BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 January, 2009, 17:33 GMT 22:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شمالی سری لنکا میں لڑائی
جنگجوؤں نے پچاس فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے
سری لنکا کے شمال میں فوج اور مسلح تامل علیحدگی پسندوں کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔ تامل علیحدگی پسندوں کی ایک حامی ویب سائیٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ دھرماپورم قصبے کے قریب تامل جنگجوؤوں نے حکومتی فوج کے ایک حملے کا بھرپور جواب دیتے ہوئے فوج کے پچاس جوان ہلاک کردیے ہیں۔

سری لنکا کی حکومت نے اِس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اِس قصبے پر دو روز پہلے ہی قبضہ کرلیا گیا ہے۔

اسی دوران سری لنکا کے دورے پر آئے ہوئے بھارتی وزیر خارجہ شیو شنکر مینن نے صدر مہیندا راجا پاکشے سے شمال کی صورتحال پر بات چیت بھی کی ہے۔

شیو شنکر مینن کا یہ دورہ ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جب بھارت کی حکومت کو اپنے کچھ اتحادیوں کی جانب سے پڑوسی ملک سری لنکا میں فوج اور تامل علیحدگی پسند جنگجوؤں کے درمیان فائر بندی کروانے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے۔

سری لنکا کے شمال میں جاری فوجی کاروائی پر بھارت کی جنوبی ریاست تامل ناڈو میں خاصی تشویش پائی جاتی ہے جہاں قریب چھ کروڑ تامل لوگ رہتے ہیں جو کہ سری لنکا میں رہنے والے تاملوں سے قریبی سماجی اور نسلی تعلق رکھتے ہیں۔

 سری لنکا میں کئی تاملوں کا خیال ہے کہ اِس لسانی تنازعے کا کوئی سیاسی حل بغیر بھارت کی مداخلت کے ممکن نہیں۔
ریاست تامل ناڈو کی کچھ سیاسی جماعتیں بھارت کی مرکز ی حکومت میں شامل بھی ہیں اور یہ جماعتیں بھارتی حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہیں کہ وہ تامل لوگوں کی نمائندگی کرتے ہوئے اِس تنازعے میں فوری طور پر مداخلت کرے ان جماعتوں کا موقف ہے کہ اِس تنازعے میں عام شہری ہلاک ہو رہے ہیں، لہذا بھارت کو مداخلت کرنی چاہیے جبکہ بھارتی حکومت سری لنکا کے اس تنازعے میں فریق بننا نہیں چاہتی۔

بھارت کا سرکاری موقف یہ ہے کہ ایک متحد سری لنکا کے لئے بات چیت کے ذریعے کوئی حل نکالا جائے کیونکہ بھارت جانتا ہے کہ سری لنکا میں ہونے والی کوئی بھی شکست و ریخت خود اُس کی سکیورٹی کے لئے خطرہ ہوسکتی ہے۔

بھارتی حکومت نے اب تک سری لنکا میں فوجی کاروائی ختم کرنے کو تو نہیں کہا ہے لیکن تامل علیحدگی پسندوں کے خلاف جاری کاروائی سے متاثرہ علاقوں میں پھنسے عام لوگووں کے لئے مزید امداد کی پیشکش ضرور کی ہے۔

سری لنکا میں کئی تاملوں کا خیال ہے کہ اِس لسانی تنازعے کا کوئی سیاسی حل بغیر بھارت کی مداخلت کے ممکن نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد