BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 January, 2009, 23:29 GMT 04:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سری لنکا: فوجی پیش قدمی جاری
زخمی شہری
شمالی سری لنکا میں سرکاری فوج اور باغیوں کے درمیان جھڑپوں میں زخمی ہونے والے شہری
سری لنکا کی فوج نے کہا ہے کہ ملک کے شمال میں تامل باغیوں کے خلاف اس کی پیشقدمی جاری ہے اور باغیوں کے کئی ٹھکانے اس کے قبضے میں آ چکے ہیں۔

بی بی سی ایک نامہ نگار نے علاقے کا دورہ کرنے کے بعد کہا ہے کہ تشدد کی وجہ سے عام شہریوں نے بڑی تعداد میں نقل مکانی کر لی ہے اور دیہات ویران ہوگئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فرنٹ لائن سے اب بھی توپوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

اقوام متحدہ اب تک سینکڑوں زخمیوں کو متاثرہ علاقے سے نکال چکی ہے۔ جبکہ ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے کہا ہے کہ صورتحال انتہائی خراب ہے اور عام شہریوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے اور خوراک فراہم کرنے کے لیے مزید امدادی قافلوں کی ضرورت ہے۔

تاہم سری لنکا کے وزیر دفاع گوتابھایا راجا پاکسے نے گزشتہ روز بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان خبروں کی تردید کی تھی کہ علاقے میں بہت بڑا انسانی بحران پیدا ہو رہا ہے یا لڑائی میں عام شہری مارے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امدادی ادارے بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔

مگر اقوام متحدہ کے ترجمان گورڈن ویئس نے بی بی سی کو بتایا کہ عالمی ادارے کے عملے نے خود درجنوں لاشیں دیکھی ہیں۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ حالیہ جنگ کی وجہ سے ڈھائی لاکھ کے قریب شہری چھوٹے چھوٹے مقامات میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔

حکام مقامی صحافیوں کو ان لوگوں سے بات نہیں کرنے دے رہے ہیں جنہیں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں سے نکالا گیا ہے۔

سرکاری فوج نے تامل باغیوں کی ایک آبدوز بھی قبضے میں لینے کا دعوٰی کیا ہے
تامل باغیوں کی حامی ایک ویب سائٹ، تامِل نیٹ پر تامل ٹائیگرز کے ایک ترجمان ایس پُولیدیوان نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ باغیوں نے ریڈ کراس کے عملے کو علاقے سے نکلنے میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا کی تھی۔

حالیہ فوجی آپریشن کے دوران سرکاری فورسز نے باغیوں کے زیر اثر بڑے علاقے پر قبضہ اور باغیوں کو زبردست نقصان پہنچانے کا دعوٰی کیا ہے۔

حقوق انسانی کی تنظیموں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومین رائٹس واچ نے عام شہریوں کی حالتِ زار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور باغیوں، دونوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

حکومت نے انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے تامل باغیوں کو اپنی صفیں پھر سے آراستہ کرنے کا موقع ملے گا۔ وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد باغیوں کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کرنا ہے اور سرکاری فوجیں پسپائی اختیار کرتے باغیوں پر آخری ضرب لگانے کے قریب ہیں۔

اسی بارے میں
شمالی سری لنکا میں لڑائی
17 January, 2009 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد