چنئی: بھگدڑ میں 43 افراد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی ریاست تامل ناڈو کے شہر چنئی میں ایک امدادی کیمپ میں بھگدڑ سے تینتالیس افراد ہلاک اور پچاس زخمی ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں پندرہ خواتین ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے ایک سینٹر میں یہ حادثہ پیش آیاہے جہاں لوگوں کو کپڑے اور غذائی اشیاء تقسیم کی جارہی تھیں۔ اطلاعات کے مطابق اس طرح کی افواہیں پھیلائی گئی تھیں کہ امدادی اشیاء تقسیم کرنے کے لیے اتوار آخری دن ہے اسی لیے کیمپ کے باہر تقریبا پانچ ہزار متاثرین جمع ہوئے تھے۔ صبح کے وقت ہی بھیڑ پر قابو پانا مشکل ہوگیا۔ بہت سے لوگوں نے تو دروازہ توڑنے کی بھی کوشش کی اور نتیجتا افرا تفری مچ گئی اور بھگدڑ میں تینتالیس افراد ہلاک ہوگۓ ۔ ریاستی حکومت نے مرنے والوں کے اہل خانہ کو ایک ایک لاکھ روپے کا معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ زخمیوں کو پچیس ہزار روپۓ دیے جائیں گے۔ زخمیوں کو اب سرکاری اسپتال میں منتقل کیا گیا ہے جہاں ان کا علاج چل رہا ہے۔ اسی دوران ریاست کی وزیر اعلی جے للیتا نے انتظامیہ کومزید احتیاط برتنے کی ہدایات دی ہیں۔ علاقے کے بعض افراد کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی لاپرواہی اور حفاظتی بندو بست میں کمی کے سبب یہ حادثہ ہوا ہے لیکن حکام کا کہنا ہے کہ بعض شرارت پسند عناصر کے سبب یہ واقعہ پیش آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو بدنام کرنے کے لیے اس طرح کی صورت حال پیدا کی گئی کہ اس پر قابو پانا مشکل ہوگیا۔ گزشتہ ماہ بھی اسی طرح کے ایک واقعے میں چھ افراد مارے گئے تھے۔ ریاست تامل ناڈو میں اس برس بے موسم بارشوں سے لاکھوں لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ اس موسم کی فصل پوری طرح تباہ ہوگئی ہے اور ہزاروں لوگ بے گھر ہوگئے ہیں۔ متاثرین کی مدد کے لیے حکومت نے کئی امدادی کیمپ قائم کیے ہیں اور لوگوں کو ضروری اشیاء تقسیم کی جارہی ہیں۔ | اسی بارے میں ٹنڈن کے خلاف رشوت کا مقدمہ 16 April, 2004 | انڈیا دلی: بھگدڑ میں پانچ خواتین ہلاک 13 November, 2004 | انڈیا مہاراشٹر: بھگدڑ میں 300 ہلاکتیں25 January, 2005 | انڈیا ہلاک ہونے والوں کی آخری رسومات26 January, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||