سری لنکا میں امن کی واحد امید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا کی حکومت اور تامل ٹائیگرز کے درمیان تین سال کے وقفے کے بعد بدھ کو پہلی بار براہِ راست بات چیت ہو رہی ہے۔ سری لنکا اور تامل ٹائیگرز کے درمیان یہ بات چیت سویزرلینڈ میں ہو رہی ہے اس بات چیت میں شرکت کے لیے سری لنکا کے وزراء منگل کو سوئٹزر لینڈ پہنچے۔ بی بی سی کے تـجزیہ کار پال ڈاناہر کا کہنا ہے کہ سری لنکا اس بات کو پسند کرے یا نہ کرے لیکن حقیقت یہ ہے کہ تامل ٹائیگرز سری لنکا کے شمال مشرق میں اپنی حکمرانی قائم کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ آپ جیسے ہی اس علاقے میں داخل ہوتے جس پر تامل ٹائیگروں کی حکمرانی ہے تو سب سے پہلے آپ کو اپنی گھڑی نصف گھنٹے پیچھے کرنی پڑتی ہے، جس کا مطلب ہے اب آپ تامل ٹائیگر وقت میں داخل ہو گئے ہیں اور اس کے بعد ہر چیز آپ کو تامل ٹائیگروں کی حکمرانی کا احساس دلاتی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ بات چیت مفاہمت پیدا کرنے کے لیے نہیں ہے بلکہ امن کے عمل کو بچانے اور اس جنگ بندی کو مزید بڑھانے کے لیے ہے جس کو دونوں فریق ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ان مبصرین کے مطابق دوطرفہ مفاہمت کو آگے بڑھانے سب سے بہتر موقع سونامی سے ہونے والی تباہ کاری تھی جس کے بعد تامل ٹائیگرز نے نہ صرف ساری دنیا سے بلکہ سری لنکا کی حکومت سے بھی متاثرہ ٹائیگرز کی مدد کی درخواست کی تھی لیکن اس موقعے سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔ ٹائئگرز سری لنکا کے فوجیوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام لگاتے ہیں اور حکومت کی جانب سے ٹائیگرز پر یہی الزام لگایا جاتا ہے لیکن جنگ بندی کو بچانے کی کوشش اس لیے کی جا رہی ہے کہ تا کہ مستقبل میں کسی مفامہت کو کوششیں اور دشوار نہ ہو جائیں۔ | اسی بارے میں عنان: تامل ٹائیگرز کا سخت ردعمل09 January, 2005 | آس پاس سری لنکا: تامل نواز رہنما ہلاک25 December, 2005 | آس پاس دھماکہ تامل باغیوں نے کیا: حکام04 December, 2005 | آس پاس تامل باغیوں کو مذاکرات کی دعوت28 November, 2005 | آس پاس تامل ٹائیگروں کا داخلہ بند27 September, 2005 | آس پاس تامل امن مذاکرات، ناروے کی دلچسپی22 January, 2005 | آس پاس تامل باغیوں میں لڑائی بند10 April, 2004 | آس پاس تامل ٹائیگرز کمانڈر کا مطالبہ رد04 March, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||