BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 December, 2005, 11:34 GMT 16:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سری لنکا، امن کیلیے کوششیں
فوجی
اس ماہ کے حملوں میں تیس فوجی ہلاک ہوچکے ہیں
سری لنکا کو امداد دینے والے اہم ممالک نے تامل ٹائیگر باغیوں سے فوری بات چیت کے لیے اپنا ایک وفد روانہ کیا ہے۔ یہ وفد تامل باغیوں کے سیاسی رہنما سے جلد ہی ملاقات کرے گا۔

سری لنکا کے معائنہ مشن کے سربراہ ہالگروپ ہاکلینڈ نے تامل باغیوں کی جانب سے کیے گئے جمعہ کے حملے کی سختی سے مذمت کی ہے۔ اس حملے میں تیرہ فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

سری لنکن حکام کے مطابق باغیوں نے ضلع منار میں بحریہ کی ایک بس اور ایک ٹرک کے نزدیک ایک بارودی سرنگ کا دھماکہ کیا تھا۔ یہ ’ کلے مور فریگمنٹیشن ‘ قسم کی بارودی سرنگ تھی۔

یہ 2002 میں جنگ بندی کے بعد سے کسی ایک واقعہ میں مرنے والوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ تاہم باغیوں کے ترجمان دایا ماسٹر نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

ہالگروپ ہاکلینڈ نے کہا ہے کہ اگر حملے جاری رہے تو یہ جنگ بندی معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہوگی اور یہ معاہدہ خطرے میں پڑ جائے گا۔

سری لنکا کے معائنہ مشن میں جاپان، برطانیہ، ناروے، امریکہ اور یورپی یونین شامل ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے سری لنکا کے وزیر اعظم سے ملاقات کی ہے۔

کولمبو میں بی بی سی کی نامہ نگار ڈومیتھا لتھرا کا کہنا ہے کہ اگر اس حملے کا تعلق تامل باغیوں سے ثابت ہوگیا تو خدشہ ہے کہ سری لنکا میں فسادات پھر سے زور پکڑ جائیں گے۔

اس سے قبل جمعرات کو بھی سری لنکن بحریہ اور تامل باغیوں کے مابین جھڑپیں ہوئی تھیں جن میں بحریہ کے تین جوان ہلاک ہوگئے تھے۔ فائر بندی کے معائنہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2002 کے معاہدے کے مطابق تامل باغیوں کو سمندری حدود میں کارروائیاں کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

گزشتہ ماہ تامل باغی رہنما ولوپلائی پرابھاکرن نے حکومت کو متنبہ کیا تھا کہ اگر اگلے سال تک تنازع کا کوئی سیاسی حل نہ نکالا گیا تو پھر ملک میں باغیوں کی کارروائیاں تیز کردی جائیں گی۔

حکومت کا اصرار تھا کہ مذاکرات ایشیا کے کسی ملک میں کیے جائیں تاہم باغیوں نے یہ پیشکش رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات یورپ میں ہونے چاہئیں۔

ملک کے مشرق اور جنوب میں تامل باغی اپنی علحیدہ ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔

ملک میں گزشتہ تین دہائیوں کے دوران ہونے والے خونی فسادات میں ساٹھ ہزار سے زائد جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔

اسی بارے میں
سونامی اور سیاست پر اثرات
23 December, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد