BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 09 January, 2005, 08:25 GMT 13:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عنان: تامل ٹائیگرز کا سخت ردعمل
عنان نے حکومت کے کہنے پر تامل علاقوں کا دورہ منسوخ کیا ہے
عنان نے حکومت کے کہنے پر تامل علاقوں کا دورہ منسوخ کیا ہے
سری لنکا کی حکومت کی طرف سے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان کو تامل علاقوں کا دورہ نہ کرنے پر رضامند کرنے پر تامل ٹائیگرز نے سخت رد عمل ظاہر کیا ہے اور کہا کہ اس سے اعتماد بحال کرنے کا ایک موقع ضائع کر دیا گیا ہے۔

کوفی عنان نے کہا ہے کہ وہ تمام علاقوں کا دورہ کرنا چاہتے ہیں لیکن چونکہ وہ حکومت کی دعوت پر سری لنکا آئے تھے اس لیے ان ہی کے پروگرام پر چلنا تھا لیکن وہ تمام علاقوں کا دورہ کرنا چاہتے ہیں۔

دریں اثنا سری لنکا کے مشرقی علاقے جس پر تامل ٹائیگرز کا کنٹرول ہے، میں سونامی کے بعد تشدد کی پہلی کارروائی ہوئی ہے۔ پولیس نے بتایا ہے کہ مشرقی علاقے ویلائے چنائی میں ایک گرنیڈ حملہ کیا گیا ہے جس میں کم از کم تین افراد ہلاک اور سینتیس زخمی ہو گئے ہیں۔

اس گرنیڈ حملے کی کسی نے بھی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

تامل ٹائیگرز کے سیاسی دھڑے کے رہنما ایس پی تھامل سلون نے بی بی سی کوبتایا ہے کہ اگر حکومت نے سونامی سے متاثرہ علاقوں کو نظر انداز کیا تو اس سے بحران پیدا ہو جائے گا۔

علاقے میں موجود بی بی سی کے نمائندے نے بتایا کہ حکومت اور تامل ٹائیگرز کے درمیان سخت بیان بازی سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ سونامی کے بعد سری لنکا کے ایک بار پھر متحد ہونے کے جو امید پیدا ہوئی تھی وہ اب ختم ہو چکی ہے۔

تامل ٹائیگرز کے ایک رہنما نے کہا تھا کہ بیس سال سے جاری تنازعے سے علاقے کواتنا نقصان نہیں پہنچا جتنا سونامی کی لہروں نے پہنچایا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ کے سکیریٹری جنرل کوفی عنان نے کہا ہے کہ وہ سری لنکا کے ان تمام علاقوں کا دورہ کرنا چاہتے ہیں جہاں سونامی سے تباہی ہوئی ہے اور وہ ملک میں امن قائم کرنے کے لیے اپنا رول ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

تامل باغیوں نے دعوی کیا ہے کہ کوفی عنان نے ان کے تامل ٹائیگرز کے رہنما ویلوپیلائی پر بھارکرن سے ملاقات کی دعوت قبول کر لی تھی۔

سری لنکا میں تامل باغیوں نے الزام لگایا کہ حکومت تامل علاقوں کو نظر انداز کر رہی ہے۔ جبکہ حکومت ان الزامات کی تردید کی ہے۔

باغیوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر ریلیف کیمپوں سے سرکاری فوجیوں کو ہٹایا نہ گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

سری لنکا میں تامل باغی گزشتہ دو عشروں سے شمالی اور مشرق میں تامل علاقوں میں خود مختار حکومت بنانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور اس میں ساٹھ ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

جمعہ کو کوفی عنان نے انڈونیشیا کا دورہ کیا تھا جہاں ایک لاکھ کے قریب افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ کوفی عنان نے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں اس طرح کی تباہی نہیں دیکھی۔

انڈونیشیا میں بھی علیحدگی پسندوں اور حکومت میں کشیدگی کی خبریں ملی ہیں۔ حکومت اور آزاد آچے تحریک نے آفت زدہ علاقوں میں ایک دوسرے پر حملوں کے الزامات عائد کئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ سونامی سے متاثر ہونے والا کوئی شخص بھی بھوک سے نہیں مرے گا۔

اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک کے سربراہ جان مورس نے کہا ہے کہ اگلے ایک ہفتے میں سونامی سے متاثر ہونے والے ہر شخص تک اقوام متحدہ کی امداد پہنچ جائے گی۔

چھبیس دسمبر 2004 کو آنے والے سونامی سے ڈیڑھ لاکھ لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ ابھی تک کسی علاقے سے وبا پھیلانے کو کوئی اطلاح نہیں ہے۔


بحرہند کاطوفان، ایک لاکھ سے زیادہ ہلاک
سونامی کی روداد
سونامی: زلزلے سے تباہی تک
سونامی:ایس ایم ایس
موبائل فون پر تحریری پیغام کی سہولت کام آئی
سونامی سے اب تک
تباہی کے بعد کی صورتحال، تصاویر میں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد