سری لنکا دھماکہ، 13 فوجی ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکام کے مطابق شمالی سری لنکا میں بارودی سرنگ پھٹنے سے سری لنکن بحریہ کے کم از کم تیرہ ملاح ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ چار شدید زخمی افراد کو ہسپتال میں داخل کر دیا گیا ہے۔ سری لنکن فوج کا کہنا ہے کہ ضلع منار میں بحریہ کی ایک بس اور ایک ٹرک کے نزدیک ایک بارودی سرنگ کا دھماکہ ہوا۔ یہ ’ کلے مور فریگمنٹیشن ‘ قسم کی بارودی سرنگ تھی۔ سری لنکن بحریہ کے ترجمان کمانڈر جیانتھا پریرا کا کہنا ہے کہ ’ ہم مرنے والوں کی بالکل صحیح تعداد کے بارے میں ابھی نہیں جانتے تاہم اب تک ہم نے بارہ لاشیں برآمد کر لی ہیں‘۔ اگر ان ہلاکتوں کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ 2002 میں جنگ بندی کے بعد سے کسی ایک واقعہ میں مرنے والوں کی سب سے بڑی تعداد ہو گی۔ وزارتِ دفاع کے مطابق بس میں تیس کے قریب ملاح سوار تھے۔ سری لنکا کی وزارتِ دفاع کے ایک افسر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے تامل باغیوں کو اس دھماکے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ اس سے قبل جمعرات کو بھی سری لنکن بحریہ اور تامل باغیوں کے مابین جھڑپیں ہوئی تھیں جن میں بحریہ کے تین جوان ہلاک ہوگئے تھے۔ تامل باغیوں نے بھی ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ تامل باغیوں نے جمعرات کو ہونے والی جھڑپوں کے سلسلے میں ان حکومتی الزامات کی بھی تردید کی ہے کہ باغیوں نے بحریہ کی گشتی کشتیوں پر حملہ کیا بلکہ ان کا کہنا ہے کہ بحریہ کے جوانوں نے پہلے تامل باغیوں پر گولیاں چلائی تھیں۔ جنگ بندی کے مبصرین کا کہنا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کے تحت تامل باغیوں کو اس علاقے میں جانے کی اجازت نہیں جہاں یہ جھڑپ ہوئی۔ | اسی بارے میں بارودی سرنگ پھٹنے سے7 ہلاک06 December, 2005 | آس پاس دھماکہ تامل باغیوں نے کیا: حکام04 December, 2005 | آس پاس تامل باغیوں کو مذاکرات کی دعوت28 November, 2005 | آس پاس ٹائیگر باغیوں نےدھمکی دے دی27 November, 2005 | آس پاس تامل ٹائیگروں کا داخلہ بند27 September, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||