’باغیوں کےآخری گڑھ پرفوج کاقبضہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا کی بری فوج نے دعوٰی کیا ہے کہ سری لنکن فوجیوں نے ملک کے شمال مشرق میں تامل باغیوں کے آخری گڑھ ملیاتیوہ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ اس سے قبل فوجی ترجمان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ابھی شہر پر قبضہ نہیں ہوا ہے اور شدید لڑائی جاری ہے۔ سری لنکن ٹی وی پر لیفٹیننٹ جنرل سراتھ فونسک نے کہا ہے کہ فوجیوں نے ایک ماہ کی جنگ کے بعد ملیاتیوہ پر ’مکمل قبضہ‘ کر لیا ہے۔ تامل باغیوں کی جانب سے ابھی تک کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے جنہیں حالیہ مہینوں میں مسلسل ناکامیوں کا سامنا ہو رہا ہے۔ سری لنکن حکومت نے تامل باغیوں کو کچلنے کا عہد کیا ہے جو گزشتہ پچیس برس سے علیحدہ ریاست کے لیے لڑ رہے ہیں۔اس شورش کے دوران کم از کم ستر ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ فوج کے مطابق سنیچر کو تامل باغیوں نے فوج کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے ڈیم کی دیوار توڑ دی تھی۔ ان دعوؤں کی تصدیق بھی نہیں کی جا سکتی کیونکہ شورش زدہ علاقوں میں صحافیوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ حالیہ مہینوں میں سری لنکن حکومت کو کئی فوجی کامیابیاں ملی ہیں جن میں باغیوں کا دارالحکومت سمجھے جانے والے شہر کلو نوچی پر فوجی قبضہ شامل ہے۔ اتنا ہی نہیں باغیوں کو شمال مشرق میں ایک چھوٹے سے علاقے میں دھکیل دیا گیا تھا۔ کچھ اہلکاروں کا خیال ہے کہ فوج اگلے چند ہفتوں میں شمالی علاقے پر بھی قبضہ کر لے گی۔فوجی دستوں کی اتنی پیش قدمی کے باوجود بھی باغیوں نے کئی مرتبہ جنگل میں اپنے خفیہ اڈوں سے فوج کے خلاف گوریلا جنگ کا بھر پور استعمال کیا ہے۔ |
اسی بارے میں قتل سے سیاسی فائدہ اٹھانے کا الزام13 January, 2009 | آس پاس صحافی کا جنازہ، ہزاروں شریک12 January, 2009 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||