قتل سے سیاسی فائدہ اٹھانے کا الزام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا کی حکومت نے حزبِ مخالف پر الزام لگایا ہے کہ وہ صحافی لاسانتھا وکرماتنگے کے قتل کے معاملے کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ لاسانتھا وکرماتنگے ’سنڈے لیڈر‘ نامی اخبار کے ایڈیٹر اور حکومت کے بڑے ناقد تھے۔ انہیں گزشتہ جمعرات کو دفتر سے واپسی پر نامعلوم افراد نےگولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ سری لنکن کابینہ کے رکن راجیتھا سنارتنے نے کہا ہے کہ وہ یہ تو نہیں جانتے کہ لاسانتھا کو کس نے ہلاک کیا لیکن یہ بات واضح ہے کہ اس کا فائندہ حزب ِ مخالف کو پہنچا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ تامل باغیوں یا کسی اور کا کام ہے لیکن اس کا فائدہ کسے پہنچا؟‘ انہوں نے کہا کہ’ اپوزیشن’ اس دردناک واقعہ سے سیاسی فائندہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے‘۔ لاسانتھا وکرماتنگے کی ہلاکت کے بعد ان کے اخبار نے خود ان کا لکھا ہوا ایک اداریہ شائع کیا ہے جس میں انہوں نے حکومت کو اپنے ممکنہ قتل کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔سری لنکن وزیر نے اگرچہ اس مضمون پر تو تبصرہ نہیں کیا تاہم وہ اس بات پر زور دیتے رہے کہ اس قتل کے پیچھے حکومت کا ہاتھ نہیں۔ نامہ نگاروں کے مطابق حکومت کا یہ بھی موقف ہے کہ یہ قتل سری لنکن حکومت کا نام بدنام کرنے کی سازش کی ایک کڑی ہے۔ حکومت کے مطابق حال ہی میں ملک کے سب سے بڑے ٹی وی سٹیشن میں ہونے والی توڑ پھوڑ سمیت ذرائع ابلاغ کو نشانہ بنائے جانے کے دیگر واقعات دراصل سری لنکن فوج کی کامیابیوں اور تامل باغیوں کے اہم مرکز کیلینوچچی پر حکومتی کنٹرول جیسے واقعات سے توجہ ہٹانے کی سازش ہے۔ سری لنکا میں تمل ٹائیگرز کے ساتھ جاری جنگ جیسے جیسے تیز ہوئی ہے ویسےہی صحافیوں پر حملے تیز ہوئے ہیں۔ میڈیا کی آزادی کے لیے کام کرنے والے گروپس کا کہنا ہے کہ تشدد کی وجہ سے صحافیوں کے لیے رپورٹنگ کرنے کے لحاظ سے سری لنکا سب سے مشکل ملک بن گیا ہے۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ 2006 سے اب تک سری لنکا میں 10 سے زائد میڈیا ملازمین کی ہلاکت ہوچکی ہے۔ |
اسی بارے میں صحافی کا جنازہ، ہزاروں شریک12 January, 2009 | آس پاس سری لنکا بس حملہ، 26 ہلاک16 January, 2008 | آس پاس تامل باغیوں نے جہاز ڈبو دیا10 May, 2008 | آس پاس سری لنکا:52باغی اور15 فوجی ہلاک23 April, 2008 | آس پاس سری لنکا میں دھماکہ بیس ہلاک02 February, 2008 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||