BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 January, 2009, 15:04 GMT 20:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صحافی کا جنازہ، ہزاروں شریک
سری لنکا کے صدر مہندا راجپکشے نے جارحانہ حکمت عملی اختیار کی ہے
سری لنکا کے جانے مانے صحافی لاسانتھا وکرماتنگے کے جنازے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

کولمبو کے گولڈ چرچ میں ان کی دعائیہ تقریب کے موقع پر سخت سیکورٹی کا انتظام کیا گیا تھا۔

لاسانتھا وکرماتنگے کو کولمبو شہر کے قبرستان جنرل سیمٹری میں دفنایاگیا ہے۔

لاسانتھا وکرماتنگے سنڈے لیڈر نامی اخبار کے ایڈیٹر تھے اور گزشتہ جمعرات کو کام سے واپس لوٹتے وقت نامعلوم افراد نے انہیں گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔

خبروں کے مطابق دس ہزار سے زیادہ افراد نے ان کی آخری رسومات میں شرکت کی۔

سری لنکا میں تمل ٹائیگرز کے ساتھ جاری جنگ جیسے جیسے تیز ہوئی ہے ویسےہی صحافیوں پر حملے تیز ہوئے ہیں۔

میڈیا کی آزادی کے لیے کام کرنے والے گروپس کا کہنا ہے کہ تشدد کی وجہ سے صحافیوں کے لیے رپورٹنگ کرنے کے لحاظ سے سری لنکا سب سے مشکل ملک بن گیا ہے۔

حملے میں وکرماتنگے کو سر پر گولیاں لگی تھیں۔ تین گھنٹے تک ان کے سر کی سرجری کرنے کے باوجود بھی ڈاکٹر انہیں بچا نہیں پائے تھے۔

 میڈیا کی آزادی کے لیے کام کرنے والے گروپس کا کہنا ہے کہ تشدد کی وجہ سے صحافیوں کے لیے رپورٹنگ کرنے کے لحاظ سے سری لنکا سب سے مشکل ملک بن گیا ہے۔

پولیس اس معاملے میں ابھی تک کوئی گرفتاری نہیں کرپائی ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ وکرماتنگے حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے رہے ہیں اور اسی کی وجہ سے ان کا حکومت سے ٹکرا‎‎ؤ رہتا تھا۔ نامہ نگاروں کے مطابق ان کی ہلاکت سری لنکا میں میڈیا کو ایک بڑا دھچکا ہے۔

منگل کو بعض مسلح افراد نے ملک کے سب سے بڑے پرائیوٹ ٹی وی کمپنی ایم بی سی گروپ پر حملہ کیا تھا۔

تمل ٹائيگرز اور حکومت کے درمیان جنگ کے کوریج کو لیکر حکومت نے ایم بی سی گروپ کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

52 سالہ وکرماتنگے کا اخبار حکومت کی پالیسیوں اور تمل ٹائيگرز کے ساتھ جاری جنگ کی تنقید کرتا رہا ہے۔

اپنے کرئیر کے دوران متنازعہ رپورٹنگ کی وجہ سے وکرماتنگے کو کئی بار جان سے مار دینے کی دھمکی بھی ملی تھی۔ ا س کے علاوہ کئی مواقع پر انہیں حراست میں بھی لیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ 2006 سے اب تک سری لنکا میں 10 سے زائد میڈیا ملازمین کی ہلاکت ہوچکی ہے۔

حکومت پر اس طرح کے الزامات لگتے آئے ہیں کہ اگر صحافی تمل ٹائيگرز کے ساتھ ہمدردی دکھاتے ہیں تو میڈیا پر تشدد کو حکومت کی حوصلہ افزائی حاصل ہوتی ہے۔ حالانکہ حکومت نے ان الزامات کی مذمت کی ہے اور کہا ہے صحافیوں کی ہلاکت کی تفتیش کرنے میں وہ پولیس کو پورا تعاون دے گی۔

مفاہمت نہیں امن
تامل اور سری لنکا کے مذاکرات کا مقصد
سری لنکا میں خوف
سری لنکا میں خانہ جنگی کا خطرہ پھربڑھ رہا ہے۔
اسی بارے میں
سری لنکا بس حملہ، 26 ہلاک
16 January, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد