سری لنکن فوج:’ملے تیوو پر قبضہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکن فوج کے سربراہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے تمل ٹائیگرز کے آخری ٹھکانے ملے تیوو کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ شری لنکا ٹی وی پر وہاں کی فوج کے چیف لیفٹینٹ جنرل سرت فونسیکا نے بتایا کہ انکی فوج نے ایک مہینے کی جنگ کے بعد ملے تیوو پر پوری طرح سے قبضہ کرلیا ہے۔ فوج کے اس دعوے پر تمل ٹائیگر جنگجؤں کی جانب سے کوئی بیان نہیں آیا ہے۔ حالیہ جنگ میں پچیس سالوں سے علیحدگی کا مطالبہ کرنے والے تمل ٹائيگرز کو بھاری ہار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ علیحدگی پسندوں اور حکومت کے درمیان اس جنگ میں اب تک کم از کم ستر ہزار افراد مارے گئے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی اے پی نے جنرل فونسیکا کے حوالے سے کہا ہے کہ تمل ٹائيگروں کے خلاف جنگ تقریباً پوری ہوگئی ہے۔ ان کے اس دعوے کو ٹی وی پر دیکھائے جانے کے بعد دارالحکومت کولمبو میں جشن کا ماحول تھا، جگہ جگہ آتش بازی کی گئی۔ ملےتیوی میں جب فوج داخل ہوئی تھی تو تمل ٹائيگرز نے ایک ڈیم توڑ دیا تھا تاکہ وہاں پانی بھر جائے اور فوج آگے نہ بڑھ سکے۔ پر چونکہ جنگ کے میدان میں کسی آزاد صحافی کو جانے کی اجازت نہیں ہے اس لیے فوج کے کسی بھی دعوی کی تصدیق نہیں ہوسکتی ہے۔ بی بی سی کے ایتھیراجن انبرسن کا کہنا ہے کہ ملےتیوو کے ہاتھ سے نکل جانے سے تمل ٹائیگروں کا ایک بڑا فوجی ٹھکانہ ختم ہوگیا ہے۔ بی بی سی کی نامہ نگار رینو اگال کے مطابق شری لنکا میں اس جنگ کی وجہہ سے ڈھائی لاکھ بے گھر ہوگئے ہیں اور کیونکہ امدادی ایجنسیوں کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے اس لیے وہاں افراتفری کا ماحول ہے۔ بیشتر لوگوں کے پاس رہنے کی جگہ نہیں ہے، لوگوں کو دوائیوں اور کھانے پینے کا سامان دستیاب نہیں ہے۔ جہاں جہاں فوج نے اپنا قبضہ کیا ہے وہاں کی آبادی کے بہت کم لوگ وہاں پائے گئے ہیں جس سے ایک سوال یہ کھڑا ہوگیا ہے کہ یا تو تمل ٹائیگرز انہیں زبردستی اپنے ساتھ لے گئے ہیں یا وہ لڑائی کے ڈر سے پہلے ہی وہاں سے بھاگ گئے۔ تمل باغیوں کے اقتدار والے تقریباً سبھی علاقوں پر سری لنکا کی حکومت کا قبضہ ہوگیا ہے لیکن ایل ٹی ٹی کے سربراہ ویلوپلے پربھاکرن کا کوئی پتہ نہیں ہے۔ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ یا تو وہ ملیشیا یا تھائی لینڈ چلے گئے ہیں۔ |
اسی بارے میں قتل سے سیاسی فائدہ اٹھانے کا الزام13 January, 2009 | آس پاس صحافی کا جنازہ، ہزاروں شریک12 January, 2009 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||