دھماکہ تامل باغیوں نے کیا: حکام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا کی حکومت نے تامل باغیوں کو بارودی سرنگ کے اس دھماکے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے جس میں کم از کم چھ فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ’شمالی جافنا میں کیا جانے والا حملہ دہشتگردی تھی اور اس سے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی ہے‘۔ تامل باغیوں کے جانب سے اب تک اس دھماکے کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے۔ تاہم سری لنکن حکومت کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات کی سدِ باب کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ شمالی سری لنکا میں دھماکہ اس علاقے میں ہوا تھا جسے تامل باغیوں کا ایک مضبوط گڑھ تصور کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس دھماکے میں مزید تین فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ فروری 2002 میں حکومت اور تاملوں کے درمیان جنگ بندی کے بعد کسی واقعے میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔ فائر بندی کے مبصرین اس واقعے سے پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ شمال اور مشرقی علاقوں میں ہونے والی اشتعال انگیزیاں سلامتی کو ’ناقابلِ تلافی نقصان‘ پہنچا سکتی ہیں۔ سری لنکا کی وزارتِ دفاع کا کہنا تھا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے فوجی جافنا میں ایک ٹریکٹر ٹرالی میں جا رہے تھے کہ ٹرالی ایک بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی۔ جافنا دارالحکومت کولمبو سے ایک سو اسی میل شمال میں واقع ہے۔ جمعہ کو جافنا کے اس علاقے میں جہاں دھماکہ ہوا ہے دو تاملوں کو نامعلوم مسلح افراد نے ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد سے علاقے میں کشیدگی پائی جاتی تھی۔ تامل باغیوں کی جانب سے الزام لگایا جاتا ہے کہ فوج علیحدگی اختیار کرنے والے تامل گروہ کی سرپرستی کر رہی ہے۔ | اسی بارے میں تامل باغیوں کو مذاکرات کی دعوت28 November, 2005 | آس پاس ٹائیگر باغیوں نےدھمکی دے دی27 November, 2005 | آس پاس سری لنکا: مہندا راج پکشے کی فتح18 November, 2005 | آس پاس سری لنکا میں قاتلوں کی تلاش14 August, 2005 | آس پاس وزیرِخارجہ سری لنکا قتل کردیے گئے12 August, 2005 | آس پاس تامل امن مذاکرات، ناروے کی دلچسپی22 January, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||