BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 July, 2007, 13:44 GMT 18:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لندن بم حملے، چاروں کو عمر قید
اکیس جولائی حملوں کے چار مجرم
لندن کی ایک عدالت نے چاروں مجرموں کو قصوروار قرار دیا تھا
اکیس جولائی سنہ دو ہزار پانچ کو لندن کی ٹرینوں پر بم حملے کی سازش میں قصوروار چاروں ملزموں کو کم سے کم چالیس سال عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

بدھ کو وولِچ کراؤن کورٹ میں فیصلہ سناتے ہوئے جج کا کہنا تھا دو ہزار پانچ میں تین انڈر گراؤنڈ ٹرینوں اور ایک بس پر دھماکہ خیز مواد نصب کرنے کا ان افراد کا منصوبہ ’قتل عام کی ایک منظم کوشش تھی‘۔

پیر کو لندن کی ایک عدالت نے انتیس سالہ مختار ابراہیم، چھبیس سالہ یاسین عمر، پچیس سالہ رمزی محمد اور اٹھائیس سالہ حسین عثمان کو اکیس جولائی سنہ دو ہزار پانچ کو لندن کی ٹرینوں پر بم حملے کی سازش میں قصور وار قرار دیا تھا۔

واضح رہے کہ یہ مقدمہ چھ ماہ تک چلا جس کے بعد جیوری نے بلا اختلاف ان چار ملزمان کو قصوروار پایا۔ دو اور ملزموں کے قصوروار ہونے یا نہ ہونے پر جیوری نے ابھی فیصلہ نہیں دیا ہے۔ یہ دونوں افراد منفو کواکو اور عدیل یحییٰ دوبارہ سے قانونی کارروائی کا سامنا کریں گے۔

مختار ابراہیم اور رمزی محمد کو لندن سے گرفتار کیا گیا

جسٹس فلفورڈ کیو سی کا کہنا تھا کہ ان افراد کی جانب سے ناکام بم حملوں کی کوششوں کا تعلق واضح طور پر سات جولائی کو ہونے والے لندن بم دھماکوں سے تھا جس میں 52 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ نا کام حملے سات جولائی کے حملوں کے دو ہفتے بعد یعنی اکیس جولائی کو ہوئے تھے۔

جج کا کہنا تھا:’سات جولائی دو ہزار پانچ کو جو کچھ ہوا وہ اس فیصلے کے تناظر میں اہمیت کا حامل ہے۔ مجھے اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ دونوں حملے القاعدہ سے متاثر اور اس کے تحت کیے جانے والے حملوں کے سلسلے کا حصہ تھے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان افراد نے اس طرح منصوبے بندی کی تھی کہ زیادہ سے زیادہ نقصان ہو اور انہوں نے پوری طرح سے غور کے بعد اس منصوبے پر عمل
درآمد کیا تھا۔

جج کا کہنا تھا کہ عدالتی کارروائی کے دوران سائنسی شواہد سے اس بات کا اندازہ ہوا کہ یہ منصوبہ کامیابی سے کتنا قریب تر تھا۔’اگر نصب کرنے والے بموں کو مزید طاقت ور بنا دیتے تو اس صورت میں ہر بم کہیں زیادہ دھماکہ خیز ثابت ہوتا‘۔

فیصلہ سناتے ہوئے آخر میں جج کا کہنا تھا کہ سزا پانے والے کسی ایک بھی شخص کی چالیس سال سے قبل رہائی کے بارے میں غور نہیں کیا جاسکتا۔

سات جولائی 2005 کے بم دھماکوں میں 52 افراد ہلاک ہو گئے تھے

کراؤن پراسیکیوشن سروس (سی پی ایس) کے کاؤنٹر ٹررازم کی سربراہ سو ہیموانگ کا کہنا تھا کہ یہ افراد سات جولائی کی ’تباہ کاریوں‘ کو دیکھ چکے تھے جس کے بعد انہیں اکیس جولائی کو اپنے اس منصوبے کی کامیابی کے بارے میں کوئی شک نہیں تھا۔

سو ہیموانگ کا کہنا تھا کہ ان افراد نے باہمی اشتراک سے لندن کے ٹرانسپورٹ سسٹم پر حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ انہوں نے کئی ماہ کی منصوبہ بندی کے بعد خود بم تیار کیے۔ اگرچہ وہ اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب نہیں ہوئے تاہم ان کا مقصد واضح تھا۔’وہ بڑے پیمانے پر قتل اور ضرر پہنچانا چاہتے تھے‘۔

انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ سی پی ایس دو دیگر افراد عدیل یحیی اور منفو کواکو کے خلاف قتل کی سازش تیار کرنے کا مقدمہ چلانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

سزا پانے والے چاورں مجرم مشرقی افریقی نژاد ہیں اور یہ نوے کی دہائی میں برطانیہ آئے تھے۔ مختار ابراہیم اور رمزی محمد کو لندن سے جبکہ یاسین عمر کو برمنگھم سے گرفتار کیا گیا تھا۔ چوتھا مجرم حسین عثمان برطانیہ سے اٹلی نکل گیا تھا لیکن اسے روم سے گرفتار کر کے برطانیہ کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

 یاسین عمرمشتبہ لندن بمبار
یاسین عمر انیس سو بانوے میں لندن آیا تھا
لندن پولیس250 سکیورٹی الرٹ
لندن حملوں کے بعد سینکڑوں الرٹ
مشتبہ بمباربمباروں کی نئی ویڈیو
پولیس نے مشتبہ بمباروں کی نئی تصاویرجاری کردی
عراقعراق اور لندن دھماکے
کیا لندن دھماکوں کا تعلق عراق جنگ سے ہے؟
اخباراتاخبار کیا کہتے ہیں
لندن بم حملے اخبارات کی شہ سرخیوں میں
لندن دھماکوں کے بعد
بہت کچھ بدلا ہوا تھا لیکن تقریباً معمول پر
لندن کے ایک انڈرگراؤنڈ ٹرین سٹیشن کا منظرحملے کے بعد
لندن والے اپنی معمول کی زندگی پر واپس
اسی بارے میں
مشتبہ لندن بمبار
28 July, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد