سری لنکا: کوئی انسانی بحران نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا کے وزیر دفاع گوتابھایا راجا پاکسے نے کہا ہے کہ ملک کے شمال میں جہاں سرکاری فوج تامل باغیوں کے خلاف ایک بڑی کارروائی کررہی ہے وہاں کسی قسم کا انسانی بحران نہیں ہے۔ اس سے قبل ریڈ کراس کی بین الاقوامی تنظیم آئی سی آر سی اور اقوام متحدہ نے کہا تھا کہ سری لنکا میں جہاں سرکاری فوجیں تامل باغیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہیں وہاں بہت بڑے انسانی المیے کے آثار نظر آرہے ہیں۔ تاہم راجاپاکسے نے بی سی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’شمال میں کوئی انسانی المیہ نہیں ہے۔ ہم عادی ہیں اس کے۔ اور یہ سب پروپیگنڈا اور اِن تنظیموں کی گھبراہٹ ہے۔ اقوام متحدہ اور ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے پاس درست معلومات نہیں ہیں کیونکہ وہ علاقے میں آزادی سے آجا نہیں سکتے۔‘ وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر شہریوں کو نقصان نہ پہنچانے کی پالیسی پر کاربند ہیں۔ ریڈ کراس کے جنوبی ایشیا کے شعبے کے مطابق سرکاری فوج اور علیحدگی پسند باغیوں کے مابین جھڑپوں میں اب تک سینکڑوں عام شہری مارے جاچکے ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ ڈھائی لاکھ کے قریب افراد چاروں طرف سے گِھرے ہوئے ہیں۔ شعبے کے سربراہ نے کہا کہ دو سو انتہائ زخمی لوگوں کو باہرنکالنے کی درخواست رد کردی گئ ہے حالانکہ ان کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ اقوام متحدہ جمعرات کے روز شدید زخمیوں کو متاثرہ علاقے سے نکالنے کی ایک اور کوشش کرے گا۔ | اسی بارے میں سری لنکن فوج:’ملے تیوو پر قبضہ‘26 January, 2009 | آس پاس خانہ جنگی خاتمے کے قریب: جنرل25 January, 2009 | آس پاس ’باغیوں کےآخری گڑھ پرفوج کاقبضہ‘25 January, 2009 | آس پاس کولمبو میں ایک اور مدیر پر حملہ23 January, 2009 | آس پاس شمالی سری لنکا میں لڑائی 17 January, 2009 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||