متعین کیے جانے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ ان میں وہ فوجی بھی ہیں جو پہلی بار اس محاذ پر جائیں گے جو کہیں سے بھی شروع ہو سکتا ہے۔ انہیں پتہ ہے کہ اپنے کیمپ سے نکلنے کے بعد ان کے قافلے کو کہیں بھی بارودی سرنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ہر بار ایسے حملوں کی ذمہ داری تامل باغیوں پر ڈالی جاتی ہے اور ہر بار وہ اس کی تردید کرتے اور کہتے ہیں کہ یہ ’عوامی ردِ عمل‘ ہے۔ لیکن بہت کم لوگ ان پر اعتبار کرتے ہیں۔ سری لنکا کی فوج کا کہنا ہے کہ ایسے حملوں کی مہارت صرف تامل باغی ہی رکھتے ہیں۔

’میرے بیٹے کو فوجیوں نے مارا ہے‘

جو بھی ہو، اس محاذ آرائی کے سب سے سنگین اثرات تامل شہریوں پر پڑ رہے انہیں ہراساں کیا جاتا ہے، اغوا کیا جاتا ہے اور ہلاک بھی کر دیا جاتا ہے۔

سری لنکا میں حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والے ایک وکیل کا کہنا ہے کہ اس طرح کی شکایات کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کچھ ہی دن پہلے ایک جوڑا ان کے دفتر آئے اور شکایت کی کہ ان کے بیٹے کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رات کے وقت ان کے گھر میں داخل ہونے والے حکومت نواز ملیشیا کے لوگ تھے۔

وکیل کا کہنا ہے کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس اغوا کا ذمہ دار کون ہے لیکن مغوی کی والدہ کا کہنا ہے کہ اس کے بیٹے کو فوجیوں نے مارا ہے۔ مغوی کے ماں باپ جاتے ہوئے یہ کہہ گئے کہ وہ اب یہاں سے چلے جائیں گے اور باغیوں کے ساتھ دیں گے اور لڑائی میں حصہ لیں گے۔

اسی بارے میں
سری لنکا: بےبی 81 کی واپسی
29 January, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد