BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 November, 2004, 11:19 GMT 16:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دلی: بھگدڑ میں پانچ خواتین ہلاک

دِلّی
دِلّی میں میٹرو سروس کا آغاز
ہندوستان کی دارالحکومت دلی کے ’نئی دِلّی ریلوے اسٹیشن‘ پر بھگدڑ سے پانچ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگۓ ہیں۔ بھگدڑ کا شکار ہونے والی پانچوں خواتین تھیں۔

اطلاعات کے مطابق یہ حادثہ پلیٹ فارم نمبر تین پر پیش آیا جہاں جن سادھرڑ ایکسپریس ٹرین پر سوار ہونے والوں کی زبردست بھیڑ تھی۔

حادثے کے بعد پورے اسٹیشن پر افرا تفری مچ گئی ۔ پولیس لوگوں کو پلیٹ فارم سے ہٹانے کی کوشش کر رہی تھی۔

زخمی مسافروں کو قریبی اسپتالوں میں داخل کیا گيا ہے جن میں سے بعض کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔۔ ریلوے کے وزیر لالو پرساد یادو نے اسٹیشن اور اسپتال کا دورہ کیا ہے اور اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے لیے ایک ایک لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔ ریلوے حکام کے مطابق اس پورے واقعے کی تفتیش کے بھی احکامات دے دیۓ گیۓ ہیں۔

جن سادھرڑ ایکسپریس ٹرین دِلّی سے ریاست بہار کی دارلحکومت پٹنہ جاتی ہے ۔ بہار میں دیوالی کے بعد ’چھٹ پوجا‘ کا بڑا تہوار ہوتا ہے اور ساتھ میں عید کا بھی موسم ہے۔ مسافروں کی بڑی تعداد انہیں تہواروں میں شرکت کے لیے گھر جانے کی تیاری میں آئے تھے۔ بہار کے باشندوں کی ایک بڑی تعداد دلی میں محنت مزدوری کرتی ہے اور اس حادثے میں تقریبا سبھی متاءثرین کا تعلق اسی مزدور طبقے سے ہے۔

ریل انتظامیہ اکثر یہ دعوئی کرتی رہتی ہے کہ کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے اسکے پاس تمام بندو بست ہیں لیکن دلی کے اہم اسٹیشن پر اس طرح کا حادثے سے پتہ چلتا ہے کہ انتظامات میں کتنی کمیاں ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد