تامل باغیوں کو مذاکرات کی دعوت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا کے نئے صدر نے تامل باغیوں کو امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی دعوت دی ہے۔ سری لنکا کے نو منتخب صدر مہندا راج پکشے کا کہنا تھا کہ کہ وہ سنہ 2002 میں ہونے والی جنگ بندی میں بہتری لانے کے لیے فوری طور پر مذاکرات شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات کی ضمانت نہیں دی کہ تامل ٹائیگرز کی جانب سے دی جانے والی ڈیڈ لائن تک کسی سمجھوتے تک پہنچا جا سکے گا۔ مہندا راج پکشے نے کہا کہ وہ جنگ بندی چاہتے ہیں تاکہ’دہشتگردی کی کارروائیاں‘ روکی جا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نسلی مسئلے کا حل علیحدگی نہیں۔ تامل باغی وفاقی حکومت کے ساتھ حکومت میں شراکت کے خواہاں ہیں۔یاد رہے کہ راج پکشے نے اپنی انتخابی مہم میں وعدہ کیا تھا کہ وہ تامل باغیوں سے سختی سے نمٹیں گے۔ تامل ٹائیگرز کا کہنا ہے کہ سری لنکن صدر کی ان پالیسیوں کی وجہ سے جنگ بندی کا معاہدہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ تامل ٹائیگرز نےگزشتہ روز ہی نئی سیاسی حکومت کے لیے ایک الٹی میٹم جاری کیا تھا۔ تامل رہنما ولوپلائی پربھاکرن نے کہا تھا کہ اگر آئندہ برس تک کسی قسم کا سمجھوتہ طے نہیں پا جاتا تو تامل باغی اپنی سرگرمیوں اور جدوجہد میں اضافہ کر دیں گے ۔ | اسی بارے میں ٹائیگر باغیوں نےدھمکی دے دی27 November, 2005 | آس پاس ’جنگ میرا طریقہ نہیں‘20 November, 2005 | آس پاس سری لنکا: مہندا راج پکشے کی فتح18 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||