یورپی یونین معاہدے پر متفق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی یونین کے رہنماء برسلز میں سنیچر کو تنظیم کے نئے آئین کی تشکیل سے متعلق ہونے والے مذاکرات کے دوران اپنے اختلافات دور کرکے ایک معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں۔ طے پانے والے حالیہ معاہدے کے متعلق توقع ہے کہ وہ اس سال کے آخر تک حمتی شکل اختیار کر لے گا۔ اس میں یورپی یونین کے مجوزہ آئین کی بہت سے وہ شقیں بھی شامل کی گئی ہیں جنہیں 2005 میں ہونے والے ریفرنڈم میں لوگوں نے مسترد کردیا تھا۔ 2009 کی درمیانی مدت میں اس معاہدے کے نافذ العمل ہونے سے قبل اس پر تمام رکن ممالک کے دستخط ہونے ضروری ہیں۔ برسلز میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا تھا کہ دو سال کی غیر یقینی کے بعد تنظیم کے اندر اصلاحات کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔ اس سے قبل جرمنی کی چانسلر انگیلا مرکل جو کہ یورپی یونین کی موجودہ سربراہ ہیں، نئے آئین پر برطانیہ اور پولینڈ کی مفاہمت کرانے کی کوشش میں تھیں۔ دونوں ملکوں نے نئے آئین کو ویٹو کرنے کی دھمکی دی تھی۔
سن 2005 میں کرائے جانے والے ریفرنڈم میں فرانس اور نیدرلینڈ کے ووٹروں نے یورپی یونین کے مجوزہ آئین کو مسترد کردیا تھا۔ جمعہ کو نئے آئین کے مسودے پر مزید اختلافات دیکھنے میں آئے۔ جرمنی نے تجویز دی تھی کہ آئین ’ایک داخلی منڈی‘ کے حق میں ہو ’جہاں کھلا اور غیرمسخ شدہ کمپیٹیشن رائج ہو۔‘ لیکن اراکین کی جانب سے ترمیم کے بعد اب آئین صرف ایک ’داخلی منڈی‘ کے حق میں ہوگا جبکہ اس منڈی کی نوعیت کے بارے میں الفاظ ہٹالیے گئے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ فرانس کی جانب سے لائی جانے والی اس ترمیم سے مشترکہ منڈی کے قیام کے یورپی اہداف کو نقصان پہنچا ہے۔ یورپی یونین کی بنیاد کے وقت وضع کیے جانے والے اہداف میں رکن ممالک کے درمیان ایک مشترکہ منڈی کا قیام بھی شامل ہے۔ برطانوی حکومت کے ایک ترجمان کے مطابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے یورپی منڈی کی نوعیت کو حذف کرنے والی فرانس کی ترمیم پر فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی سے وضاحت طلب کی اور ملنے والے جواب سے ’مطمئن‘ تھے۔
برطانوی ترجمان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کے موجودہ معاہدوں میں آزاد منڈی اور کمپیٹیشن سے متعلق تیرہ قوانین موجود ہیں۔ لہذا فرانسیسی ترمیم سے کمپیٹیشن کے معاملات پر یورپی یونین کے اختیارات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ یورپی یونین کے ستائیس اراکین ہیں اور جرمنی اپنی صدارت کے دوران آئین کا ایک متفقہ مسودہ تیار کرنا چاہتا ہے۔ جرمنی اور پولینڈ کے درمیان مذاکرات ہورہے ہیں لیکن ابھی ان کی بات چیت کی نوعیت دو طرفہ ہے۔ لیکن پولینڈ کا کہنا ہے کہ یونین کے معاملات میں بڑے اور چھوٹے ممالک کے درمیان ووٹنگ کے حقوق میں موجودہ تفریق کم کی جائے۔ برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے بھی کہا ہے کہ کچھ معاملات پر وہ سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ برطانیہ خارجہ پالیسی، انصاف اور داخلی امور کے معاملات پر اپنا کنٹرول یورپی یونین کے حوالے کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اسی طرح برطانیہ بنیادی حقوق سے متعلق یورپی یونین کے چارٹر آف فنڈامینٹل رائٹس کو قانونی طور لازمی نہیں بنانا چاہتا ہے۔ چیکوسلوواکیہ اور نیدرلینڈ نے بھی آئین کے مسودے پر اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ پہلے دن کے مذاکرات کے اختتام پر جرمن چانسلر انگیلا مرکل نے کہا تھا: ’کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے، اعلان کرنے کے لیے کوئی نتیجہ نہیں ہے۔‘ جمعہ کی صبح انہوں نے کہا: ’ہم اپنی پوری کوشش جاری رکھیں گے۔‘ نئے فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی نے کہا کہ انہوں نے جمعرات کو مذاکرات کے دوران ’مفاہمت تلاش کرنے کی شدید خواہش‘ دیکھی۔
تاہم مذاکرات کے دوران شدید اختلاف بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ پولینڈ کے صدر کا یہ بیان بعض حلقوں میں گردش کرتا رہا کہ ان کے ملک کی آبادی اس لیے بڑی نہیں ہے کیونکہ دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمنی نے پولِش لوگوں کا قتل عام کیا۔ پولینڈ کے اس بیان کو ڈنمارک کے وزیراعظم اینڈرز فو راسموسین نے ’افسوسناک‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کے فیصلے کو تاریخ کے افسوسناک واقعات پر منحصر کرنا بیوقوفی ہے۔ جرمنی نے آئین کا جو مسودہ تیار کیا ہے اس میں مختلف ممالک کے موقف کا خیال رکھا گیا ہے۔ یہاں تک کہ اس مسودے میں ’آئین‘ کا لفظ شامل نہیں کیاگیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یورپی یونین کے ’وزیر خارجہ‘ کا ٹائٹل استعمال میں نہیں ہوگا۔ |
اسی بارے میں یورپی آئین: اصل بات کیا ہے؟27 May, 2005 | آس پاس فرانس: ریفرنڈم کی مہم کا آخری دن27 May, 2005 | آس پاس یورپی آئین کو بچانے کی جدوجہد02 June, 2005 | آس پاس یورپی یونین: تلخ کلامیاں، اختلافات18 June, 2005 | آس پاس ’یورپ کی کامیابی آئین پر منحصر‘17 January, 2007 | آس پاس رومانیہ، بلغاریہ یورپی یونین میں01 January, 2007 | آس پاس آزادانہ تجارت، مذاکرات پھر ناکام22 June, 2007 | آس پاس یورپی یونین کے’نئے دور کا آغاز‘24 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||