یورپی یونین کے’نئے دور کا آغاز‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی یونین میں شامل ممالک کے سربراہان برلن میں یونین کی پچاسویں سالگرہ کے جشن کے موقع پر ملاقات کرنے والے ہیں۔ یورپی یونین1957 کے معاہدۂ روم کے بعد وجود میں آئی تھی۔ برلن میں سربراہان کا اجلاس اس بیان کی توثیق کرے گا جس میں یونین کی کامیابیوں اور آنے والے چیلنجز پر زور دیا گیا ہے۔ جرمن چانسلر انجیلا مرکل اس موقع پر یورپی یونین کے اس آئین پر دوبارہ بحث کرانا چاہیں گی جسے فرانسیسی اور ولندیزی ووٹرز نے سنہ دو ہزار پانچ میں رد کر دیا تھا۔ یورپی کمیشن کے صدر جوز مینیل نے روم میں اجلاس کے موقع پر کہا کہ آنے والے پچاس سالوں میں یورپی یونین کو عالمگیریت ، پیداواری قوت کو مسلسل برقرار رکھنے اور مسابقت جیسے اکیسویں صدی کے چیلنجز کا بہترین جواب ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔ اعلامیۂ برلن نامی بیان کے متن میں کہا گیا ہے’ ہم یورپ کی شہری بہتری اور یورپین پارلیمنٹ کے دو ہزار نو میں ہونے والے انتخابات سے قبل ہم نئے وضع کردہ مقاصد کے لیے متحد ہیں‘۔
برلن اعلامیہ میں یورپی یونین کی گزشتہ پچاس سال کی اہم کامیابیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے جن میں کھلی سرحدیں، مشترکہ منڈیاں ، ایک کرنسی ’یورو‘ اور یورپ کی سرد جنگ کے اختلافات کو کم کرنا شامل ہے۔ بی بی سی کے برلن میں نامہ نگار اوئنا لنگسکو کا کہنا ہے کہ بیان میں اہم اختلافی معاملات مثلاً ترکی اور دیگر ریاستوں کی یونین میں شمولیت اور یورپی یونین کے آئین کا کوئی واضح ذکر نہیں۔
لیکن ’اوپن یورپ‘ نامی ایک ادارے کے سروے میں بتایا گیا ہے کہ یورپ کے ایک تہائی شہری یورپی یونین کو زیادہ اختیارات تفویض کرنے والے کسی بھی معاہدے پر ریفرنڈم کرانا چاہیں گے۔ یونین کے تمام ستائیس ممالک میں کرائے گئے اس سروے میں شامل اکتالیس فیصد لوگ یونین کو محدود اختیارات دینے کے حق میں تھے اور ان کا کہنا تھا کہ زیادہ فیصلے قومی یا مقامی سطح پر کیے جائیں۔ برلن اعلامیہ میں کرنسی’یورو‘ کو یورپین یونین کی بڑی کامیابی قرار دیا گیا ہے لیکن یورپی شہریوں کی ایک بڑی تعداد اپنی پرانی قومی کرنسیوں کی طرف لوٹنا چاہتی ہے۔ سروے کے دوران اکثر لوگ یورو کو یونین کے تیرہ میں سے چھ ممالک تک محدود رکھنا چاہتے تھے۔ ادھر یورپی ممالک اور امریکا میں کیےگئے ایک اور سروے کے مطابق اکثر لوگوں کا ماننا ہے کہ یورپی یونین کا وجود روس اور ترکی کی شمولیت کے بعد آئندہ پچاس سالوں تک رہےگا۔ | اسی بارے میں لبنان: امن فوج کی جلد روانگی 25 August, 2006 | آس پاس ساڑھے چار لاکھ نئے یورپی تارکین وطن22 August, 2006 | آس پاس یورپ : انرجی کی نئی حکمت عملی 10 January, 2007 | آس پاس تارکین وطن سے فائدہ نہیں: رپورٹ03 January, 2007 | آس پاس کاربن کا اخراج کم کرنے کا معاہدہ09 March, 2007 | آس پاس سورج اور ہوا سے توانائی پر اتفاق 12 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||