تامل ’ہیڈکوارٹر‘ پر قبضے کی اہمیت؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا کی فوج کی جانب سے تامل علیحدگی پسندوں کے مرکز شمالی شہر کِلونوچی پر قبضے نے علیحدگی پسندوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان تصادم کے ایک نئے مرحلے کی شروعات کر دی ہے۔ یہ علاقہ گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ وقت سے علیحدگی پسندوں کے قبضے میں تھا۔ سکیورٹی اہلکاروں کے لیے یہ جیت اے 9 شاہراہ پر ان کی گرفت مزید مضبوط کر دے گی۔ یہ شاہراہ جافنا کو ملک کے ديگر علاقوں سے جوڑتی ہے۔ قبضے سے پہلے تک اسی شہر میں تامل علیحدگی پسندوں کا مرکزی دفتر تھا۔ علیحدگی پسند اس شہر میں واقع اپنے سیاسی ، پولیس اور عدلیہ کے دفاتر کو بڑے جوش سے عالمی جانی مانی شخصیات اور میڈیا کے سامنے پیش کرتے تھے۔ اصل میں یہ مرکز ان کے لئے ایک متبادل دارالحکومت کا درجہ رکھتا تھا۔ علیحدگی پسندوں کے لئے اس علاقے کی یوں بھی اہمیت زیادہ تھی کہ وہ اپنے حامیوں کے سامنے کہہ سکتے تھے کہ وہ ایک متبادل حکومت چلا رہے ہیں۔ سری لنکا کے ایک تجزیہ کار ڈی بی ایس جے راج کے مطابق’ اس لیے سیاسی نکتہ نظر سے کِلونوچی پر قبضہ سری لنکا کی حکومت کے لیے کافی اہم ہے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ اب حکومت ملک کے جنوب میں اکثریت والی سنہالا برادری کو یہ بتا کر سیاسی مفاد حاصل کر سکتی ہے کہ انہوں نے تامل باغیوں اور ان کے الگ ملک کے قیام کے دعووں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ دو ہزار دو کے فائر بندی معاہدے کے بعد علیحدگی پسندوں، ناروے کے امن مذاکرات کاروں اور بیرونی ایلچیوں کے درمیان مذاکرات کے کئی ادوار کے بعد یہ علاقہ بین الاقوامی طور پر مزید اہمیت اختیار کرگیا تھا۔ ایک عرصے سے جاری شدید جھڑپوں کے سبب تباہ ہونے والی عوامی عمارتوں کی تعمیر نو کے لیے کئی بیرونی ممالک نے امداد بھیجی تھی۔ نئی دکانیں کھلیں، آس پاس کے علاقوں سے مال مقامی بازار میں آنے لگا اور اے 9 شاہراہ کے دوبارہ کھلنے کے بعد شہر کا رابطہ ملک کے دیگر حصوں سے جڑ گیا۔
جے راج کا مزید کہنا ہے،’ فوجی اعتبار سے کلونوچي کوئی اہمیت نہیں رکھتا لیکن اس سے فوج کو اے 9 شاہراہ کا وہ حصہ واپس حاصل کرنے میں مدد ملے گی جس پر علحیدگی پسندوں کا قبضہ ہے‘۔ اے 9 شاہراہ کے بند ہونے کے سبب حکومت کو جزیرہ نما جافنا میں چالیس ہزار فوجیوں اور شہریوں کے لیے امداد سمندری اور فضائی راستوں کے ذریعے بھیجنی پڑ رہی ہے۔ اب فوج وہ کرسکتی ہے جو علحیدگی پسندوں نے دس برس پہلے ان کے ساتھ کیا تھا۔ علاقے میں اپنی جگہ مستحکم کرنے کے بعد وہ اپنی توجہ ایلیفینٹ پاس پر مرکوز کرسکتے ہیں جوکہ جزیرہ نما جافنا سے جوڑنے والا ایک اہم پل ہے۔ اگر وہ ایلیفینٹ پاس پر قبضے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو علیحدگی پسند علاقہ چھوڑنے پرمجبور ہو جائیں گے۔ اس طرح پوری شاہراہ فوج اور حکومت کے قبضے میں آ سکتی ہے۔ لیکن جہاں حکومت کلونوچی کے قبضے پر خوش ہو رہی ہے وہاں کے مقامی افراد کچھ زیادہ خوش نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو دہائيوں سے اس علاقے میں جنگ اور تباہی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوا ہے۔
کلونوچی سے تعلق رکھنے والی ایک تامل خاتون جو اب کولمبو ميں رہتی ہیں کہتی ہیں، ’ماضي میں بھی علاقے کا قبضہ کئی طاقتوں کے ہاتھ میں رہ چکا ہے لیکن ان تبدیلیوں کی بھاری قیمت ہم شہریوں کو چکانی پڑتی ہے اور نقصان ہمارا ہی ہوتا ہے، ہم کو صرف امن چاہیئے۔‘ کلونوچی پر گرفت کم ہونے کے باعث اب علحیدگی پسندوں کو شمالی خطے کے ان چھوٹے علاقوں کو اپنا مرکز بنانا ہوگا جو اب بھی ان کے قبضے میں ہیں۔ بحرحال کلونوچی پر قبضے کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اس سے باغی تحریک ہی ختم ہوجائے گی۔ علیحدگی پسندوں نے ماضی میں بھی اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے اور اپنی مستحکم تحریک اور بھاری اسلحہ کے ساتھ وہ اب بھی بہت کچھ کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ اگر انہيں دیگر چھوٹے علاقوں ميں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا تب بھی وہ دوبارہ گوریلا طرز کی جنگ کا سہارا لے سکتے ہیں۔ نومبر میں اپنے سالانہ ’ہیروز ڈے‘ پر دیے گئے ایک بیان میں تامل رہنما ویلوپیلائی پربھاکرن نے اس وقت تک جدوجہد جاری رکھنے کا عندیہ دیا تھا جب تک فوج تامل علاقوں سے واپس نہیں چلی جاتی۔ ان کا کہنا تھا: ’ہمارے سامنے کتنے ہی چیلنجز کیوں نہ ہوں اور کیسے ہی حالات کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے، تاملوں کی آزادی کی جنگ جاری رہے گی‘۔ اس لئے ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ سری لنکا میں تنازعے کا خاتمہ ہے۔ | اسی بارے میں سری لنکا بس حملہ، 26 ہلاک16 January, 2008 | آس پاس تامل باغیوں نے جہاز ڈبو دیا10 May, 2008 | آس پاس سری لنکا:52باغی اور15 فوجی ہلاک23 April, 2008 | آس پاس سری لنکا میں دھماکہ بیس ہلاک02 February, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||